بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خواب‌کی‌حقیقت‌اور‌اس‌کی‌تعبیر

مذہب‌سے‌باغی‌ذہن‌والے‌کا‌خواب‌اور‌اس‌کی‌تعبیر

سوال:۔

ایک بچی نے اپنا ایک طویل اور عجیب و غریب خواب ذکر کیا تھا، جس میں طبیعت کی جذباتیت کی بنا پر تشکیک، اِلحاد اور اَعمالِ صالحہ سے بے رغبتی کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک خواب بیان کیا، جس میں عالمِ برزخ میں رُوحوں کی آپس میں ملاقات، ملائکہ سے گفتگو اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی تجلیات کے نورانی پَردوں میں زیارت اور اللہ ربّ رحیم کی مہربان ذات سے شرفِ ہم کلامی کا حسین وجمیل منظر پیش کیا گیا تھا، اس پر چند حروف رقم کرتا ہوں تاکہ خواب کی دُنیا کا کچھ خاکہ بھی سامنے آجائے اور مذکورہ خواب کے کچھ تعبیری پہلوؤں کا تذکرہ بھی ہوجائے۔

جواب:۔

بیٹی! میرے پاس اتنے لمبے خط پڑھنے کی فرصت نہیں ہوتی، مگر تمہارا خط اس کے باوجود اوّل سے آخر تک پورا پڑھا۔ پہلے یہ سمجھ لو کہ خواب میں آدمی کے خیالات جو اس کے تحت الشعور اور لاشعور میں دبے ہوئے ہوتے ہیں، مختلف صورتوں میں متشکل ہوجاتے ہیں، اس لئے یہ پتا چلانا کہ خواب کے کون سے اجزاء اصل واقعہ ہیں اور کون سے ذہنی خیالات کی پیداوار؟ بڑا مشکل ہوتا ہے۔

دُوسری بات یہ ملحوظ رکھنی چاہئے کہ خواب کے جو اَجزاء آدمی کے ذہنی خیالات سے ماورا ہوں، وہ بھی تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں، ان کے ظاہری مفہوم مراد نہیں ہوتے۔

تیسری بات یہ یاد رہنی چاہئے کہ ما بعد الموت (قبر اور حشر) کے حالات اس دُنیا میں کامل و مکمل ظاہر نہیں ہوسکتے، نہ بیداری میں اور نہ خواب میں، اس لئے کہ ہماری اس زندگی کا پیمانہ ان کا متحمل ہی نہیں ہوسکتا، اس لئے خواب میں ما بعد الموت کے جو مناظر دِکھائے جاتے ہیں، وہ ایک ہلکی سی جھلک ہوتی ہے۔

ان تین باتوں کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد اب اپنے خواب پر غور کیجئے! آپ کا ذہن مذہب سے باغی اور خدا کا منکر تھا، موت کے بعد کی زندگی کا قائل نہیں تھا، اس لئے حق تعالیٰ شانہ‘ نے آپ کو خواب میں اس زندگی کے بارے میں (آپ کی قوّتِ برداشت کی رعایت رکھتے ہوئے) چند ہلکے پھلکے مناظر دِکھائے۔ نانی اماں نے جس پوسٹ آفس کی بات کی تھی، اس سے مراد دُعا و اِستغفار اور اِیصالِ ثواب ہے، جو زِندوں کی طرف سے مرحومین کو کیا جاتا ہے۔ اور اَرواح کا آپس میں خوش گپیوں میں مشغول دیکھنا، اس حقیقت کی طرف اِشارہ تھا کہ مسلمان اَرواح کی وہاں ملاقات ہوتی ہے۔ اور فرشتوں کے ساتھ آپ کی گفتگو اور آپ کو رَبّ العالمین سے ملاقات کے لئے جانا اس طرف اِشارہ تھا کہ اہلِ اِیمان کے ساتھ بہت رحمت و شفقت کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ اور نماز، روزہ اور تلاوت کے بارے میں سوالات اس بات پر تنبیہ تھی کہ وہاں یہی چیزیں کام آتی ہیں، جن کو یہاں ہم لوگ ’’شغلِ بے کاری‘‘ سمجھا کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہا جانا کہ ’’کیسی ہو تم؟‘‘ اس پر آپ کے ان الفاظ سے مجھے تو وجد آگیا کہ: ’’میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ اس آواز میں کتنی نرمی اور محبت ہوتی ہے، آہ! وہ میٹھی مہربان اور شفقت بھری آواز!‘‘ واقعی حق تعالیٰ شانہ‘ کے کلام کی شیرینی اور مٹھاس اور اس کی لذّت اور سحرآفرینی کی کیفیت سے الفاظ کا ناطقہ بند ہے۔ یہ آپ کو ذرا سی جھلک دِکھائی گئی کہ کلامِ اِلٰہی میں کیا لذّت، تأثیر ہے؟ اللہ تعالیٰ کے ان مقبول بندوں کا کیا عالم ہوگا جن کو حق تعالیٰ شانہ‘ اپنی ہم کلامی کا شرف عطا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے لطف سے، محض اپنے فضل سے اپنی ذاتِ عالی کے طفیل ہمیں بھی یہ دولتِ کبریٰ نصیب فرمائیں۔

حق تعالیٰ شانہ‘ کے دیدار کی جو کیفیت آپ نے قلم بند کی ہے، وہ محض ایک ہلکی پھلکی سی تمثیل ہے، ورنہ ساری دُنیا کی ماؤں کی ممتا بھی یکجا کرلی جائے اور پوری کائنات کا حسن و جمال بھی کسی ایک چیز میں مرتکز ہوجائے، تو وہ اس پاک ذات کی ادنیٰ مخلوق ہوگی، مخلوق کو خالق سے کیا نسبت؟ اور اس بے مثال ذاتِ عالی کی کیا مثال؟ بہرحال یہ سارے مناظر آپ کے ذہنی پیمانے کے مطابق تھے اور آپ کی ’’اِنکارِ خدا کی آگ‘‘ پر نشتر لگانا تھا کہ کیا یہ سب کچھ دیکھ کر بھی خدا کا اِنکار کروگی؟ اب میں آپ سے یہ عرض کروں گا کہ آپ کا یہ خواب مبارک ہے اور اس میں آپ کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اپنی زندگی کی لائن تبدیل کریں اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری میں مشغول ہوجائیں۔ جوان ہونے کے بعد آپ سے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں جو جو کوتاہیاں ہوئی ہیں، عبادات میں سستی ہوئی ہے، اس سے توبہ کریں اور ان تمام چیزوں کی تلافی کریں۔ ہاں! یہ بات بھی یاد رکھیں کہ خوابوں سے نہ کوئی ولی بنتا ہے اور نہ یہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس لئے خواب کو کوئی اہمیت نہ دی جائے، بلکہ بیداری کے اعمال، اخلاق، عقائد کو دُرست کرنے اور اللہ و رسول کے مطابق بنانے پر پوری توجہ اور ہمت لگانی چاہئے۔ میری معروضات کا خلاصہ یہ ہے کہ مابعد الموت کے یہ تمام مناظر جو آپ کو دِکھائے گئے ہیں ان کی حقیقت اتنی ہی نہیں جو آپ کو دِکھائی گئی، وہاں کے جتنے حالات سمجھ میں آسکتے ہیں وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماچکے ہیں، اس سے زیادہ وہاں کے حالات سمجھ میں نہیں آسکتے، جب تک کہ وہاں جاکر ان کا مشاہدہ نہ ہوجائے۔ بہرحال آپ کا فرض ہے کہ اب آپ زندگی کی لائن کو بدلیں تاکہ جب آپ یہاں سے جائیں تو آپ کا شمار ’’مؤمناتِ قانتات‘‘ میں ہو، اور اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی شیخ متبعِ سنت سے اِصلاحی تعلق قائم کرلیں، اور ان کی ہدایات کے مطابق زندگی گزاریں، وَاللہُ الْمُوَفِّقُ!