خوابکیحقیقتاوراسکیتعبیر
خوابمیںآنحضرتصلیاللہعلیہوسلمکوکمعمراورمختصرداڑھیوالادیکھنا
سوال:۔
۲۰؍جمادی الاولیٰ ۱۴۱۸ھ کو میں نے خواب دیکھا کہ جیسے میں مدینہ منوّرہ کی کسی مضافاتی بستی میں ہوں، جس میں کچھ ہرے بھرے درخت بھی ہیں، اور کچھ سبزہ بھی ہے۔ اسی دوران نماز کا وقت ہوجاتا ہے، نماز کی تیاری کے لئے جب بیت الخلا تلاش کرتا ہوں تو چند بوسیدہ سے بیت الخلا نظر آتے ہیں، جب طہارت کے لئے ان کے قریب جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہ گندگی سے بھرے ہوئے ہیں، یہ دیکھ کر اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ یہاں تو اِستنجا نہیں ہوسکتا، یہاں تو اور ناپاک ہوجاؤگے۔ تھوڑی سی تلاش کے بعد ایک اِستنجاخانہ جو صاف نظر آتا ہے، اس میں اِستنجا وغیرہ سے فارغ ہوجاتا ہوں۔ اس کے بعد وضو وغیرہ سے فارغ ہوکر جب مسجد میں پہنچتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہ مسجد تو مسجدِ نبوی ہے، جس میں اُمتِ محمدیہ کے بے شمار لوگ اس کیفیت میں ہیں کہ کوئی نماز پڑھ رہا ہے، کوئی تلاوت کر رہا ہے، اور کوئی ذِکر میں مشغول ہے، جبکہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر نماز اَدا فرما رہے ہیں، میں جنابِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک کے دائیں جانب کچھ فاصلے پر ہوں، اور آپ کو اچھی طرح سے دیکھ رہا ہوں، جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سارے مجمع میں منفرد ہیں، اور جسم مبارک کے جو حصے مجھے نظر آئے، وہ اِنتہائی روشن اور چمک دار ہیں، اس کے ساتھ ہی مجھے اس بات نے تردّد میں ڈال دیا کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حلیہ مبارک اہل اللہ اور اہلِ علم ہمیں بتاتے ہیں، یا جو کتابوں میں لکھا ہے، اس کے مطابق ایک تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بہت کم دِکھائی دی، اور دُوسرا داڑھی مبارک بھی بہت مختصر سی مجھے نظر آئی، جبکہ علماء سے سنا ہے کہ مخلوق میں سے کوئی بھی، جس میں شیطان بھی شامل ہے، جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل اِختیار نہیں کرسکتا۔ نیز علماء سے یہ بھی سنا ہے کہ خواب میں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آتے ہیں، نہ کہ کوئی اور۔ آنجناب سے دریافت طلب اُمور یہ ہیں کہ:
۱:۔ کیا یہ واقعی جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت تھی؟
۲:۔ اگر زیارت تھی تو لوگوں میں اس کا اِظہار کرنا کیسا ہے؟
۳:۔ اللہ کی اس نعمت کو شکر کے اِعتبار سے لوگوں میں ظاہر کرنا کیسا ہے؟
۴:۔ سائل نے خواب کی اِبتدا میں جو گندگی دیکھی ہے، وہ کیا تھی؟
۵:۔ یہ گندگی والی صورتِ حال سائل کو پہلے بھی کئی مرتبہ خواب میں پیش آچکی ہے، اس کی وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زیارت تھی، لیکن دیکھنے والوں کو اپنے اعمال کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نظر آتی ہے۔ اگر اس حلیہ کے مطابق نظر آئے، جو اَحادیث اور شمائل کی کتابوں میں آتا ہے، تو اللہ کا شکر اَدا کرنا چاہئے، اور اگر کوئی بات اس کے خلاف نظر آئے تو اس کو اپنی کوتاہی اور گندگی شمار کرنا چاہئے۔ اور اللہ تعالیٰ سے توبہ اور اِستغفار کرنا چاہئے۔ آپ کو جو گندگی میں بھری ہوئی جگہیں نظر آئیں، وہ اپنے نفس کی گندگیاں تھیں، معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اعمال سنت کے مطابق نہیں ہیں، کسی قسم کی لغویات میں تم مبتلا ہو، اس لئے اِخلاص کے ساتھ تمام گناہوں سے توبہ کرو، اور کثرت سے دُرود شریف پڑھو، واللہ اعلم!

