خوابکیحقیقتاوراسکیتعبیر
حضورصلیاللہعلیہوسلمکیخوابمیںزیارتکیحقیقت
سوال:۔
پچھلے دنوں میرے ایک دوست سے گفتگو کے دوران اس نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی کسی صحابیؓ یا ازواجِ مطہراتؓ کے خواب میں تشریف نہیں لائے، تو کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خواب میں تشریف لائے ہیں۔ اس بات سے ہم پریشان ہیں کہ آیا پھر ہم جو پڑھتے ہیں کہ فلاں بزرگ کے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، کہاں تک صداقت ہے؟
جواب:۔
آپ کے اس دوست کی یہ بات ہی غلط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کسی صحابی کے خواب میں تشریف نہیں لائے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے کے متعدّد واقعات موجود ہیں۔ خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت برحق ہے، صحیح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’مَنْ رَّاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَاٰنِیْ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَتَمَثَّلُ فِیْ صُوْرَتِیْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۹۴)
ترجمہ:۔ ’’جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے سچ مچ مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو لوگ خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے منکر ہیں، وہ اس حدیث شریف سے ناواقف ہیں۔ خواب میں زیارتِ شریفہ کے واقعات اس قدر بے شمار ہیں کہ اس کا انکار ممکن نہیں۔

