خوابکیحقیقتاوراسکیتعبیر
خوابکیحقیقتاوراسکیتعبیر
سوال:۔
آپ سے ایک ایسا مسئلہ دریافت کرنا ہے جو کہ میرے ذہن میں عرصے سے کھٹک رہا ہے، اور وہ یہ ہے کہ: الف:- خواب کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟ ب:-کیا یہ صحیح ہے کہ بعض خواب بشارت ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطانی وسوسہ سے پیدا ہوتے ہیں؟ ج:-نیز یہ کہ کیا خواب کی تعبیر ہم علمائے کرام سے یا کسی اور سے معلوم کرسکتے ہیں؟
جواب:۔
خواب شرعاً حجت نہیں،(۱) اچھا خواب مؤمن کے لئے بشارت کا درجہ رکھتا ہے، اس کی تعبیر کسی سمجھ دار، نیک آدمی سے معلوم کرنی چاہئے جو فنِ تعبیر کا ماہر ہو۔(۲)
- (۱) إن الرؤیا من غیر الأنبیاء لَا یحکم بھا شرعًا علٰی حالٍ إلّا أن تعرض علٰی ما فی أیدینا من الأحکام الشرعیۃ فإن سوغتھا عمل بمقتضاھا، وإلّا وجب ترکھا والْإعراض، وإنما فائدتھا البشارۃ أو النذارۃ خاصۃ وأما إستفادۃ الأحکام فلا ۔۔۔إلخ۔ (الْإعتصام للشاطبی ج:۱ ص:۲۶۰ طبع بیروت)۔
- (۲) عن أبی رزین العقیلی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: رؤیا المؤمن جزأً من أربعین جزأً من النبوۃ وھی علٰی رجل طائر ما لم یتحدث بھا فإذا تحدث بھا سقطت، قال واحسبہ قال ولَا تحدث بھا إلّا لبیبًا أو حبیبًا۔ (ترمذی ج:۲ ص:۵۲، أبواب الرؤیا، باب ان الرؤیا المؤمن جزء من ستۃ وأربعین جزئً من النبوّۃ)۔

