تصوّف
خیالاتِفاسدہاورنظرِبدکاعلاج
سوال:۔
مجھ میں ایک مرض یہ ہے کہ جب کسی کو گناہ میں مشغول دیکھتا ہوں تو اس میں دِل کو نکیر ہوتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے، اس کی اور گناہ کی حقارت بھی ہوتی ہے، لیکن جب خود سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے تو نہ خوف، نہ حقارت، نہ نفرت، نہ انکار، نہ حیا کچھ بھی نہیں ہوتا، ہاں مخلوق کا خوف ہوتا ہے کہ کسی کو پتا نہ لگ جائے، ذِلت ہوگی، اس کے باوجود گناہ سے اجتناب نہیں ہوتا۔
سوال:۔
آج کل زیبائش، عریانی عام ہے، جب کبھی ضرورت کے لئے نکلتا ہوں تو غیرمحرَم پر نظرِ بد کے جرم کا ارتکاب ہوجاتا ہے، نظرِ بد سے بچنا میرے جیسے کے لئے تو بہت ہی مشکل ہے۔
جواب:۔
گناہ اور گناہ گار سے کبیدگی تو علامتِ ایمان ہے، تاہم یہ اِحتمال کہ یہ شخص مجھ سے حالاً و مآلاً اچھا ہو، بس اس کا اِستحضار کافی ہے، اس سے زیادہ کا انسان مکلف نہیں ہے۔
جواب:۔
فوراً نظر ہٹالی جائے،(۱) خیالات کا ہجوم غیراختیاری ہو تو مضر نہیں، بلکہ ہجومِ خیالات کے باوجود بالقصد دوبارہ نہ دیکھنا مجاہدہ ہے، اور اِن شاء اللہ اس پر اَجر ملے گا، اسی کے ساتھ اِستغفار کرلیا جائے، اِن شاء اللہ غلط خیالات کے اثرات قلب سے دُھل جائیں گے۔
- (۱) عن بریدۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی: یا علی! لَا تتبع النظرۃ النظرۃ، فإنّ لک الأولٰی ولیست لک الآخرۃ۔ رواہ أحمد والترمذی وأبوداوٗد والدارمی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۶۹، باب النظر إلی المخطوبۃ وبیان العورات)۔

