تصوّف
بدامنیاورفسادات۔۔۔عذابِالٰہیکیایکشکل
سوال:۔
آج کے اس پُر مصائب دور میں جبکہ ہم مسلمانوں کے ایمان غالباً تیسرے درجے سے گزر رہے ہیں اور فرقہ واریت اور لسانی بندشوں کا شکار ہیں اس دور میں قتل و غارت، ڈکیتیاں، بدامنی، بدکاری غرضیکہ تمام سماجی بُرائیاں (سوشل لیول) جمگھٹا ڈالے ہوئے ہیں، اگر ہم اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان رکھتے ہیں، ان کے کہنے پر (قرآن و حدیث پر) عمل کرتے ہیں تو بلاشبہ بہت سے مسائل کا حل ملتا ہے، لیکن آزمائشیں بہت ہیں اور صحیح ہیں، گو کہ ہر مسلمان مؤمن نہیں ہوتا، اس لئے آزمائش پر پورا نہیں اُترتا۔ میرا مدعا یہ ہے کہ انسان جو ایک دُوسرے کا خون بہادیتا ہے چاہے وہ اپنی حفاظت میں یا دُوسرے کی دُشمنی میں، یہ کہاں تک دُرست ہے؟ مطلب یہ کہ کوئی شخص اپنے جان و مال کی حفاظت میں اگر دُوسرے مسلمان کا خون بہادیتا ہے یا اپنی زَن (عورت) چاہے ماں، بہن یا بیوی ہو، اس کی خاطر خون بہادیتا ہے، اگرچہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ وہ حق پر ہے، لیکن اللہ پر اِیمان مکمل ہونے کے بعد اللہ ہمارے جان و مال کی حفاظت کرتا ہے تو ہم کسی صورت میں ہتھیار اُٹھاسکتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائی کا خون بہاسکتے ہیں؟ کیونکہ عدل و انصاف اس معاشرے میں تقریباً ختم ہوچکا ہے۔
جواب:۔
جس بدامنی اور فساد کا آپ نے ذکر کیا ہے، یہ عذابِ الٰہی ہے، جو ہماری شامتِ اعمال کی وجہ سے ہم پر مسلط ہوا ہے۔(۱) اس کا علاج یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں، تمام ظاہری و باطنی گناہوں کو چھوڑنے کا عہد کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تمام اِجتماعی و اِنفرادی گناہوں اور بدعملیوں کی معافی مانگیں۔(۲) کسی بے گناہ مسلمان کو قتل کرنا کفر و شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، جس کی سزا قرآنِ کریم نے جہنم میں بتائی ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔(۳) ہر وہ شخص جس کے دِل میں ایمان کا کوئی ذرّہ موجود ہو، اور جو آخرت کی جزا و سزا کا قائل ہو اس کو اس سے سو بار توبہ کرنی چاہئے کہ اس کے ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے رنگین ہوں۔ جو مسلمان ان ہنگاموں میں بے گناہ مارا گیا کہ اس کا کسی کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا وہ شہید ہے،(۴) اور جو گروہ ایک دُوسرے کو قتل کرنے کے درپے تھے ان میں قاتل اور مقتول دونوں جہنم کا ایندھن ہیں۔(۵) اگر کسی مسلمان پر ناحق حملہ کیا اور اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے حملہ آور کو مار دیا تو وہ گناہ سے بَری ہے اور حملہ آور جو قتل ہوا وہ سیدھا جہنم میں گیا۔ اسی طرح اگر کسی کے بیوی بچوں پر حملہ کیا اور اس شخص کے ہاتھ سے حملہ آور مارا گیا، یہ بھی گناہ سے بَری ہے اور حملہ آور سیدھا جہنم میں پہنچا۔
- (۱) ﵟ وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ ﵞ سورة الشورى ٣٠۔
- (۲) ﵟ وَيٰقَوۡمِ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوبُوٓاْ إِلَيۡهِ يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا وَيَزِدۡكُمۡ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡاْ مُجۡرِمِينَ ﵞ سورة هود ٥٢
- (۳) ﵟ وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجزَاؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمٗا ﵞ سورة النساء ٩٣
- (۴) (ھو مکلف مسلم طاھر قُتل ظلمًا) بغیر حق (بجارحۃ) أی بما یوجب القصاص۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۲۴۸)۔
- (۵) عن أبی ھریرۃ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ! لَا تذھب الدنیا حتّی یأتی علی الناس یوم لَا یدری القاتل فیم قَتَلَ ولَا المقتول فیم قُتِلَ، فقیل: کیف یکون ذالک؟ قال: الھرج! القاتل والمقتول فی النار۔ (رواہ مسلم ج:۲ ص:۳۹۴، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، مشکٰوۃ ص:۴۶۲، کتاب الفتن، الفصل الأوّل)۔

