بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

تکبر‌کا‌علاج

سوال:۔

ایک شخص جو صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے، حج بھی کیا ہوا ہے، اور لوگوں پر احسان کرتا ہے مگر احسان کرکے جتانا اور اس پر یہ خواہش رکھنا کہ جس پر احسان کیا ہے وہ اسے پوچھتا رہے، سنی سنائی باتوں پر بغیر تحقیق کے عمل کرتا ہے، دُوسروں کی بُرائی کرتا ہے، دُوسرے کے اندر عیب نکالتا ہے، اپنے اور اپنی بیوی اور اولاد اور داماد کے سوا اس کی نظروں میں سب جھوٹے ہیں، اپنی پارسائی اور صاف دِلی کا پرچار اپنی زبان سے کرتا ہے، اپنی بیٹی اور داماد کو خود اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے، مگر اپنے بیٹے کو سسرال والوں سے نفرت دِلانے کی تلقین کرتا ہے، بیٹے سے بہو پر سختی کرنے کو کہتا ہے، اور بہو کو ایسی بات کہتا ہے جیسے وہ بہت زیادہ چاہتا ہے، الزام تراشی اس کے اندر ہے۔

جواب:۔

بعض لوگ تکبر کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں، اور اس مرض کی وہ علامات ہیں جو آپ نے لکھی ہیں۔ اگر وہ شخص دُوسروں کی بُرائی کرتا ہے، تو بُرائی کرنے میں کسر آپ نے بھی نہیں چھوڑی، آدمی کو دُوسروں کے بجائے اپنے عیوب پر نظر رکھنی چاہئے، یہ مالک کی ستاری ہے کہ اس نے سب کا پردہ ڈھانپ رکھا ہے، اپنے عیوب کو سوچنا اور اللہ تعالیٰ کی ستاری پر شکر کرنا ہی تکبر کا علاج ہے۔