تصوّف
اسلاممیںاچھیباترائجکرنےسےکیامرادہے؟
سوال:۔
’’اخبارِ جہاں‘‘ میں ایک صاحب نے ایک حدیث کا ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: جو شخص اسلام میں کوئی اچھی بات رائج کرے گا، اسے ثواب ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کے برابر مزید ثواب بھی ہوگا۔‘‘ اخبار ’’جنگ‘‘ مؤرخہ ۷؍مئی ۱۹۸۶ء میں بھی ایک مضمون کے سلسلے میں اسی حدیث کا ذکر کیا گیا ہے، اگر ایسی کوئی حدیث موجود ہے تو خیال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیامت تک ہر زمانے میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوتے رہیں گے، جن کے اپنے ذاتی خیال اور قابلیت کی رُو سے بہت ہی اچھی باتیں اسلام میں رائج کی جاسکتی ہیں۔ اس طرح تو دُنیا کے اختتام تک اچھی باتوں کے مجموعے سے بالکل ایک نیا اسلام وجود میں آسکتا ہے۔ جبکہ ہمارا ایمان ہے کہ خدا سے بہتر اچھی باتیں کون جان سکتا ہے؟ اس نے قیامت تک کے لئے جتنی بھی اچھی باتیں ہوسکتی تھیں سب اسلام میں شامل کردیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی اسلام مکمل کردیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بہتر سے بہتر عبادات کے طریقوں پر عمل کرکے ہمارے لئے نمونہ بھی مہیا کردیا۔ کیا آج کے دور کے کوئی مفکر صحابہ کرامؓ سے بہتر عبادات کا طریقہ پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ یا کچھ اچھی باتیں اسلام مکمل ہونے کے وقت رہ گئی تھیں، جو آج دریافت ہوئی ہیں، لہٰذا ان کو رائج کرنا حدیثِ مذکورہ کی رُو سے ثواب ہوگا۔
جواب:۔
یہ حدیث صحیح مسلم (ج:۱ ص:۳۲۷) میں ہے،(۱) اور آپ کو جو اس میں اِشکال ہوا وہ حدیث کا مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ صحیح مسلم میں اس حدیث کا قصہ مذکور ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ حاجت مندوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی تھی، ایک انصاری دراہم کا ایک بڑا توڑا اُٹھا لائے، ان کو دیکھ کر دُوسرے حضرات بھی پے درپے صدقہ دینے لگے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا۔ لہٰذا اس حدیث میں ’’اچھی بات‘‘ سے مراد ہے وہ نیک کام جن کی شریعت نے ترغیب دی ہے، جن کا رواج مسلمانوں میں نہیں رہا۔ برعکس اس کے ’’بُری بات‘‘ کے رواج دینے والے پر اپنا بھی وبال ہوگا، اور دُوسرے عمل کرنے والوں کا بھی۔ اور مرورِ زمانہ کی وجہ سے نیکی کے بہت سے کاموں کو لوگ بھول جاتے ہیں اور ان کا رواج یا مٹ جاتا ہے یا کم ہوجاتا ہے، اور رفتہ رفتہ بہت سی بُرائیاں اسلامی معاشرے میں در آتی ہیں، مثلاً: داڑھی رکھنا نیکی ہے، واجبِ اسلامی ہے، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اسلامی شعار ہے، اور داڑھی منڈانا گناہ ہے، بُرائی ہے، حرام ہے، لیکن مسلمانوں میں یہ بُرائی ایسی عام ہوگئی ہے کہ اس پر کسی کو ندامت بھی نہیں، اور بہت سے لوگ تو اسے گناہ بھی نہیں سمجھتے، بلکہ اس کے برعکس داڑھی رکھنے کو عیب اور عار سمجھا جاتا ہے، پس جو لوگ داڑھی کو رواج دیں گے، ان کو اپنا بھی ثواب ملے گا اور جو لوگ ان کے رواج دینے کے نتیجے میں اس نیکی کو اپنائیں گے، ان کا ثواب بھی ان کو ملے گا۔ اس کے برعکس جس شخص نے داڑھی منڈانے کا رواج ڈالا اس کو اپنے فعلِ حرام کا بھی گناہ ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ قیامت تک اس فعلِ حرام کے مرتکب ہوں گے، ان کا بھی۔ حدیث شریف میں ہے کہ دُنیا میں جتنے قتلِ ناحق ہوتے ہیں، آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کو ہر قتل کا ایک حصہ ملتا ہے، کیونکہ یہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کی بنیاد ڈالی۔(۲) الغرض! حدیث میں جس اچھی بات یا نیکی کے رواج دینے کی فضیلت ذکر کی گئی ہے، اس سے وہ چیز مراد ہے جس کو اللہ و رسول نیکی کہتے ہیں۔
- (۱) حدیث کی عبارت یہ ہے: عن المنذر بن جریر عن أبیہ قال: کنا عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ فجاء رجل من الأنصار بصرۃ کادت کفہ تعجز عنھا ۔۔۔ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سَنّ فی الْإسلام سُنَّۃ حسنۃً فلہ أجرھا وأجر من عمل بھا بعدہ ۔۔۔إلخ۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۲۷، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ ۔۔۔إلخ)۔
- (۲) عن عبداللہ بن مسعود قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تقتل نفس ظلمًا إلّا کان علی ابن آدم الأوّل کف من دمھا لأنہ کان أوّل من سنّ القتل۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ المائدۃ ج:۲ ص:۵۲۳ طبع رشیدیہ)۔

