بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

کیا‌زیادہ‌ہنسنے‌سے‌عمر‌کم‌ہوتی‌ہے؟

سوال:۔

ایک جگہ رسالے میں، میں نے چند اَقوالِ زَرّیں پڑھے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ: ’’ہنسنے سے عمر کم ہوتی ہے اور رُعب داب جاتا رہتا ہے‘‘ وضاحت طلب بات یہ ہے کہ اس کا تو مطلب یہ نکلتا ہے کہ آدمی کو ہنسنا نہیں چاہئے کیونکہ عمر کم ہوتی ہے، آخر یہ کس معنی اور مفہوم میں کہا گیا؟ جہاں تک ہنسنے سے رُعب داب جاتا رہتا ہے، تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: جو شخص زیادہ ہنستا ہے اس کی ہیبت کم ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ جو زیادہ ہنستا ہے اس کی ہیبت ووقار کم ہوجاتا ہے۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ ہنسنے سے منع کیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا ہے کہ زیادہ ہنسنے سے بچو، کہ یہ دِل مردہ ہوجاتا ہے اور چہرے کا نور ختم ہوجاتا ہے۔

جواب:۔

’’ہنسنے سے عمر کم ہوتی ہے‘‘ یہ فقرہ اس ناکارہ نے بھی شاید پہلی بار آپ کے خط میں پڑھا، یاد نہیں کہ کہیں دُوسری جگہ بھی پڑھا ہو، اس لئے جب تک ٹھیک طرح سے یہ معلوم نہ ہو کہ یہ کس کا قول ہے؟ اس کی توجیہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر ٹھیک طرح سے ثابت ہوجائے تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے اور کوئی اس کی وجہ نہیں بتاسکتا، اسی طرح ممکن ہے زیادہ ہنسنے کی خاصیت عمر کا کم ہونا ہو، اور ہم اس کی وجہ نہ بتاسکیں۔ واللہ اعلم!