تصوّف
دُنیاکیمحبتختمکرنےاورآخرتکیفکرپیداکرنےکانسخہ
سوال:۔
اس وقت ہم جن مسائل سے دوچار ہیں آپ کو علم ہی ہے، دُنیا کی حد درجہ محبت اور آخرت کی حد درجہ غفلت نے ہمارے قلوب کو اندھا کیا ہوا ہے، اور حرام، حلال کا فرق مٹتا جارہا ہے، زیادہ سے زیادہ ایسے مضامین کی اشاعت کی جائے جن سے دُنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی ترغیب، آخرت کی تیاری میں مدد مل سکے، اور حرام کی مضرتیں اور حلال کی برکتیں نہایت مفصل بیان کی جائیں، حتیٰ کہ حکومت کو مشورہ دیا جائے کہ ایسا سلیبس تعلیمی اداروں، اکیڈمیوں، ٹریننگ سینٹروں، سرکاری شعبوں میں وقتاً فوقتاً پڑھائے اور دُہرائے جائیں کیونکہ جس شخص کو جس چیز کا بخوبی علم ہوتا ہے اور وہ علم دُہرایا جاتا رہے تو کم از کم وہ اس کے قریب پھٹکنے سے دُور رہے۔
جواب:۔
آپ کا مشورہ قابلِ قدر ہے، لیکن جو اصل مشکل پیش آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے دِل و دِماغ نورِ اِیمان کے ساتھ منوّر ہونے کے بجائے انگریزیت کی ظلمت سے تاریک ہو رہے ہیں، اس لئے ہمارے معاشرے کے مؤثر افراد و طبقات نہ صرف یہ کہ صحیح و غلط اور سیاہ و سفید کی تمیز کھو بیٹھے ہیں، بلکہ صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح، سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ سمجھنے لگے ہیں۔ اگر قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی بات کہی جاتی ہے تو ہمارے ذہن اس کو ہضم نہیں کرتے، بلکہ اپنے ذوق کے مطابق کوئی نہ کوئی تأویل تراش لی جاتی ہے۔ صریح اَحکامِ اِلٰہی سے روگردانی کے لئے ایسی تأویلیں گھڑی جاتی ہیں کہ اِبلیس بھی انگشت بدنداں رہ جائے۔ اس مرض کا اصل علاج یہ ہے کہ دِلوں میں پھر سے نورِ اِیمان پیدا کیا جائے، ایسا ایمان جو حکمِ خداوندی کے سامنے کسی مصلحت کی پروا نہ کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کے مقابلے میں کسی تہذیب اور کسی رسم و رواج کی طرف نظر اُٹھاکر دیکھنا بھی گوارا نہ کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ: ’’ہم نے پہلے ایمان سیکھا تھا، اس کے بعد قرآن و سنت کو سیکھا تھا۔‘‘(۱) ہمارے پاس قرآن و سنت تو موجود ہوں، مگر افسوس کہ ہم نے ایمان سیکھنے کی مشق نہیں کی، اب تو شاید بہت سے ذہنوں سے یہ بات نکل چکی ہے کہ ایمان بھی سیکھنے کی چیز ہے۔ عوام کے لئے اس کا سہل اور آسان نسخہ یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کے کام میں وقت لگایا جائے۔
- (۱) عبدﷲ بن عمر وغیرھما تعلمنا الْإیمان ثم تعلمنا القرآن فازددنا إیمانًا، وإنکم تتعلمون القرآن ثم تتعلمون الْإیمان۔ (الفتاوی الکبریٰ ج:۴ ص:۴۲۳، مسألۃ فی قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: انزل القرآن علٰی سبعۃ أحرف، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔

