بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

حضرتِ‌شیخؒ‌سے‌وابستگی‌پر‌شکر

سوال:۔

آپ کی مبارک تصنیف فرمودہ کتاب موسوم بہ ’’حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجرِ مدنی نوّر اللہ مرقدہٗ اور ان کے خلفائے کرام‘‘ (مکمل ۳ جلد) کا مطالعہ کر رہا ہوں، حضرت شیخ اقدس قدس اللہ سرہ العزیز کے حالات بھی عجیب ہیں، اپنا تو یہ حال ہے کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق پڑھ کر اپنے آپ سے نفرت ہونے لگتی ہے کہ کیا ہم بھی انسان ہیں؟ اور ایک مایوسی چھا جاتی ہے۔

جواب:۔

ایک تأثر یہ ہے جو آپ نے لکھا ہے، اور ایک اور تأثر ہے جو بے حد اُمید افزا اور راحت بخش ہے، وہ یہ کہ اگرچہ ہم اس لائق بھی نہ تھے کہ انسانوں میں شمار ہوتے، مگر مالک کا کس قدر احسانِ عظیم اور کیسی عنایت و رحمت ہے کہ ہمیں اپنے ایسے مقبول بندوں سے وابستہ فرمادیا ہے، اور جب انہوں نے یہ عنایت بغیر کسی استحقاق کے فرمائی ہے تو ان کی رحمت و عنایت سے اُمید ہے کہ اس نسبت کی لاج رکھیں گے، اور ہمیں ان مقبولانِ اِلٰہی کی معیت نصیب فرمائیں گے، اِن شاء اللہ، ثم اِن شاء اللہ!

گرچہ از نیکاں نیم لیکن بہ نیکاں بستہ ام

در ریاض آفرینش رشتہ گلدستہ ام