تصوّف
دِینودُنیاکےحقوق
سوال:۔
بخدمت جناب محترم مولانا صاحب! سلامِ مسنون کے بعد عرض ہے کہ آج کل ہماری کلاس میں یہ مسئلہ زیرِ بحث رہا کرتا ہے کہ دِین اور دُنیا کے حقوق برابر ہیں، یعنی نہ یہ کم، نہ وہ زیادہ۔ بلکہ ہماری اسلامیات کی لیکچرار نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر پڑوس میں کوئی بیمار ہے اور اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہے اور اِدھر نماز کا بھی وقت ہے تو نماز کو چھوڑ کر پڑوسی بیمار کا حق ادا کرو، اور ڈاکٹر کے پاس مریض کو لے جاؤ، یا اگر والدین بیمار ہیں، جب بھی ان کی خدمت کے لئے نماز چھوڑی جاسکتی ہے۔ براہِ کرم بذریعہ اخبار ’’جنگ‘‘ مطلع فرمائیں کہ دِین و دُنیا برابر ہے؟ یا دِین غالب رہنا چاہئے؟ اور وہ کون سے مواقع ہیں جہاں دِین کے اَحکام چھوڑ کر دُنیا کا کام کرلینا بہتر ہے؟
جواب:۔
ایک بھی موقع ایسا نہیں جہاں دِین کے اَحکام چھوڑ کر دُنیا کا کام کرلینا بہتر ہو! اور سچی بات تو یہ ہے کہ ایک مسلمان کے منہ سے دِین اور دُنیا کو دو خانوں میں بانٹ کر ان کے درمیان موازنہ کیا جانا ہی غلط ہے۔ مسلمان تو دُنیا کے جو کام بھی کرے گا دِین کے مطالبے اور تقاضے کے مطابق ہی کرے گا۔ مثلاً: آپ کی ذکر کردہ دو مثالوں ہی کو لیجئے، دِین کا ایک تقاضا نماز پڑھنے کا ہے، اور دُوسرا تقاضا مریض کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا، ایک مسلمان اپنے دونوں دِینی مطالبوں کو جمع کرے گا، اگر نماز کے وقت میں گنجائش ہے اور مریض کی حالت نازک ہے تو وہ مریض کو ڈاکٹر کے پاس پہنچاکر نماز پڑھے گا، اور اگر نماز کا وقت مؤخر ہو رہا ہے تو پہلے اس فرض سے فارغ ہوگا۔ بہرحال دونوں دِینی تقاضے ہیں اور دونوں میں الاہم فالاہم کے اُصول کے مطابق ترتیب قائم کرنا ہوگی، ایک کو لے کر دُوسرے کو چھوڑنا جہل ہے۔ اسی طرح اگر والدین ایسے لاچار ہیں کہ ان کو چھوڑ کر مسجد نہیں جاسکتا اور کوئی دُوسرا ان کی نگہداشت کرنے والا بھی نہیں تو یہ نماز گھر پر پڑھے گا، یہ بھی دِین ہی کے تقاضے کے مطابق ہے۔ مختصر یہ کہ ایک مسلمان کبھی دِین کو چھوڑ کر دُنیا کو مقدّم کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا، اس لئے آپ کی لیکچرار صاحبہ کا فلسفہ غلط ہے، انہوں نے دِین کا صحیح مفہوم اس کی اہمیت اور اس کے تقاضوں کو ٹھیک سے سمجھا ہی نہیں۔

