بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

اپنے‌آپ‌کو‌دُوسروں‌سے‌کمتر‌سمجھنا

سوال:۔

تبلیغی جب گشت پر نکلتے ہیں تو ہدایت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس کو دعوت دینا ہے اس کو اپنے سے کمتر نہیں سمجھنا چاہئے۔ ان کی بات تو صحیح ہے، لیکن جب عصر کی نماز باجماعت ادا کرچکے ہوں اور اس شخص نے ابھی تک نماز ادا نہیں کی تو کہتے ہیں آپ صحیح نماز ادا کرچکے ہو اور بابرکت جماعت کے ساتھ ہو۔ تو بندے کے دِل میں خیال آتا ہے کہ اس نے نماز نہیں پڑھی، بالفاظِ دیگر دِل میں خیال سا آتا ہے کہ نیکی کے بعد اِنسان کو تکبر تو نہیں کرنا چاہئے، لیکن ایک سرور حاصل ہوتا ہے، مہربانی فرماکر اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔

جواب:۔

اپنے کو دُوسروں سے کمتر سمجھنا اس طریقے پر ہے کہ آدمی یہ اندیشہ رکھے کہ میں باوجود اپنے ظاہری نیک اعمال کے خدانخواستہ کسی گناہ پر پکڑا جاؤں، اور یہ شخص عنایتِ خداوندی کا مورد بن جائے، یہ مراقبہ اگر رہے تو عجب، خودپسندی اور تکبر پیدا نہیں ہوگا۔ باقی کسی نیک کام سے خوشی ہونا یہ ایک فطری بات ہے۔