تصوّف
گناہِکبیرہکیتعدادکتنیہے؟
سوال:۔
شریعت میں گناہِ کبیرہ کی تعداد کتنی ہے؟ اور مجرم دُنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کس طرح نجات پائے گا؟ کیا گناہِ کبیرہ کے عذاب سے نجات ممکن ہے؟
جواب:۔
گناہِ کبیرہ کی تعداد بعض حضرات نے نوسو یا اس سے زیادہ کہی ہے۔ اگر آدمی سچے دِل سے توبہ کرلے اور اپنے گناہوں کی تلافی کرلے، مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اس کے ذمے ہوں تو ان کو اَدا کرلے اور حق تعالیٰ شانہ‘ سے اِستغفار اور معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اُمید ہے کہ اس کو معاف کردیں گے۔(۱)
- (۱) وعن ابن عباس کما رواہ عبدالرزاق والطبرانی ھی الی السبعین أقرب منھا الی السبع وقال أکبر تلامذتہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنھما ھی الی السبعمائۃ أقرب یعنی باعتبار اصناف أنواعھا، وروی الطبرانی ھٰذہ المقالۃ عن سعید عن ابن عباس نفسہ أن رجلا قال لِابن عباس: کم الکبائر سبع ھی؟ قال: ھی الی السبعمائۃ أقرب منھا الی سبع غیر أنہ لَا کبیرۃ مع الْإستغفار أی التوبۃ بشروطھا، ولَا صغیرۃ مع الْإصرار۔ (مقدمۃ الزواجر عن اقتراف الکبائر ج:۱ ص:۹)۔

