بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

بندگی‌یہ‌ہے‌کہ‌آدمی‌اپنی‌ساری‌تجویزیں‌چھوڑ‌کر‌اپنے‌آپ‌کو‌مشیتِ‌الٰہی‌کے‌سپرد‌کردے

سوال:۔

میں نے نسیم حجازی کے تاریخی ناول پڑھ کر سابقہ مسلمان شخصیتوں کے حالات پڑھ کر دِل میں سوچا کہ میں بھی ایک مثالی انسان بنوں، مگر حالات کی ستم ظریفی کہ آج تک پریشان ہوں، اور ہر موڑ پر ناکامی ہی ناکامی ہے۔ اور پڑھنے کو جی نہیں چاہتا، سر کے بال گنجے ہو رہے ہیں، لوگ مذاق اُڑاتے ہیں، بڑی مشکل سے میڈیکل کے ایف ایس سی میں نمبر لایا ہوں۔ مگر اب بھی پڑھنے کا شوق نہیں، سب سے زیادہ بات مجھے اللہ تعالیٰ پر ایک اندھا اِعتماد ہے جس کی وجہ سے نہیں پڑھ سکتا۔ میرے اندر جاسوسی کی صلاحیت موجود ہے، ہر اِمتحان میں میں نے فرسٹ پوزیشن حاصل کی ہے، ابتدائی طور پر اور آخری میں نے غازی بننے اور صحافی اور مثالی شخصیت بننے کی تمنا کی ہے، نہ نوکری اور چھوکری کی اور نہ ہی دولت کی مگر آج تک قبول نہیں ہوئی، بڑا پریشان ہوں، خدارا اس بارے میں میری مدد فرماویں، نوازش ہوگی۔

جواب:۔

آپ کا خط بڑے غور وتحمل سے پڑھا، آپ جتنے کام کے آدمی ہیں، افسوس کہ صحیح راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے اتنا ہی اپنے آپ کو اُلجھنوں میں ڈال رکھا ہے۔ چند نکات پر غور فرمائیں:

۱:۔ آپ نے چند ناول پڑھ کر یہ فیصلہ کرلیا کہ ’’میں یہ بنوں گا‘‘ اور پھر اس کو خدا سے مانگنا شروع کردیا، اور جب وہ چیز میسر آتی نظر نہ آئی تو پریشان ہوکر گھلنے لگے، ذرا غور کیجئے! خدا تعالیٰ کے مقابلے میں مجھے اور آپ کو اپنی تجویز کا کیا حق ہے؟ بندہ کا اعلیٰ ترین مقصود تو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنی ہستی کو اس کی رضا کے لئے فنا کرنا ہے، نہ کہ خود فیصلے کرکے خدا تعالیٰ کو اپنے فیصلوں کا پابند بنانا۔

۲:۔ اگر ایک حالت آپ کو بھلی معلوم ہوئی تھی تو ضروری تو نہیں کہ وہ علمِ اِلٰہی میں آپ کے لئے واقعتا بھی اچھی ہو۔ مثلاً یہی جہاد کی اُمنگ ہے، اگر آپ سے دریافت کیا جائے کہ آپ کا مقصد جہاد سے کیا ہے؟ تو آپ یہی جواب دیں گے کہ رضائے اِلٰہی، اب جبکہ آپ رضائے اِلٰہی کو پہلے ہی سے چھوڑ کر پریشان ہو رہے ہیں تو کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ آپ جہاد سے یہ مقصد ضرور حاصل کرلیں گے؟ اور اگر یہی رضائے اِلٰہی آپ کو والدین کی خدمت، اہلِ دِین کی صحبت معیت سے حاصل ہوجائے تو آپ کو راستے کی تجویز کا کیا حق ہے؟

۳:۔ جس طرح والدین بچے کی ہر ضد اور ہٹ دھرمی پوری نہیں کرتے، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی جو بندے کے نفع نقصان کو والدین سے زیادہ جانتے ہیں،ا س کی ہر ضد پوری نہیں فرماتے، پس بندگی یہ ہے کہ آدمی اپنی ساری تجویزیں چھوڑ کر اپنے آپ کو مشیتِ اِلٰہی کے سپرد کردے، اور اس کی مثال ’’مردہ بدست زندہ‘‘ کی ہونی چاہئے، ایسا بندہ گویا رحمتِ اِلٰہی کی آغوش میں ہوتا ہے، اور عنایتِ خداوندی ہر لمحہ اس کے شاملِ حال رہتی ہے۔ ان دونون کا فرق خود محسوس کیجئے۔ ایک شخص خود ٹھوکریں کھاتا ہوا چلتا ہے: ’’نہ ہاتھ باگ پہ ہے اور نہ پا ہے رکاب میں‘‘ اور دُوسرے کو کوئی اُٹھائے ہوئے چل رہا ہے۔

آپ فی الحال میرے ان نکات پر غور کریں، اگر بات دِل کو لگے تو آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے مجھ سے زبانی بات کیجئے، اور اگر میری یہ باتیں دِل کو نہ لگیں تو خط کو پھاڑ کر پھینک دیجئے، اور جو سمجھ میں آتا ہے کئے جائیے، والسلام!