بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

سابقہ‌گناہوں‌سے‌توبہ

سوال:۔

عبداللہ ماضی میں کبیرہ گناہوں کا مرتکب رہا ہے، اب توبہ کرکے نمازی بن گیا ہے، نماز کے مسائل بھی سیکھے ہیں، تبلیغی جماعت میں وقت بھی لگایا ہے، لوگ اس کے ماضی کو نہیں جانتے، اس کو نیک سمجھتے ہیں، اگر لوگ فرض نماز کی اِمامت کے لئے اس کو کہیں تو کیا وہ اِمامت کرادیا کرے یا نہیں؟

جواب:۔

توبہ کے بعد وہ اِمامت کراسکتا ہے، کیونکہ توبہ کی صورت میں پچھلے تمام گناہ ایسے معاف ہوجاتے ہیں جیسے کئے ہی نہیں گئے تھے۔(۱)

  1. (۱) عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: التائب من الذنب کمن لَا ذنب لہ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۰۶، باب الْإستغفار والتوبۃ، الفصل الثالث)۔