بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

اپنے‌آپ‌کو‌افضل‌سمجھتے‌ہوئے‌کسی‌دُوسرے‌کی‌اِقتدا‌میں‌نماز‌اَدا‌نہ‌کرنے‌والے‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

اگر کوئی شخص اپنے آپ کو افضل سمجھتے ہوئے کسی کی اقتدا میں نماز نہ پڑھے، حتیٰ کہ اپنے والد اور غوث و قطب سے افضل ہونے کا دعویٰ کرے تو کیا ایسے شخص کی پیروی جائز ہے؟ آپ کی رہنمائی کئی لوگوں کو گمراہی سے بچائے گی۔

جواب:۔

اگر اس شخص کی دِماغی حالت صحیح نہیں، تو معذور ہے، ورنہ بلاعذر ترکِ جماعت حرام ہے، اور ایسا شخص جو ترکِ جماعت کو اپنا معمول بنالے، فاسق اور گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے، اس کو توبہ کرنی چاہئے۔(۱)

  1. (۱) تارک الجماعۃ یستوجب اسائۃ، ولَا یقبل شھادتہ إذا ترکھا إستخفافًا بذالک ومجانۃ۔ (البحر الرائق ج:۱ ص:۳۶۵ باب الْإمامۃ)۔