بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

فرائض‌کا‌تارک‌دِین‌کا‌پیشوا‌نہیں‌ہوسکتا

سوال:۔

ایک پیر صاحب محلے میں آئے، مریدوں کے جھرمٹ میں بیٹھے تھے کہ اَذان کی آواز آئی، میں نے کہا: نماز کی تیاری کریں، ہم تو مسجد میں چلے گئے مگر پیر صاحب کہنے لگے: میں نفل پڑھ لیتا ہوں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ نماز تو ہر مسلمان پر فرض ہے کیا پیر پر فرض نہیں؟

جواب:۔

یہ بات تو ان پیر صاحب سے دریافت کرنی چاہئے تھی کہ جو لوگ فرائض کے تارک ہوں، کیا وہ دِین کے پیشوا بن سکتے ہیں۔؟