تصوّف
ایکعورتپراپنےمرشدکیکسحدتکخدمتکرناضروریہے؟
سوال:۔
بیعت کرنے کے بعد ایک عورت یا لڑکی پر اپنے مرشد کی کس حد تک خدمت کرنا اور اس کے حکم پر چلنا ضروری ہے؟ کیونکہ ایک مرد تو اپنے مرشد کے پاس رات رہ سکتا ہے، جبکہ ایک عورت یا لڑکی کس طرح اس کا یہ حکم بجالاسکتی ہے؟ میرے مرشد کا خیال ہے کہ دونوں کے لئے ایک ہی حکم ہے، یعنی اگر مرشد کہے تو اس کی ہر بات کو ماننا اور حکم بجا لانا ضروری ہے۔ جبکہ میری ناقص عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی ہے، مثال یہ ہے کہ مرشد نے حکم دیا کہ تمہیں رات بارہ بجے تک رُکنا ہے اور کام کرنا ہے، جبکہ اس کو گھر جانے اور اکیلی رات بارہ بجے کے بعد گھر جانے کی وجہ سے تشویش رہتی ہے، اس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟
جواب:۔
مرشد سے اِصلاحی تعلق اللہ تعالیٰ کا راستہ معلوم کرنے کے لئے ہوتا ہے، اس کی خدمت کرنے کے لئے نہیں۔ اگر مرشد رات کو بارہ بجے تک رُکنے کا کہتا ہے تو وہ اس لائق نہیں کہ اس سے تعلق رکھا جائے، اُس سے تعلق ختم کردیں، واللہ اعلم!

