بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

دُنیادار‌پیر

سوال:۔

ہمارے محلے میں ایک پیر صاحب گاؤں سے ہر سال آتے ہیں، اور کچھ عرصہ یہاں قیام پذیر ہوتے ہیں، لوگ ان کو بہت مانتے ہیں، لیکن میرا دِل نہیں مانتا کہ میں ان کے پاس جاؤں یا مرید ہوں، وجہ یہ ہے کہ وہ مسجد میں جاکر نماز باجماعت ادا نہیں کرتے، بلکہ گھر پر ہی پڑھتے ہیں۔ رمضان المبارک میں بھی مسجد میں نہیں جاتے، نماز اکیلے ہی ادا کرتے ہیں، جبکہ مسجد سے گھر کا فاصلہ چند ہی قدم ہے۔ کیا پیر صاحب مسجد سے بلند درجہ رکھتے ہیں؟ مجھے دوستوں سے اختلاف ہے، آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ حل فرمائیں۔

جواب:۔

جو شخص بغیر عذرِ شرعی کے جماعت کا تارک ہو وہ فاسق ہے،(۱) اس سے بیعت ہونا جائز نہیں،(۲) اگر بیمار یا معذور ہے تو اس کا حکم دُوسرا ہے۔(۳)

  1. (۱) وعن عبداللہ بن مسعود قال: لقد رأیتنا وما یتخلف عن الصلاۃ إلّا منافق قد علم نفاقہ۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۱ ص:۲۰۳، باب صلاۃ الجماعۃ، فضل صلاۃ الجماعۃ)۔ ثم اعلم ان ترک الفرض أو الواجب ولو مرۃ بلا عذر کبیرۃ وکذا إرتکاب الحرام وترک السُّنَّۃ مرۃ بلا عذر تساھلًا وتکاسلًا لھا صغیر وکذا إرتکاب الکراھۃ والْإصرار علی ترک السُّنَّۃ ۔۔۔ کبیرۃ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۶۹ طبع دھلی)۔
  2. (۲) مرشد شدن ازاں کس درست است کہ دراں پنج شرط متحقق باشد، شرطِ اوّل: علم کتاب وسنت رسول داشتہ باشد، خواہ خواندہ باشد، خواہ از عالم یادداشتہ باشند، شرطِ دوم: آنکہ موصوف بعدالت وتقویٰ باشد واجتناب اَز کبائر وعدم اِصرار برصغائر نماید۔ شرطِ سوم: آنکہ بے رغبت اَز دُنیا وراغب آخرت باشد، وبرطاعاتِ مؤکدہ واذکارِ منقولہ کہ در اَحادیثِ صحیحہ آمدہ اند مداومت نماید۔ شرطِ چہارم: آنکہ امر معروف ونہی اَز منکر کردہ باشد۔ شرطِ پنجم: آنکہ اَز مشائخ ایں امر گرفتہ باشد وصحت معتد بہا ایشاں نمودہ باشد، پس ہر گاہ ایں شروط در شخصے متحقق است، چنانچہ در قول جمیل فی بیان سواء السبیل تفصیل ایں شروط مذکورہ است۔ (فتاویٰ عزیزی ج:۲ ص:۱۰۴، طبع مکتبہ دیوبند، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: امداد السلوک مع ارشاد الملوک للگنگوہیؒ ص:۶۶ تا ۷۰، طبع دار الاشاعت)۔
  3. (۳) وإذا ثبت انھا سُنَّۃ مؤکدۃ قریبۃ من الواجب فإنھا تسقط فی حال العذر مثل المطر والریح فی اللیلۃ المظلمۃ ۔۔۔إلخ۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۱ ص:۲۰۷، جواز الجماعۃ فی النافلۃ)۔ أیضًا: فلا تجب علٰی مریض ومقعد وزمن ومقطوع ید ورجل من خلاف ۔۔۔ ولَا علٰی من حال بیتہ وبینھا مطر وطین إلخ۔ وفی الشرح: (تتمۃ) مجموع الأعذار التی مرت متنا وشرحًا عشرون ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج:۱ ص:۵۵۶، کتاب الطھارات)۔