تصوّف
بیعتکامقصد
سوال:۔
ہمارے خاندان کے ایک بزرگ ہیں، جو ’’پیر‘‘ بھی ہیں، اور لوگوں کو بیعت بھی کرتے ہیں، مگر انہیں ٹیلیویژن دیکھنے کا بے حد شوق ہے، اور کثرت سے ٹیلیویژن دیکھتے ہیں، یہاں تک کہ ہم جب ان کے گھر جاتے ہیں تو وہ ٹیلیویژن دیکھ رہے ہوتے ہیں، نماز سے سلام پھیرتے ہی ٹیلیویژن دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے مرید بھی دیکھتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس کو جائز کہتے ہیں۔ ایسے شخص کے ہاتھ بیعت کرنا کیسا ہے؟ اور اس سے اپنی اِصلاح کروانا کیسا ہے؟ براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کردیں۔
جواب:۔
یہ تو معلوم نہیں کہ لوگ ان ’’بزرگ‘‘ سے کس مقصد کے لئے بیعت کرتے ہیں؟ اگر بیعت سے مقصود ٹیلیویژن دیکھنے کی تربیت حاصل کرنا ہے، یہ بزرگ اس کے لئے غالباً موزوں ترین شخصیت ہوں گے۔ اور اگر بیعت سے مقصود اپنے امراضِ نفسانی کی اِصلاح اور سلوک کی منزلیں طے کرنا ہے تو یہ مقصد ٹیلیویژن دیکھنے والوں کی بیعت سے حاصل نہیں ہوگا، اس کے لئے کسی عارفِ ربانی کی ضرورت ہوگی، جو سلوک الی اللہ کی راہ ورسم اور منزل سے واقف ہو۔

