بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

نماز،‌روزہ‌وغیرہ‌کو‌نہ‌ماننے‌والے‌پیر‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

پنجاب میں ایک پیر صاحب ہیں، ان کے مرید کافی تعداد میں ہر سائڈ پھیلے ہوئے ہیں، ان کے مرید کچھ ہمارے عزیز بھی ہیں، پیر صاحب فقیری لائن کے ہیں، نہ ان کی داڑھی ہے، اور نہ ہی وہ نماز روزے کے پابند ہیں، وہ کہتے ہیں: ’’ہماری ہر وقت کی نماز ہی نماز ہے‘‘ وہ اپنے مریدوں سے کہتے ہیں کہ: ’’ہم تمہارے نماز، روزے کے ذمہ دار ہیں، تم ادا کرو یا نہ کرو۔‘‘ اور خاص بات یہ ہے کہ وہاں جو بھی چلا جائے اس کی مراد ضرور پوری ہوتی ہے، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ یہ کہاں تک صحیح ہے؟ اور کیا ایسے پیر صاحب کی بیعت کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اور ان کے مرید کافی لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، آپ جواب اخبار میں شائع کریں، مہربانی ہوگی۔

جواب:۔

پیر و مرشد تو وہ ہوتا ہے جو خود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلتا ہو، اور اپنے متعلقین کو بھی اسی راستے پر چلنے کی دعوت دیتا ہو۔ جو شخص نماز روزے کا قائل نہ ہو، وہ مسلمان ہی نہیں، بلکہ گمراہ اور بے دِین ہے۔(۱) جو لوگ ایسے بددِین کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں، اگر وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں اپنا حشر چاہتے ہیں تو وہ اپنے ایمان کی تجدید کریں، اور اس شخص سے تعلق ختم کرلیں۔ اگر اسلامی حکومت ہوتی تو ایسے زِندیق کو سزائے اِرتداد دیتی۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اسلام کے ارکان ہیں، یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی معاف نہ ہوئے، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی طرف سے ان کی ذمہ داری اُٹھائی، کیا اس شخص کا خدائے تعالیٰ سے تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ کر ہے؟ توبہ! توبہ! یہ لوگوں کے فرائض کی ذمہ داری اپنے سر لیتا ہے؟(۲)

رہا مرادوں کا پورا ہونا تو دُنیا میں اللہ تعالیٰ کتوں اور خنزیروں کو بھی رزق دیتے ہیں، محض دُنیوی مرادیں پوری ہونا مقبولیت کی دلیل نہیں، بلکہ اس کی وہی مثال ہے کہ جس شخص کے لئے سزائے موت کا حکم ہوچکا ہو، جیل میں اس کی ہر مراد پوری کی جاتی ہے۔

  1. (۱) لَا نزاع فی تکفیر من أنکر من ضروریات الدین۔ (إکفار الملحدین ص:۱۲۰)۔ أیضًا: والمراد بالضروریات علٰی ما اشتھر فی الکتب ما علم کونہ من دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالضرورۃ بأن تواتر عنہ واستفاض وعلمتہ العامۃ کالوحدانیۃ والنبوۃ ۔۔۔ ووجوب الصلاۃ والزکاۃ وحرمۃ الخمر ونحوھا۔ (إکفار الملحدین ص:۳۷۲)۔
  2. (۲) ﵟ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ وَإِن تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ إِلَىٰ حِمۡلِهَا لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٞ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰٓ ﵞ فاطر ١٨۔