تصوّف
شریعتاورطریقتکافرق
سوال:۔
شریعت اور طریقت میں کیا فرق ہے؟
جواب:۔
اصلاحِ اعمال سے جو حصہ متعلق ہے وہ ’’شریعت‘‘ کہلاتا ہے، اور اصلاحِ قلب سے جو متعلق ہے اسے ’’طریقت‘‘ کہتے ہیں۔(۱)
- (۱) حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’شریعت‘‘ نام ہے مجموعہ اَحکامِ تکلیفیہ کا، اس میں اعمالِ ظاہری اور باطنی سب آگئے، اور متقدمین کی اِصطلاح میں لفظ ’’فقہ‘‘ کو اس کا مرادف سمجھتے تھے، جیسے اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے فقہ کی یہ تعریف منقول ہے: ’’معرفۃ النفس ما لھا وما علیھا‘‘۔ پھر متأخرین کی اِصطلاح میں شریعت کے جزو متعلق باعمالِ ظاہرہ کا نام ’’فقہ‘‘ ہوگیا، اور دُوسری جزو متعلق باعمالِ باطنہ کا نام ’’تصوف‘‘ ہوگیا، ان اعمال باطنی طریقوں کو ’’طریقت‘‘ کہتے ہیں۔ (تربیت السالک ص:۱۱، طبع دار الاشاعت)۔

