تصوّف
قید’’معروف‘‘کیحکمتیں
سوال:۔
آیت کا ترجمہ: ’’اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم) جب ایمان لانے والی عورتیں تمہارے پاس ان باتوں پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کریں گی اور کسی جائز حکم میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان کی بیعت قبول کرلو۔‘‘ لفظ ’’جائز‘‘ کا مفہوم میری سمجھ میں نہیں آتا؟ واضح فرمادیں۔ کیا نبی کا حکم ’’جائز‘‘ کے علاوہ اور کچھ ہوسکتا ہے؟
جواب:۔
’’جائز حکم‘‘ ترجمہ ہے قرآنِ کریم کے لفظ ’’معروف‘‘ کا، رہا آپ کا یہ شبہ کہ: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جائز کے علاوہ کچھ اور ہوسکتا ہے؟‘‘ دراصل آپ یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ قرآنِ کریم نے ’’معروف‘‘ کی قید کیوں لگائی؟ اس کی دو حکمتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ قید واقعی ہے یعنی آپ کا ہر حکم جائز اور معروف ہے، اس لئے ہر حکمِ نبوی کی تعمیل کی جائے، اس کی نظیر قرآنِ کریم کی دُوسری آیت ہے: ﵟ وَٱتَّبِعُوٓاْ أَحۡسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم ﵞ، ’’احسن‘‘ کی قید سے اس پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ جو کچھ حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، وہ احسن ہی احسن ہے، اس لئے بغیر کسی دغدغہ کے اس کی پیروی کرو۔ دُوسری حکمت یہ کہ بیعت کی سنت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جاری رہے گی، مگر غیرمشروط اطاعت نہیں ہوگی، اس لئے ’’فی معروف‘‘ کی قید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد والوں کے پیشِ نظر ہے، اور اس پر تنبیہ مقصود ہے کہ جب ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو معروف کے ساتھ مشروط کیا ہے تو غیرِنبی کی اطاعت غیرِمعروف میں کیسے جائز ہوسکتی ہے۔؟

