بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

مرید‌پہلے‌اپنے‌پیر‌کے‌بتائے‌ہوئے‌وظائف‌پورے‌کرے‌بعد‌میں‌دُوسرے

سوال:۔

اگر کوئی شخص کسی صاحبِ طریقت سے بیعت ہو تو پیر صاحب کے بتائے ہوئے اَذکار پہلے پڑھے یا وہ اَذکار جن کا کتبِ فضائل میں ذکر ملتا ہے، جیسے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص صبح کو سورۂ یٰسین پڑھ لے گا (شام تک کی) اس کی حاجتیں پوری ہوجائیں گی۔ وغیرہ وغیرہ۔ اگر کسی آدمی کے پاس وقت کم ہو تو وہ کون سے اذکار پڑھے؟ احادیث میں مذکورہ یا صاحبِ طریقت کے جس سے بیعت ہو؟ اس طرح اگر کوئی بیعت سے پہلے احادیث کے اَذکار کو پڑھ رہا ہو اور وہ بند کرلے تو گناہ تو نہیں؟ تہجد کی نماز چند دن پڑھتا ہوں، چند دن نہیں پڑھتا، اس کے متعلق واضح فرمادیں، نیز بغیر وضو چارپائی پر لیٹے لیٹے احادیث شریف کی کتاب پڑھ رہا ہو، گناہگار ہوگا یا بے ادب؟ کیا دُرود شریف بغیر وضو پڑھ سکتا ہے؟

جواب:۔

جن اوراد و اَذکار کو معمول بنالیا جائے، خواہ شیخ کے بتانے سے، یا از خود، ان کے چھوڑنے میں بے برکتی ہوتی ہے، اس لئے سبھی معمولات کی پابندی کرنی چاہئے، اور ایک وقت نہ کرسکے تو دُوسرے وقت پورے کرلے۔ تہجد کی نماز میں ازخود ناغہ نہ کرے۔ بغیر وضو حدیث شریف کی کتاب پڑھنا خلافِ اَوْلیٰ ہے،(۱) دُرود شریف بے وضو جائز ہے، باوضو پڑھے تو اور بھی اچھا ہے۔

  1. (۱) ومندوب فی نیف وثلاثین موضعًا ذکرتھا فی الخزائن ۔۔۔إلخ۔ وفی الشرح: قولہ ذکرتھا فی الخزائن ۔۔۔ فمنھا ولغضب وقرائۃ وحدیث وروایتہ ودراسۃ علم ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۸۹، کتاب الطھارۃ)۔