تصوّف
کسیشیخسےاِصلاحیتعلقہوناچاہئے
سوال:۔
بندہ ایک دِینی مدرسے کا طالب علم ہے، اور کچھ وقت تبلیغ میں بھی لگاچکا ہے، بندہ کو اکابر کی سوانح حیات کے مطالعے سے ایک بات مشترک معلوم ہوئی کہ ان سب نے کسی نہ کسی بزرگ جو متبعِ سنت تھے، سے اِصلاحی تعلق قائم کیا۔ بعض بزرگوں کے بیانات میں شرکت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آپ رائے ونڈ کی شوریٰ کی جماعت میں شامل ہیں، اس سلسلے میں آپ کی رہنمائی کا طالب ہوں، نیز بندہ اپنے محلہ کی مسجد میں کبھی کبھار جمعہ کا بیان بھی کرتا ہے، آیا اس میں اِختلافی مسائل بیان کئے جائیں یا نہیں؟ اور بیان کے لئے کون سی کتاب زیرِ مطالعہ رکھی جائے؟
جواب:۔
یہ بات تو بہت صحیح ہے کہ کسی شیخ سے اِصلاحی تعلق ہونا چاہئے، لیکن یہ ناکارہ اس کا اہل نہیں۔ اور یہ بات بھی غلط ہے کہ یہ ناکارہ رائے ونڈ کی شوریٰ کی جماعت میں ہے۔ اس لئے اکابر تبلیغ سے مشورہ کرلیں۔ محلہ کی مسجد میں بیان کا مضائقہ نہیں، مگر شرط یہ ہے کہ اوٹ پٹانگ باتیں نہ کی جائیں، نہ اِختلافی مسائل بیان کئے جائیں، بلکہ حضرت شیخ نوّراللہ مرقدہٗ کی کتابوں میں سے کوئی کتاب پڑھ کر سنادی جائے، والسلام۔

