تصوّف
تزکیۂنفسکسطرحہوسکتاہے؟
سوال:۔
مولانا صاحب! میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ تزکیۂ نفس کے واسطے بزرگوں سے اپنی حالت نہیں چھپانی چاہئے۔ مولانا صاحب! مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک دِینی مدرسے کی طالبہ ہوں اور الحمدللہ! ایک دِینی گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، لیکن میں اپنے تزکیۂ نفس سے ابھی تک محروم ہوں۔ کیونکہ میرے اندر جھوٹ، کبر، فخر، خودپسندی، غیبت، عیب جوئی، طعنہ زنی وغیرہ یہ کہ ہر وہ بیماری موجود ہے جو مسلمان کی شان کے خلاف ہے، عبادت میں بالکل دِل نہیں لگتا، نہ ہی کوئی حلاوت محسوس ہوتی ہے، دُنیا کی محبت انتہائی گھر کرچکی ہے، مزاج عاشقانہ ہے، جس کی وجہ سے رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی ہے۔ مولانا صاحب! آپ ضرور بہ ضرور مجھے تزکیۂ نفس کا طریقہ بتلاکر ممنون فرمائیں، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ کتب اور ان کی عبارات بجائے میرے واسطے حجت بننے کے میرے خلاف حجت نہ بن جائیں، اور یومِ قیامت مجھے فضیحت ورُسوائی سے دوچار ہونا پڑے۔ آپ مجھے طریقہ بتلائیں، میں تادَمِ حیات آپ کے واسطے دُعائے خیر کروں گی۔ مولانا صاحب! میں نہ ہی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوسکتی ہوں، کیونکہ میرے والد صاحب جماعت میں گئے ہوئے ہیں، اور کوئی محرَم نہیں، اور نہ ہی براہِ راست جواب لے سکتی ہوں، کیونکہ میرے واسطے اس میں بہت سی قباحتیں ہیں۔
جواب:۔
میری بیٹی! تمہارا خط ہزاروں خطوں میں سے ایک ہے، جس میں اپنے نفس کی طرف سے فکرمندی اور اِصلاحِ نفس کی ضرورت کا اِظہار کیا گیا ہے، اور یہ بھی دِینی تعلیم کی برکت ہے۔ اِمام سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ہم نے تو غیراللہ کے لئے علم حاصل کیا تھا (یعنی علم شروع کرنے سے پہلے تصحیحِ نیت کا خیال نہیں تھا) لیکن اس نے اِنکار کردیا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کے لئے ہونے کا نہیں۔‘‘(۱) اللہ تعالیٰ تمہیں برکتیں عطا فرمائیں، او راپنی رضا کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرماکر صالحات قانتات میں سے بنائیں۔ نفس کی اِصلاح وتزکیہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اپنے والد گرامی کے مشورے سے کسی محقق متبعِ سنت شیخ سے اِصلاحی تعلق قائم کرلیں اور اپنے حالات کی ان کو اِطلاع دیتی رہیں، اور اِصلاح کے لئے وہ جو نسخہ تجویز فرمائیں اس پر عمل کرتی رہیں۔ میری بیٹی! یہ باتیں اخباروں میں لکھنے کی نہیں ہوتیں، لیکن تم نے جوابی لفافہ بھی نہیں بھیجا، بلکہ پتا بھی نہیں لکھا، اس لئے مجبوراً اخبار کے ذریعے جواب دے رہا ہوں۔ اور میں نے تمہارا نام قصداً حذف کردیا ہے۔ اور جب تک یکسوئی کے ساتھ کسی جامع الشرائط شیخ سے تعلق قائم نہیں کرلیتیں اس وقت تک اِمام غزالیؒ کے رسالے ’’تبلیغِ دین‘‘ کا غور سے مطالعہ کریں۔
- (۱) تعلمنا العلم لغیر اللہ فأبَی العلم أن یکون إلّا ﷲ۔ (إحیاء علوم الدین للغزالی ج:۱ ص:۵۶، بیان وظائف المرشد المعلم، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔

