بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تصوّف

ذکرِ‌جہر‌جائز‌ہے،‌مگر‌آواز‌ضرورت‌سے‌زیادہ‌بلند‌نہ‌کی‌جائے

سوال:۔

ذکرِ جہر جائز ہے یا نہیں؟ جیسے تلاوتِ قرآن پاک یا کلمۂ طیبہ کا وِرد کرنا، یا کہ ’’اللہ، اللہ‘‘ کرنا، یا ’’اللہ ہو‘‘ پڑھنا زور و شور سے جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ اکثر پیر مرشد جو کہ عالم بھی ہوتے ہیں ذکر جہر سے کرتے ہیں۔

جواب:۔

ذکرِ جہر جائز ہے، بزرگوں کے بعض سلسلوں میں بطور علاج ذکرِ جہر کی تعلیم ہے، تاہم جہر خود مقصود نہیں، بلکہ آواز ضرورت سے زیادہ بلند نہ کرے۔ نیز کسی نمازی کی نماز میں اور سونے والے کی نیند میں اس سے خلل نہ آئے۔(۱)

  1. (۱) وفی حاشیۃ الحموی عن الْإمام الشعرانی أجمع العلماء سلفًا وخلفًا علٰی إستحباب ذکر الجماعۃ فی المساجد وغیرہا إلّا أن یشوش جھرھم علٰی نائم أو مصلٍی أو قاریٔ۔(رد المحتار ج:۱ ص:۶۶۰، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا)۔