تصوّف
ذکرِجہر،پاسانفاس
سوال:۔
گلگت میں کچھ عرصے سے ایک ایسا گروہ وجود میں آیا ہے جو ناک سے سانس کے ذریعے (منہ بند کرکے) ذکر کرتے ہیں اور عوام الناس کو بھی اس کی ترغیب دیتے ہیں، جس کو یہ لوگ پاس انفاس کا نام دیتے ہیں۔ براہِ کرم اس کی صداقت کے متعلق وضاحت مطلوب ہے۔
سوال:۔
گروہِ مذکور کہتا ہے کہ: ’’ذکرِ ہذا سے بیت اللہ شریف کی زیارت، مردوں کا حال جاننا اور عذابِ قبر کا مشاہدہ ذکر کے عالم میں ہوجاتا ہے۔‘‘ نیز یہ ذکر روشنی بجھاکر رات کو کیا جاتا ہے۔
جواب:۔
مشائخ کے ہاں ذکر کی مختلف ترکیبیں رائج ہیں، پس یہ لوگ اگر کسی صاحبِ سلسلہ متبعِ سنت شیخ کی ہدایت کے مطابق کرتے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ غلط ہے۔
جواب:۔
آپ نے ان لوگوں کا جو قول لکھا ہے: ’’ذکرِ ہذا سے بیت اللہ شریف کی زیارت، مردوں کا حال جاننا اور عذابِ قبر کا مشاہدہ ذکر کے عالم میں ہوجاتا ہے‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا شیخ محقق نہیں، کیونکہ یہ چیزیں نہ مقاصد میں سے ہیں، نہ ان کی خاطر ذکر کیا جاتا ہے، ذکر اللہ میں ان چیزوں کو مقصد بنانا گمراہی ہے، ذکر سے مقصود محض رضائے حق ہونی چاہئے، اس کے ماسوا سب باطل ہے، اگر بغیر سعی و محنت کے کوئی چیز حاصل ہوجائے، تو محمود ہے، مگر مقصود نہیں، اس کی طرف مطلق التفات نہیں ہونا چاہئے، کشفِ قبور یا اس طرح کی اور چیزیں محنت و ریاضت سے کافروں کو بھی حاصل ہوسکتی ہیں، اس لئے ان کو کمالِ مقصود سمجھنا جہالت و ضلالت ہے۔

