تصوّف
مرشدِکاملکیصفات
سوال:۔
ایک شخص جس کی عمر تقریباً ۲۵ سال ہے، یہ نہ تو قرآن شریف پڑھا ہوا ہے، نہ اس کو نماز آتی ہے، اور نہ ہی اس کو دِینی معلومات سے آگاہی ہے، ان کا تعلق ہمارے گھرانے سے ہے، اب گھر کے تمام افراد مجھے ان صاحب کی بیعت کرنے کو کہتے ہیں اور یہ کام مجھے میری عقل اور علم کے خلاف نظر آتا ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:۔
کسی مرشد کے ہاتھ پر بیعت ہونا اپنی اصلاح کے لئے ہوتا ہے، اور مرشدِ کامل وہ ہے جس میں مندرجہ ذیل باتیں موجود ہوں:
۱:۔ ضرورت کے موافق دِین کا علم رکھتا ہو۔
۲:۔ اس کے عقائد، اعمال اور اخلاق شریعت کے مطابق ہوں۔
۳:۔ دُنیا کی حرص نہ رکھتا ہو، کمال کا دعویٰ نہ کرتا ہو۔
۴:۔ کسی مرشدِ کامل متبعِ سنت کی خدمت میں رہا ہو، اور اس کی طرف سے بیعت لینے کی اجازت اسے حاصل ہو۔
۵:۔ اس زمانے کے عالم اور بزرگانِ دِین اس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہوں۔
۶:۔ اس سے تعلق رکھنے والے سمجھ دار اور دِین دار لوگ ہوں اور شریعت کے پابند ہوں۔
۷:۔ وہ اپنے مریدوں کی اصلاح کا خیال رکھتا ہو، اور ان سے کوئی شریعت کے خلاف کام ہوجائے تو اس پر روک ٹوک کرتا ہو۔
۸:۔ اس کے پاس بیٹھنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت میں اضافہ ہو، دُنیا کی محبت کم ہو۔
جس شخص میں یہ صفات نہ ہوں، وہ مرشد بنانے کے لائق نہیں، بلکہ وہ دِین و ایمان کا رہزن ہے، اور اس سے پرہیز کرنا واجب ہے۔(۱) مولانا رُومیؒ فرماتے ہیں:
اے بسا اِبلیس آدم روئے ہست
پس ہر بدستے نہ باید داد دست
یعنی بہت سے اِبلیس انسانوں کے بھیس میں آتے ہیں، اس لئے ہر شخص کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دینا چاہئے۔
حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں: شیخ کامل کی پہچان: شیخ کامل وہ ہے جس میں یہ علامات ہوں: ۱-بقدرِ ضرورت علمِ دِین رکھتا ہو۔ ۲-عقائد واعمال واخلاق میں شرع کا پابند ہو۔ ۳-دُنیا کی حرص نہ رکھتا ہو، کمال کا دعویٰ نہ کرتا ہو کہ یہ بھی شعبۂ دُنیا ہے۔ ۴-کسی شیخ کامل کی صحبت میں چندے رہا ہو۔ ۵-اس زمانے کے منصف علماء ومشائخ اس کو اچھا سمجھتے ہوں۔ ۶-بہ نسبت عوام کے خواص یعنی فہیم، دِین دار لوگ اس کی طرف زیادہ مائل ہوں۔ ۷-اس سے جو لوگ بیعت ہیں ان میں اکثر کی حالت باعتبار اِتباعِ شرع وقلّت حرص دُنیا کے اچھی ہو
۸-وہ شیخ تعلیم وتلقین میں اپنے مریدوں کے حال پر شفقت رکھتا ہو، اور ان کی کوئی بُری بات سنے یا دیکھے تو ان کو روک ٹوک کرتا ہو، یہ نہ ہو کہ ہر ایک کو اس کی مرضی پر چھوڑدے۔ ۹-اس کی صحبت میں چند بار بیٹھنے سے دُنیا کی محبت میں کمی اور حق تعالیٰ کی محبت میں ترقی محسوس ہوتی ہو۔ ۱۰-خود بھی وہ ذاکر وشاغل ہو۔ (تربیت السالک ص:۱۰، شیخ کامل کی پہچان، تالیف حضرت تھانویؒ)۔
- (۱) مرشد شدن ازاں کس درست است کہ دراں پنج شرط متحقق باشد، شرطِ اوّل: علم کتاب وسنت رسول داشتہ باشد، خواہ خواندہ باشد، خواہ از عالم یادداشتہ باشند، شرطِ دوم: آنکہ موصوف بعدالت وتقویٰ باشد واجتناب اَز کبائر وعدم اِصرار برصغائر نماید۔ شرطِ سوم: آنکہ بے رغبت اَز دُنیا وراغب آخرت باشد، وبرطاعاتِ مؤکدہ واذکارِ منقولہ کہ در اَحادیثِ صحیحہ آمدہ اند مداومت نماید۔ شرطِ چہارم: آنکہ امر معروف ونہی اَز منکر کردہ باشد۔ شرطِ پنجم: آنکہ اَز مشائخ ایں امر گرفتہ باشد وصحت معتد بہا ایشاں نمودہ باشد، پس ہر گاہ ایں شروط در شخصے متحقق است، چنانچہ در قول جمیل فی بیان سواء السبیل تفصیل ایں شروط مذکورہ است۔ (فتاویٰ عزیزی ج:۲ ص:۱۰۴، طبع مکتبہ دیوبند، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: امداد السلوک مع ارشاد الملوک للگنگوہیؒ ص:۶۶ تا ۷۰، طبع دار الاشاعت)۔

