تصوّف
بیعتکیشرعیحیثیت،نیزتعویذاتکرنا
سوال:۔
خاندان میں ایک خاتون ہیں، جو ایک پیر صاحب کی مرید ہیں، ان پیر صاحب کو میں نے دیکھا ہے، انتہائی شریف اور قابلِ اِعتماد آدمی ہیں۔ بہرحال اس خاتون سے کسی بات پر بحث ہوگئی، جس میں وہ فرمانے لگیں کہ پیری مریدی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے آرہی ہے اور لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی تعویذ وغیرہ لیا کرتے تھے، اس کے علاوہ جو شخص اولیاء اللہ اور پیروں فقیروں کی صحبت سے بھاگے گا، وہ انتہائی گناہگار ہے، اور جو نذر و نیاز کا نہ کھائیں اور دُرود و سلام نہ پڑھیں وہ کافروں سے بدتر ہیں۔ اور قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو بخشوالیں گے۔ یہ میں نے ان کی بیس پچّیس منٹ کی باتوں کا نچوڑ نکالا ہے، میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی بخشش کی دُعا فرما رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات سے منع فرمایا، تو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کو نہ بخشواسکے تو ان گناہگار مسلمانوں کی سفارش کیوں کریں گے؟ میں نے خاتون سے تو کہہ دیا، لیکن مجھے یاد نہیں آیا کہ یہ بات میں نے کسی حدیث میں پڑھی ہے یا کسی قرآنی آیت کا ترجمہ ہے۔ بہرحال اگر ایسا ہے تو آپ اُوپر دی ہوئی تمام باتوں کی تفصیل اگر قرآن سے دیں تو سپارہ کا نمبر اور آیت کا نام لکھ دیں، اور اگر حدیث میں ہو تو کتاب کا نام اور صفحہ نمبر مہربانی فرماکر لکھ دیں۔
جواب:۔
یہ مسائل بہت تفصیل طلب ہیں، بہتر ہوگا کہ آپ کچھ فرصت نکال کر میرے پاس تشریف لائیں، تاکہ ان مسائل کے بارے میں اسلام کا صحیح نقطۂ نظر عرض کرسکوں۔ مختصراً یہ کہ:
۱:۔ شیخِ کامل جو شریعت کا پابند، سنتِ نبوی کا پیرو اور بدعات و رُسوم سے آزاد ہے، اس سے تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔
شیخِ کامل کی چند علامات ذکر کرتا ہوں، جو اکابر نے بیان فرمائی ہیں:
ت:۔ ضروریاتِ دِین کا علم رکھتا ہو۔
ت:۔ کسی کامل کی صحبت میں رہا ہو، اور اس کے شیخ نے اس کو بیعت لینے کی اجازت دی ہو۔
ت:۔ اس کی صحبت میں بیٹھ کر آخرت کا شوق پیدا ہو، اور دُنیا کی محبت سے دِل سرد ہوجائے۔
ت:۔ اس کے مریدوں کی اکثریت شریعت کی پابند ہو، اور رُسوم و بدعات سے پرہیز کرتی ہو۔
ت:۔ وہ نفس کی اصلاح کرسکتا ہو، رذیل اخلاق کے چھوڑنے اور اخلاقِ حسنہ کی تلقین کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ت:۔ وہ مریدوں کی غیرشرعی حرکتوں پر روک ٹوک کرتا ہو۔
۲:۔ مشائخ سے جو بیعت کرتے ہیں، یہ ’’بیعتِ توبہ‘‘ کہلاتی ہے اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔(۱)
۳:۔ تعویذات جائز ہیں، مگر ان کی حیثیت صرف علاج کی ہے۔(۲) صرف تعویذات کے لئے پیری مریدی کرنا دُکان داری ہے، ایسے پیر سے لوگوں کو دِین کا نفع نہیں پہنچتا۔
۴:۔ اولیاء اللہ سے نفرت غلط ہے، پیر فقیر اگر شریعت کے پابند ہوں تو ان کی خدمت میں حاضری اکسیر ہے، ورنہ زہرِ قاتل۔
۵:۔ نذر و نیاز کا کھانا غریبوں کو کھانا چاہئے، مال دار لوگوں کو نہیں، اور نذر صرف اللہ تعالیٰ کی جائز ہے، غیراللہ کی جائز نہیں، بلکہ شرک ہے۔(۳)
۶:۔ دُرود و سلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر میں ایک بار پڑھنا فرض ہے، جس مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ نامی آئے اس میں ایک بار دُرود شریف پڑھنا واجب ہے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آئے دُرود شریف پڑھنا مستحب ہے۔(۴) دُرود شریف کا کثرت سے وِرد کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے، اور دُرود و سلام کی لاؤڈاسپیکروں پر اَذان دینا بدعت ہے،(۵) جو لوگ دُرود و سلام نہیں پڑھتے ان کو ثواب سے محروم کہنا دُرست ہے، مگر کافروں سے بدتر کہنا سراسر جہالت ہے۔
۷:۔ آپ کا یہ فقرہ کہ: ’’جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کو نہ بخشواسکے تو گناہگار مسلمانوں کی سفارش کیوں کریں گے‘‘ نہایت گستاخی کے الفاظ ہیں، ان سے توبہ کیجئے۔
۸:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین شریفین کے بارے میں زبان بند رکھنا ضروری ہے۔(۶)
۹:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قیامت کے دن گناہگار مسلمانوں کے لئے برحق ہے، اور اس کا انکار گمراہی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’شَفَاعَتِیْ لِاَہْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِیْ۔‘‘(رواہ الترمذی وابوداوٗد عن أنس، ورواہ ابن ماجۃ عن جابر، مشکوٰۃ ص:۴۹۴)
ترجمہ:۔ ’’میری شفاعت میری اُمت کے اہلِ کبائر کے لئے ہے۔‘‘
- (۱) مرشد شدن ازاں کس درست است کہ دراں پنج شرط متحقق باشد، شرطِ اوّل: علم کتاب وسنت رسول داشتہ باشد، خواہ خواندہ باشد، خواہ از عالم یادداشتہ باشند، شرطِ دوم: آنکہ موصوف بعدالت وتقویٰ باشد واجتناب اَز کبائر وعدم اِصرار برصغائر نماید۔ شرطِ سوم: آنکہ بے رغبت اَز دُنیا وراغب آخرت باشد، وبرطاعاتِ مؤکدہ واذکارِ منقولہ کہ در اَحادیثِ صحیحہ آمدہ اند مداومت نماید۔ شرطِ چہارم: آنکہ امر معروف ونہی اَز منکر کردہ باشد۔ شرطِ پنجم: آنکہ اَز مشائخ ایں امر گرفتہ باشد وصحت معتد بہا ایشاں نمودہ باشد، پس ہر گاہ ایں شروط در شخصے متحقق است، چنانچہ در قول جمیل فی بیان سواء السبیل تفصیل ایں شروط مذکورہ است۔ (فتاویٰ عزیزی ج:۲ ص:۱۰۴، طبع مکتبہ دیوبند، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: امداد السلوک مع ارشاد الملوک للگنگوہیؒ ص:۶۶ تا ۷۰، طبع دار الاشاعت)۔
- (۲) وإنما تکرہ العوذۃ إذا کانت بغیر لسان العرب، ولَا یدری ما ھو لعلہ یدخلہ سحر أو کفر أو غیر ذالک، وأما ما کان من القرآن أو شیء من الدعوات فلا بأس بہ ۔۔۔ وعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ کان یعوذ نفسہ، قال رضی اللہ عنہ وعلی الجواز عمل الناس الیوم وبہ وردت الآثار۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۳۶۳، کتاب الأضحیۃ)۔
- (۳) والنذر للمخلوق لَا یجوز لأنہ عبادۃ والعبادۃ لَا تکون لمخلوق۔ (ردالمحتار مع الدر المختار ج:۲ ص: ۴۳۹)۔
- (۴) وقد جزم بھٰذا القول أیضًا المحقق ابن الھمام فی زاد الفقیر، فقال مقتضی الدلیل افتراضھا فی العمر مرۃ، وإیجابھا کلما ذکر، إلّا أن یتحد المجلس فیستحب التکرار بالتکرار ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۵۱۷، مطلب ھل نفع ۔۔۔إلخ)۔
- (۵) من أحدث فی أمرنا ھٰذا ما لیس منہ فھو ردٌّ۔ (بخاری شریف ج:۱ ص:۳۷۱، مسلم ج:۲ ص:۷۷)۔ وھی (أی البدعۃ) إعتقاد خلاف المعروف عن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم لَا بمعاندۃ بل بنوع شبھۃ۔ (درمختار ج:۱ ص:۵۶۰)۔
- (۶) وبالجملۃ کما قال بعض المحققین: إنہ لَا ینبغی ذکر ھٰذہ المسئلۃ إلّا مع مزید الأدب، ولیست من المسائل التی یضر جھلھا أو یسأل عنھا فی القبر أو فی الموقف، فحفظ اللسان عن التکلم فیھا إلّا بخیر أولٰی وأسلم۔ (ردالمحتار ج:۳ ص:۱۸۵، باب نکاح الکافر)۔

