تصوّف
پیرکیپہچان
سوال:۔
کیا اہلِ سنت والجماعت حنفی مذہب میں ایسے پیروں بزرگوں کو مانا جائے جس کے سر پر نہ دستارِ نبوی ہو، نہ سنت یعنی داڑھی مبارک؟
جواب:۔
پیر اور مرشد تو وہی ہوسکتا ہے جو سنتِ نبوی کی پیروی کرنے والا ہو، جو شخص فرائض و واجبات اور سنتِ نبوی کا تارک ہو، وہ پیر نہیں بلکہ دِین کا ڈاکو ہے۔(۱)
۸-وہ شیخ تعلیم وتلقین میں اپنے مریدوں کے حال پر شفقت رکھتا ہو، اور ان کی کوئی بُری بات سنے یا دیکھے تو ان کو روک ٹوک کرتا ہو، یہ نہ ہو کہ ہر ایک کو اس کی مرضی پر چھوڑدے۔ ۹-اس کی صحبت میں چند بار بیٹھنے سے دُنیا کی محبت میں کمی اور حق تعالیٰ کی محبت میں ترقی محسوس ہوتی ہو۔ ۱۰-خود بھی وہ ذاکر وشاغل ہو۔ (تربیت السالک ص:۱۰، شیخ کامل کی پہچان، تالیف حضرت تھانویؒ)۔
- (۱) حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں: شیخ کامل کی پہچان: شیخ کامل وہ ہے جس میں یہ علامات ہوں: ۱-بقدرِ ضرورت علمِ دِین رکھتا ہو۔ ۲-عقائد واعمال واخلاق میں شرع کا پابند ہو۔ ۳-دُنیا کی حرص نہ رکھتا ہو، کمال کا دعویٰ نہ کرتا ہو کہ یہ بھی شعبۂ دُنیا ہے۔ ۴-کسی شیخ کامل کی صحبت میں چندے رہا ہو۔ ۵-اس زمانے کے منصف علماء ومشائخ اس کو اچھا سمجھتے ہوں۔ ۶-بہ نسبت عوام کے خواص یعنی فہیم، دِین دار لوگ اس کی طرف زیادہ مائل ہوں۔ ۷-اس سے جو لوگ بیعت ہیں ان میں اکثر کی حالت باعتبار اِتباعِ شرع وقلّت حرص دُنیا کے اچھی ہو

