تصوّف
بیعتکیتعریفاوراہمیت
سوال:۔
بیعت کے کیا معنی ہیں؟ کیا کسی پیرِ کامل کی بیعت کرنا لازمی ہے؟
جواب:۔
بیعت کا مطلب ہے کہ کسی مرشدِ کامل متبع سنت کے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے توبہ کرنا اور آئندہ اس کی رہ نمائی میں دِین پر چلنے کا عہد کرنا۔ یہ صحیح ہے اور صحابہ کرامؓ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنا ثابت ہے۔(۱) جب تک کسی اللہ والے سے رابطہ نہ ہو، نفس کی اصلاح نہیں ہوتی، اور دِین پر چلنا مشکل ہوتا ہے، اس لئے کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق تو ضروری ہے،(۲) البتہ رسمی بیعت ضروری نہیں۔
- (۱) عن عوف بن مالک الأشجعی قال: کنا عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ألَا تبایعون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ فرددھا ثلاث مرات، فقدمنا أیدینا فبایعناہ، فقلنا: یا رسول اللہ! قد بایعناک فعلٰی م؟ قال: علٰی أن تعبد اللہ ولَا تشرکوا بہ شیئًا والصلوات الخمس واسر کلمۃ خفیفۃ أن لَا تسألوا الناس شیئًا ۔۔۔إلخ۔ (سنن النسائی ج:۱ ص:۵۴)۔
- (۲) تزکیۃ الأخلاق من أھم الأمور عند القوم ۔۔۔ ولَا یتیسر ذالک إلّا بالمجاھدۃ علٰی ید شیخ أکمل، قد جاھد نفسہ، وخالف ھواہ، وتخلی عن الأخلاق الذمیمۃ، وتحلی بالأخلاق الحمیدۃ، ومن ظن من نفسہ أنہ یظفر بذالک بمجرد العلم ودرس الکتب فقد ضل ضلالًا بعیدًا، فکما ان العلم بالتعلم من العلماء کذالک الخُلق بالتخلق علٰی ید العرفاء، فالخلق الحسن صفۃ سیّد المرسلین ۔۔۔إلخ۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۸ ص:۴۴۲ کتاب الأدب، طبع إدارۃ القرآن)۔

