بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تبلیغِ‌دِین

تبلیغی‌جماعت‌پر‌اعتراضات‌کی‌حقیقت

سوال:۔

اُمید ہے کہ آنجناب بعافیت ہوں گے، اور شب و روز دِین کی عالی محنت میں ساعی و کوشاں ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس پر تاحیات ثابت قدم رہنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔ (آمین)

یہ بات بلامبالغہ کہتا ہوں کہ آپ کی تصنیف و تحریر سے بندہ کے دِل میں آنجناب کا جتنا اِحترام سمایا ہوا ہے شاید اتنا قدر و اِحترام اپنے والد کا بھی میرے دِل میں نہیں ہوگا۔ میرا تعلق چونکہ تبلیغی جماعت کے ساتھ ہے اور تبلیغی جماعت کے بارے میں آپ کی آراء کئی دفعہ نظروں سے گزری ہے، جس میں آپ نے تبلیغی جماعت کی تائید بہت عقیدت مندی اور زبردست ولولے کے ساتھ کی تھی۔ چونکہ یہ کام ہمارا ایک مقصدی فریضہ ہے اگرچہ ہمیں اس کام کو شرحِ صدر کے ساتھ کرنا چاہئے محض تقلیدی طریقہ پر نہیں، لیکن پھر بھی علماء حضرات کی تائید اس پُرفتن دور میں بہت ضروری ہے اور بار بار ضروری ہے۔

اس سلسلے میں آپ سے اِستدعا یہ ہے کہ آج کل ایک جماعت پھرتی ہے، جن کی اچھی خاصی داڑھی بھی ہوتی ہے، یہ جماعت مختلف شہروں میں آکر لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ نماز و روزہ اور اس قسم کے اچھے اعمال کی آواز لگاتے ہیں، مثلاً: جھوٹ نہ بولو، چوری نہ کرو، وغیرہ وغیرہ، اور ساتھ ہی رسالے بھی تقسیم کرتے ہیں، جس کا نام ’’ضربِ حق‘‘ رکھا ہے اور مصنف کا نام عتیق الرحمن گیلانی لکھا ہے۔ اس دفعہ یہ جماعت ہمارے شہر ضلع پشین کوئٹہ میں آئی تھی، اور ساتھ ہی بہت سے رسالے بھی لائے تھے، جلدی جلدی کچھ آوازیں لگاکر رسالے تقسیم کرکے فوراً شہر سے نکل گئے۔

ان رسالوں میں عجیب قسم کی خرافات اور بکواس لکھی ہوئی تھی، رسالے کے اکثر صفحوں پر بڑی بڑی سرخیاں قائم کرکے تبلیغی جماعت پر اِلزام لگائے تھے، ایک صفحے پر جس کی نقل آپ کے پاس بھیج رہا ہوں آپ کی کتاب ’’عصرِ حاضر‘‘ کا سہارا لے کر لکھا تھا کہ مفتی محمد یوسف لدھیانوی نے اس جماعت کو عالمگیر فتنہ قرار دیا ہے، اب تبلیغی جماعت کے اپنے اکابرین نے اس جماعت کو فتنہ قرار دینا شروع کردیا۔

گزارش یہ ہے کہ آپ کے بارے میں میرا سینہ بالکل صاف ہے، لیکن اُمت کے سادہ لوح انسانوں کا اس فتنے میں پھنسنے کا شدید خطرہ ہے، اس لئے اخبار کے ذریعے اس جماعت کا دجل آشکارا کریں، اور ایک بار پھر تبلیغی جماعت کو اپنے زرّیں خیالات سے نوازنے کی زحمت فرماکر باطل فرقوں کی حوصلہ شکنی کریں، تاکہ ہمارے علاقے کے بلکہ پورے پاکستان کے سادہ لوح باشندے اس فتنے سے بچ جائیں۔ جواب جلد از جلد پوری تفصیل کے ساتھ مطلوب ہے۔

جواب:۔

مکرم و محترم! زید مجدہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!

آپ نے عتیق الرحمن گیلانی نام کے کسی شخص کا ذِکر کیا ہے کہ اس نے تبلیغی جماعت کے خلاف پمفلٹ لکھے ہیں، اور ان میں کہا گیا ہے کہ اکابرین نے اس جماعت کو فتنہ قرار دیا ہے، اور یہ کہ اس کے معتقدین تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کے لئے مستقل مہم چلا رہے ہیں، اور بہت سے سادہ لوح لوگ ان سے متأثر ہو رہے ہیں، اس سلسلے میں چند اُمور لکھتا ہوں، بہت غور سے ان کو پڑھیں:

۱:۔ تبلیغ والوں کا جس مسجد میں گشت یا بیان ہوتا ہے، اس سے پہلے ان الفاظ میں اس کا اعلان کیا جاتا ہے:

’’حضرات! ہماری اور سارے انسانوں کی کامیابی اللہ تعالیٰ کے حکموں کو پورا کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں پر چلنے میں ہے، اس کے لئے ایک محنت کی ضرورت ہے، اس محنت کے سلسلے میں نماز کے بعد بات ہوگی، آپ سب حضرات تشریف رکھیں، اِن شاء اللہ بڑا نفع ہوگا۔‘‘

یہ ہے دعوت و تبلیغ کی وہ ’’محنت‘‘ جو تبلیغی جماعت کا موضوع ہے، اور جس کا اِعلان ہر مسجد میں ہوتا ہے۔

۲:۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا یہ وہ پاک مقصد ہے جس کے لئے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، اور ان حضرات نے بغیر کسی اَجر کے محض رضائے اِلٰہی کے لئے دعوت اِلی اللہ کا فریضہ انجام دیا، اس راستے میں ان کے سامنے مصائب و مشکلات کے پہاڑ آئے، انہیں اِیذائیں دی گئیں، ان کی تحقیر کی گئی، انہیں ستایا گیا، ان کو گالیاں دی گئیں، انہیں دھمکایا اور ڈرایا گیا، لیکن ان کے پائے اِستقامت میں لغزش نہیں آئی، بلکہ تمام تر مصائب و مشکلات کو ان حضرات نے محض رضائے اِلٰہی کے لئے برداشت کیا، اور اس کے لئے جان و مال اور عزّت و آبرو کی کسی قربانی سے دریغ نہیں فرمایا۔ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کے جو حالات قرآنِ کریم اور اَحادیثِ شریفہ میں بیان فرمائے گئے ہیں، ان میں جہاں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حضرات اِیمان و یقین، صبر واِستقامت اور بلندہمتی کے کتنے بلند مقام پر فائز تھے، وہاں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ دعوت اِلی اللہ کا مقصد کس قدر عظیم الشان اور عالی مقصد ہے کہ اس مقصد کے لئے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام نے فوق العادت قربانیاں پیش کیں۔

۳:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلۂ نبوّت ختم کردیا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوّت و رسالت کے منصبِ رفیع پر فائز نہیں کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے طفیل میں دعوت اِلی اللہ کا یہ کام، جس کے لئے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کو کھڑا کیا گیا تھا، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے سپرد کردیا گیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے:

ﵟ وَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ﵞآل عمران:١٠٤

ترجمہ:۔ ’’اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

نیز اِرشاد ہے:

ﵟ كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ ﵞآل عمران:١١٠

ترجمہ:۔ ’’تم لوگ اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت لوگوں کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم لوگ نیک کاموں کو بتلاتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر اِیمان لاتے ہو۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ان آیاتِ شریفہ میں دعوت اِلی اللہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام اُمتِ محمدیہ (عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلَوٰتُ وَالتَّسْلِیْمَاتُ) کے سپرد کرکے اسے ’’خیرِ اُمت‘‘ کا لقب دیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اُمت کا ’’خیرِ اُمت‘‘ ہونا اسی مبارک کام کی وجہ سے ہے۔

۴:۔ ان آیاتِ شریفہ میں دعوت اِلی اللہ کا جو فریضہ اُمت کے سپرد کیا گیا ہے، الحمدﷲ! کہ یہ اُمت اس فریضے سے کبھی غافل نہیں ہوئی، بلکہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر آج تک اکابرِ اُمت اس مقدس خدمت کو بجالاتے رہے ہیں، اور دعوت اِلی اللہ کے خاص خاص شعبوں کے لئے افراد اور جماعتیں میدان میں آتی رہی ہیں۔ کبھی قتال و جہاد کے ذریعے، کبھی وعظ و اِرشاد کی شکل میں، کبھی درس و تدریس کی صورت میں، کبھی تصنیف و تالیف کے ذریعے، کبھی مدارس اور خانقاہوں کے قیام کے طریقے سے، کبھی اِصلاح و اِرشاد کے راستے سے، کبھی قضا و اِفتاء کے ذریعے سے، کبھی باطل اور گمراہ فرقوں کے ساتھ مناظرہ و مباحثہ کے ذریعے، کبھی اِنفرادی طور پر، کبھی اِجتماعی طور پر تعلیم و تبلیغ کے ذریعے، یہ سب کی سب دعوت اِلی اللہ ہی کی مختلف شکلیں اور اس کے مختلف شعبے ہیں۔ الحمدﷲ! دعوت اِلی اللہ کا کوئی میدان ایسا نہیں جس کو اُمت نے خالی چھوڑ دیا ہو، اور کوئی شعبہ ایسا نہیں، جس میں کام کرنے والی ایک معتد بہ جماعت موجود نہ ہو، فَالْحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ!

۵:۔ تبلیغی جماعت جس طرز پر دعوت اِلی اللہ کا کام کر رہی ہے، یہ سنتِ نبوی اور طریقۂ سلف صالحینؒ کے عین مطابق ہے۔

حضرت اقدس مولانا شاہ محمد اِلیاس کاندہلوی ثم دہلویؒ، حضرت قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے خادم، حضرت اقدس مولانا خلیل احمد سہارنپوری مہاجر مدنیؒ کے خلیفہ اور اپنے دور کے تمام اکابرِ اُمت کے معتمد اور منظورِ نظر تھے۔ ان کی زندگی کا ایک ایک عمل سنتِ نبوی کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا، وہ اِیمان و اِخلاص، زُہد و توکل، اِیثار و ہمدردی، صبر و اِستقامت، بلندنظری و بلندہمتی اور اَخلاق واوصاف میں فائق الاقران تھے، حق تعالیٰ شانہ‘ نے ان سے دِین کی دعوت و تبلیغ کا تجدیدی کام لیا، اور اللہ تعالیٰ نے مادّیت کے جدید طوفان کے مقابلے میں ان پر ’’عمومی دعوت‘‘ کا طریقہ منکشف فرمایا، اور انہوں نے ایک عام سے عام آدمی کو بھی دِین کی دعوت کے کام میں لگایا، حضرت مولانا محمد اِلیاسؒ کے وقت سے آج تک ’’تبلیغی جماعت‘‘ اسی نہج اور اسی نقشے پر دعوت اِلی اللہ کا کام کر رہی ہے، اور الحمدﷲ! ثم الحمدﷲ! اس کے ذریعے کروڑوں افراد کو حق تعالیٰ نے فسق و فجور کی تاریکیوں سے نکال کر شریعتِ مطہرہ کی پابندی اور سنتِ نبوی کے مطابق زندگی ڈھالنے کا جذبہ عطا فرمادیا ہے۔

۶:۔ تبلیغی جماعت کے اس مبارک کام پر لوگوں کی طرف سے ناواقفی کی وجہ سے نکتہ چینیاں بھی ہوئیں، اس کے کام میں رُکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش بھی کی گئی، اور ان کو بدنام کرنے کے لئے افسانے بھی گھڑے گئے، لیکن یہ اللہ کا کام ہے، الحمدﷲ! کہ ان تمام رُکاوٹوں کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں سے اپنے دِین کی دعوت کا کام لے رہا ہے، اور حق تعالیٰ شانہ‘ کی رحمت و عنایت سے قوی اُمید ہے کہ وہ اپنے بندوں کو اس کام کے لئے کھڑا کرتے رہیں گے۔

۷:۔ اس ناکارہ کو ایک عرصہ تک تبلیغی اسفار میں شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ہے، اور اَکابرِ تبلیغ کی نجی سے نجی محفلوں میں بیٹھنے اور ان کے حالات کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے، حق تعالیٰ شانہ‘ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس ناکارہ کو اس سلسلے میں جس قدر قریب سے قریب ہونے کا موقع ملا ہے، اسی قدر اس کام کی افادیت اور اس کام میں لگنے والے حضرات کی حقانیت اس ناکارہ پر کھلتی گئی ہے، اس لئے یہ ناکارہ کامل اِنشراح اور پوری بصیرت کے ساتھ یہ اِظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا کام نہایت مبارک ہے، اُمتِ محمدیہ (عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلَوٰتُ وَالتَّسْلِیْمَاتُ) کی نشاَۃِ ثانیہ کا ذریعہ ہے، اور تمام مسلمان بھائیوں کا اس بابرکت کام میں لگنا دُنیا وآخرت کی سعادتوں کا ذریعہ ہے، حق تعالیٰ شانہ‘ ہمیں اپنی رضا و محبت نصیب فرمائیں اور دُنیا و آخرت میں اپنے مقبول بندوں کی رِفاقت ومعیت نصیب فرمائیں۔