بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تبلیغِ‌دِین

تبلیغی‌جماعت‌کا‌فیضان،‌ایک‌سوال‌کا‌جواب

سوال:۔

آپ کی خدمتِ اقدس میں ایک پرچہ بنام ’’تبلیغی جماعت، احادیث کی روشنی میں‘‘ جو طیبہ مسجد کے مولانا نے کسی شخص ریاض احمد کے نام سے بٹوایا ہے، پیشِ خدمت ہے، اس میں من جملہ اور باتوں کے تیسری حدیث میں تحریر کیا ہے: ’’انہیں جہاں پانا قتل کردینا کہ قیامت کے دن ان کے قاتل کے لئے بڑا اَجر و ثواب ہے۔‘‘ (بخاری جلد:۲ ص:۱۰۲۴) ایک بات عرضِ خدمت ہے کہ واقعی بعض حضرات اس جماعت کے بہت جلد مشتعل ہوجاتے ہیں اور بجائے کسی اعتراض اور سوال کے جواب دینے کے یا قائل کرنے کے ہاتھا پائی اور حد یہ ہے کہ گالی گلوچ پر بھی اُتر آتے ہیں۔ دُوسرے یہ کہ لوگ کافی حد تک صرف کتاب پڑھنا اَوّلین فرض سمجھتے ہیں، مگر عملی زندگی میں اِکرامِ مسلم وغیرہ سے تعلق نہیں، یہ سنی سنائی بات نہیں بلکہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ لوگ برسہا برس لگالیں گے مگر چھ نکات سے آگے نہیں نکلتے، اور صرف تبلیغی نصاب ہی پڑھتے ہیں، قرآنِ پاک سے استفادہ نہیں کرتے، جبکہ مسلمان کے لئے قرآنِ کریم ہی سب کچھ ہے، جس کی تشریحات احادیثِ نبوی سے ملتی ہیں، ان سے جب قرآن پاک کا ذکر کرو تو کہتے ہیں کہ: ’’صحابہ کرامؓ نے پہلے ایمان سیکھا، پھر قرآن‘‘ اور یہ لوگ برسہا برس لگانے کے بعد بھی ایمان ہی سکھاتے رہتے ہیں، قرآن پر کبھی نہیں آتے، بلکہ کئی لوگ اس پر مشتعل ہوگئے اور لڑنے لگے۔ گو میں تبلیغی جماعت سے تقریباً دس سال سے منسلک ہوں، مگر کچھ عرصے سے میرا دِل اس جماعت سے ہٹ سا گیا ہے، خصوصاً اب اس پرچے کی روشنی میں بالکل دوراہے پر کھڑا ہوں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں، اس پر تفصیلی روشنی ڈالیں تاکہ میں فیصلہ کرسکوں کہ کونسا راستہ ٹھیک ہے اور یہ احادیث کن لوگوں کے لئے ہیں؟

جواب:۔

تبلیغی جماعت کے بارے میں جناب ریاض احمد صاحب کا جو اِشتہار آپ نے بھیجا ہے، اس قسم کی چیزیں تو میری نظر سے پہلے بھی گزرتی رہی ہیں، ان کا تو براہِ راست تبلیغی جماعت پر نہیں بلکہ علمائے دیوبند پر اعتراض ہے، جس کو وہ ’’دیوبندی فتنہ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں، نعوذ باللہ! حالانکہ حضراتِ علمائے دیوبند سے اللہ تعالیٰ نے دِینی خدمات کا جو کام گزشتہ صدی میں لیا ہے وہ ہر آنکھوں والے کے سامنے ہے۔ جو احادیث شریفہ ریاض احمد صاحب نے نقل کی ہیں، شراحِ حدیث کا اتفاق ہے کہ وہ ان خوارج کے متعلق ہیں جنھوں نے حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کے زمانے میں ان کے خلاف خروج کیا تھا اور وہ حضرت عثمان، حضرت علی اور دیگر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نعوذ باللہ بُرے الفاظ سے یاد کرتے تھے۔ علمائے دیوبند کا یا تبلیغی جماعت کا ان سے رشتہ جوڑنا، اور خوارج کے بارے میں جو اَحادیث وارِد ہیں ان کو نہ صرف عام مسلمانوں پر، بلکہ اکابر اولیاء اللہ (حضرت قطب العالم مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حجۃالاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانویؒ، حضرتِ اقدس مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، حضرتِ اقدس مولانا سیّد حسین احمد مدنی،ؒ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی،ؒ حضرتِ اقدس مولانا مفتی محمد شفیعؒ،حضرتِ اقدس مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ، حضرتِ شیخ مولانا محمد زکریا مہاجرِ مدنی ؒ وغیرہم) پر چسپاں کرنا، نہایت ظلم ہے۔ ان اکابر کی زندگیاں علومِ نبوّت کی نشر و اِشاعت اور ذکرِ اِلٰہی کو قلوب میں راسخ کرنے میں گزریں، تمام فتنوں کے مقابلے میں یہ حضرات سینہ سپر رہے اور دِین میں کسی ادنیٰ تحریف کو انہوں نے کبھی برداشت نہیں کیا۔ یہ حضرات خود اِتباعِ سنت کے پتلے تھے اور اپنے متعلقین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و آداب پر مرمٹنے کی تعلیم دیتے تھے۔ جن لوگوں کو ان اکابرؒ کی خدمت میں حاضری کی کبھی توفیق نہیں ہوئی، وہ تو بے چارے جو چاہیں کہتے پھریں، لیکن جن لوگوں کو خود برسہا برس تک ان اکابرؒ کی خفی و جلی محفلوں میں حاضری میسر آئی ہو، وہ ان کے تمام اَحوال و کوائف کے چشم دید گواہ ہیں، ان کو معلوم ہے کہ یہ حضرات کیا تھے ؟ بہرحال کفار و منافقین کے بارے میں جو آیات و احادیث آئی ہیں، ان کو اولیاء اللہ پر چسپاں کرنا ظلمِ عظیم ہے اور یہ ظلم ان اکابرؒ پر نہیں، کہ وہ تو جس ذاتِ عالی کی رضا پر مرمٹے تھے اس کی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں، ان کو اَب کسی کی مدح و ذم کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں، جو لوگ ان اکابرؒ پر طعن کرتے ہیں وہ خود اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں اور اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں۔ حضرت صدیقِ اکبر اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کو لوگ کیا کیا نہیں کہتے؟ مگر لوگوں کی بدگوئی کا ان اکابرؓ کو کیا نقصان ہے؟ یہ دونوں اکابرؓ آج تک صحبتِ نبوی کے مزے لوٹ رہے ہیں، لیکن بدگوئی کرنے والوں کو اس سے بھی عبرت نہیں ہوتی۔ یہی سنت اکابرِ دیوبند میں بھی جاری ہوئی، یہ اکابرؒ حق تعالیٰ شانہ کی رضا و رحمت کی آغوش میں جاچکے ہیں، اور ان کی بدگوئی کرنے والے مفت میں اپنا ایمان برباد کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم فرمائیں۔

رہا آپ کا یہ ارشاد کہ: ’’تبلیغ والے کسی سوال کا جواب دینے کے بجائے ہاتھا پائی یا گالی گلوچ پر اُتر آتے ہیں‘‘ ممکن ہے آپ کو ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہو، لیکن اس ناکارہ کو قریباً چالیس برس سے اکابرِ تبلیغ کو دیکھنے اور ان کے پاس بیٹھنے اور ان کی باتیں سننے کا موقع مل رہا ہے، میرے سامنے تو کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔

اور آپ کا یہ ارشاد کہ: ’’تبلیغ والے چھ نمبروں سے نکلتے اور دِین کی دُوسری مہمات کی طرف توجہ نہیں دیتے‘‘ یہ بھی کم از کم میرے مشاہدے کے تو خلاف ہے، ہزاروں مثالیں تو میرے سامنے ہیں کہ تبلیغ میں لگنے سے پہلے وہ بالکل آزاد تھے، اور تبلیغ میں لگنے کے بعد انہوں نے نہ صرف خود قرآنِ کریم پڑھا، بلکہ اپنی اولاد کو بھی قرآن مجید حفظ کرایا اور انگریزی پڑھانے کے بجائے انہیں دِینی تعلیم میں لگایا، دِینی مدارس قائم کئے، مسجدیں آباد کیں، حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی ان کے دِل میں فکر پیدا ہوئی، اور وہ ہر چھوٹی بڑی بات میں دِینی مسائل دریافت کرنے لگے۔ بہت ممکن ہے کہ بعض کچے قسم کے لوگوں سے کوتاہیاں ہوتی ہوں، لیکن اس کی ذمہ داری تبلیغ پر ڈال دینا، ایسا ہی ہوگا کہ مسلمانوں کی بدعملیوں کی ذمہ داری اسلام پر ڈال کر نعوذ باللہ اسلام ہی کو بدنام کیا جانے لگے۔ جس طرح ایک مسلمان کی بدعملی یا کوتاہی اسلام پر صحیح عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے، نہ کہ نعوذ باللہ اسلام کی وجہ سے، اسی طرح کسی تبلیغ والے کی کوتاہی یا بدعملی بھی تبلیغ کے کام کو پوری طرح ہضم نہ کرنے کی وجہ سے ہوسکتی ہے، نہ کہ خود تبلیغی کام کی وجہ سے، اور لائقِ ملامت اگر ہے تو وہ فرد ہے، نہ کہ تبلیغ۔

آپ نے لکھا ہے کہ آپ تقریباً دس سال سے تبلیغ سے منسلک ہیں، مگر اب آپ کا دِل اس سے ہٹ گیا ہے، یہ تو معلوم نہیں کہ دس سال تک آپ نے تبلیغ میں کتنا وقت لگایا؟ تاہم دِل ہٹ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تبلیغ جیسے اُونچے کام کے لئے اُصولوں اور آداب کی رعایت کی ضرورت ہے، وہ آپ سے نہیں ہوسکی، اس صورت میں آپ کو اَپنی کوتاہی پر توبہ و اِستغفار کرنا چاہئے اور یہ دُعا بہت ہی اِلحاح و زاری کے ساتھ پڑھنی چاہئے:

’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ، رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَةً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ۔‘‘