بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تبلیغِ‌دِین

’’فضائلِ‌اعمال‘‘‌پر‌چند‌شبہات‌کا‌جواب

سوال:۔

ایک دوست انڈیا سے کتاب لائے ہیں: ’’تبلیغی نصاب، ایک مطالعہ‘‘ تابش مہدی صاحب نے تحریر کی ہے، ان کی دعوت یہ ہے کہ ’’تبلیغی نصاب‘‘ میں موضوع، ضعیف اور عقل سے بعید، کتاب و سنت کی تعلیمات کے برعکس واقعات اور سب کچھ ہی اس تبلیغی نصاب میں موجود ہے۔ اور شیخ الحدیثؒ نے عربی میں احادیث لکھ دی ہیں اور عربی ہی میں بتادیا کہ یہ روایت موضوع ہے، ضعیف ہے یا مردود۔ مگر اُردو میں یہ نہیں لکھا جو بے ایمانی میں آتی ہے۔ اور گزارش کی ہے کہ علمائے دیوبند اس کتاب سے ایسی احادیث اور حکایات و خواب دُور کردیں جو اسلامی مزاج سے میل نہیں کھاتی ہیں، اور یہ کتاب صرف رضائے الٰہی کے لئے اور گمراہیت سے بچانے کے لئے ہی لکھی ہے۔ اسی کتاب میں لکھا ہے کہ دیوبند کے بڑے بڑے اکابر بھی شیخ الحدیثؒ کی اس کتاب سے واقف ہیں اور ان کی حیات میں جب بھی اکابرینِ دیوبند سے کہا گیا تو جواب یہ ملا کہ: ’’اگر تبلیغی نصاب کی مندرجہ بالا غلطیوں پر تنقید کی گئی تو شیخ الحدیثؒ ناراض ہوجائیں گے‘‘ اور یہ بات شرع سے ہٹ کر تھی، اس لئے تابش مہدی صاحب نے جو کہ مدیر ’’الایمان‘‘ دیوبند ہیں، یا تھے، اس طرف توجہ فرمائی اور ہمت کی، وغیرہ وغیرہ۔ آج اسی کتاب کی بدولت بہت سے دوست جو کہ پہلے بھی کچھ اس جماعت سے متنفر تھے، اب تو ایک ہتھیار ان کے ہاتھ ہے، حق بات، حق ہی ہوتی ہے، (بشرطیکہ حق کی تفصیل وہ جانتا ہو)، میں یہ صلاحیت نہیں رکھتا، اس لئے حضرت کی خدمت میں یہ چند چیزیں عرض کرتا ہوں۔

۱:۔ ’’تحریفِ قرآن کا عظیم نمونہ‘‘ کے تحت جو کچھ لکھا ہے، خلاصہ لکھ دیتا ہوں۔ قرآنِ حکیم کی کسی بھی آیت یا جملے کا وہ مفہوم اخذ کرنا جو منشائے خداوندی کے برعکس ہو، تحریف کہلاتا ہے، اور جس نے قرآنِ حکیم میں تحریف کی، گویا اسلام کی بنیاد ہلادی، اور ایسے شخص کا تعلق اسلام سے کس حد تک قائم رہ سکتا ہے؟ قارئین واقف ہیں کہ سورۂ قمر کی آیت: ﵟ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ﵞکا ترجمہ ہر عالم نے وہی کیا ہے جو منشائے خداوندی ہے، اس کے بعد مولانا اشرف علی تھانوی، شیخ الہندؒ، مولانا شاہ رفیع الدینؒ، مولانا شاہ عبدالقادر دہلویؒ کا ترجمہ پیش کیا، پھر شیخ سعدیؒ و شاہ ولی اللہؒ کا ترجمہ پیش کیا گیا، ایک ترجمہ لکھ دیتا ہوں: ’’تحقیق ہم نے قرآن کو نصیحت پکڑنے کے لئے آسان کردیا ہے، پھر ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا‘‘ فضائل قرآن ص:۵۴ پر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کلام اللہ شریف کا حفظ یاد ہوجانا درحقیقت یہ خود قرآن شریف کا ایک کھلا معجزہ ہے، ورنہ اس سے آدھی، تہائی مقدار کی کتاب بھی یاد ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ قریب بہ محال ہے، اس وجہ سے حق تعالیٰ شانہ نے اس کے یاد ہوجانے کو سورۂ قمر میں بطور احسان ذکر فرمایا، اور بار بار اس پر تنبیہ فرمائی، آیت کا ترجمہ: ’’ہم نے کلامِ پاک کو حفظ کرنے کے لئے سہل کر رکھا ہے، کوئی ہے حفظ کرنے والا‘‘(فضائل اعمال ص:۲۶۰)۔

۲:۔ حضرت شیخ الحدیثؒ کے والد اور حضرت حسینؓ کے تحت ہے: سیّد السادات حضرت حسینؓ اپنے بھائی حضرت حسنؓ سے بھی ایک سال چھوٹے تھے، اس لئے ان کی عمر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت اور بھی کم تھی، یعنی چھ برس اور چند مہینے کی، چھ برس کا بچہ کیا دِین کی باتوں کو محفوظ کرسکتا ہے؟ لیکن اِمام حسینؓ کی روایتیں حدیث کی کتابوں میں نقل کی جاتی ہیں، محدثین نے انہیں اس جماعت میں شمار کیا ہے جن سے آٹھ حدیثیں منقول ہیں۔

حکایاتِ صحابہؓ ص:۱۶۳ میں حضرت شیخ الحدیثؒ نے فائدہ کے تحت یہ بتایا ہے کہ اس قسم کے ذہانتی واقعات حضرت حسینؓ ہی نہیں، دُوسرے بہت سے صحابہؓ کی زندگیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ پھر فائدے کے ضمن میں حضرت شیخ الحدیثؒ نے اس سے بھی زیادہ قابلِ ذکر ذہانت کا تذکرہ بایں انداز فرمایا ہے: ’’میں نے اپنے والد صاحب نوّر اللہ مرقدہٗ سے بھی بار بار سنا ہے اور اپنے گھر کی بوڑھیوں سے بھی سنا ہے کہ میرے والد صاحب کا جب دُودھ چھڑایا گیا تو پاؤ پارہ حفظ ہوچکا تھا، اور ساتویں برس کی عمر میں قرآن شریف پورا حفظ ہوچکا تھا، اور اپنے والد یعنی میرے دادا صاحب سے مخفی فارسی کا بھی معتد بہ حصہ بوستان، گلستان، سکندرنامہ وغیرہ بھی پڑھ چکے تھے (ایضاً ص:۱۶۴)۔

ملاحظہ فرمائیں کہ حضرت مؤلفؒ نے کس سادگی اور حکمت کے ساتھ اپنے باپ کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور دُوسرے صحابہؓ و اکابر پر فوقیت دے دی، اگر حضرت حسینؓ نے چھ برس کی عمر میں چند حدیثیں یاد کرلیں تو کون سی قابلِ ذکر بات ہوگئی، اس قسم کی ذہانتیں تو دُوسرے لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں، مگر باعثِ حیرت بات تو یہ ہے کہ حضرت شیخؒ کے والد نے ماں کا دُودھ چھوڑنے سے قبل ہی پاؤ پارہ حفظ کرلیا جبکہ بچے اس عمر میں بول بھی مشکل پاتے ہیں، یہ واقعہ بیان کرکے مؤلفِ محترم نے اپنے والد کو نہ صرف یہ کہ صحابہ کرامؓ پر فوقیت دے دی بلکہ حضراتِ انبیاء علیہم السلام سے بھی آگے بڑھادیا، اس قسم کے واقعات تو ان کی زندگیوں میں شاذ و نادر ہی ملیں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ماں کی گود میں محض چند ہی الفاظ بول سکے تھے، جبکہ یہاں پاؤ پارہ حفظ کا ذکر ہے۔

۳:۔ ’’آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک عظیم بہتان‘‘ کے تحت ہے: خون کو خدا تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، خواہ وہ کسی کا بھی خون ہو، ارشادِ خداوندی ہے: ﵟ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ ﵞ النحل ١١٥سورۂ بقرہ آیت:۱۷۳ اور سورۃ المائدۃ آیت:۳ میں بھی یہ حکم من و عن موجود ہے، یہ ایک مُسلَّمہ اُصول ہے کہ جس معاملے میں قرآن یا حدیث کا صریح حکم موجود ہو، اس میں کسی قسم کی تأویل و منطق کی گنجائش نہیں باقی رہتی۔ لہٰذا قرآن کی رُو سے خون ہمیشہ ہمیشہ اور ہر فردِ بشر کے لئے حرام ہے، اب اگر اپنی مرضی سے کوئی اسے جائز قرار دیتا ہے تو گویا وہ خدا کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ان معروضات کے بعد شیخ الحدیثؒ کی ایک کاوشِ فکر ملاحظہ فرمائیں۔

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سینگیاں لگوائیں اور جو خون نکلا وہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دیا کہ اس کو کہیں دبادیں، وہ گئے اور آکر عرض کیا کہ دبادیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کہاں؟ عرض کیا: میں نے پی لیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے بدن میں میرا خون جائے گا، اس کو جہنم کی آگ نہیں چھوسکتی (حکایاتِ صحابہؓ ص:۱۷۳)۔

لگے ہاتھوں اسی مضمون کی دُوسری روایت بھی ملاحظہ ہو۔

اُحد کی لڑائی میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور یا سر مبارک میں خود کے دو حلقے گھس گئے تھے ۔۔۔ الخ، تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد ماجد مالک بن سنان نے اپنے لبوں سے اس خون کو چوس لیا ۔۔۔ الخ (حکایاتِ صحابہؓ ص:۱۷۳)۔ دُوسری روایت میں نے صرف اشارے کے طور پر لکھ دی ہے، پوری نہیں لکھی۔

ایک ہی مضمون کی یہ دو منقولہ روایتیں ہیں، ایک خمیس کے حوالے سے، اور دُوسری قرۃ العیون کے حوالے سے، یہ دونوں کتابیں اہلِ علم کے نزدیک ’’میلادِ اکبر‘‘، ’’میلادِ گوہر‘‘ یا ’’یوسف زلیخا‘‘ اور ’’جنگ زیتون‘‘ جیسی غیرمستند اور گمراہ کن ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسی خلافِ شریعت حرکت کوئی صحابیٔ رسول دانستہ ہرگز ہرگز نہیں کرسکتا، ایسے خون کا حرام ہونا قرآن مجید میں صریح طور پر موجود ہے، لیکن اگر تھوڑی دیر کے لئے بادِلِ نخواستہ یہ فرض ہی کرلیا جائے کہ حضرت ابنِ زبیر اور مالک بن سنان رضی اللہ عنہما نے محبت میں آکر اپنے محبوب کا خون پی لیا ہوگا، اگرچہ دِل اس کے لئے بھی آمادہ نہیں ہے، مگر یہ بات کس طرح مان لی جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں صحابہ کو اس خلافِ قرآن عمل سے روکنے یا منع کرنے کے بجائے انہیں دوزخ سے خلاصی کی خوشخبری دے دی اور یہ کہہ کر کہ جس کے بدن میں میرا خون جائے گا اس کو جہنم کی آگ نہیں چھوسکے گی، آئندہ کے لئے اجازت بلکہ ترغیب دی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول تھے، نبی و رسول کا ایک ایک سانس اس کی شریعت کا نمائندہ ہوتا ہے، نبی کی زبان سے نکلی ہوئی بات شریعت بن جاتی ہے، اس لئے ایسی عظیم ہستی کی طرف اس قسم کی غلط بات کا انتساب حد درجہ ناجائز اور نادُرست ہے، ان سب کے علاوہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظافتِ طبعی بھی اس روایت کی تکذیب کرتی ہے۔

غالباً حضرت شیخ الحدیثؒ کی نظر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ضرور گزری ہوگی: ’’مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ‘‘ بلاشبہ حضرت شیخ الحدیثؒ نے یہ بے سند روایت بیان کرکے رسول پر ایک عظیم اِتہام کا ارتکاب کیا ہے، پھر فائدہ کے نوٹ میں لکھا ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات پاخانہ پیشاب وغیرہ سب پاک ہیں، اس لئے اس میں کوئی اِشکال نہیں (حکایاتِ صحابہؓ ص:۱۷۲)۔ لیکن موصوف مرحوم نے یہ نہ بتایا کہ انہیں یہ بات کہاں سے ملی؟ براہِ راست قرآن میں موجود ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؟ یا آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عملاً اس کا ثبوت دیا؟ آگے لکھا ہے: خیر! محترم شیخ الحدیثؒ تو اس دُنیا میں نہیں رہے، ان کے خلفاء ہی کی خدمت میں التماس ہے کہ وہ کسی مستند حوالے سے کم از کم ایسے کسی ایک ہی صحابی کی نشاندہی فرمائیں جس نے آپ کے فضلات پاخانہ پیشاب وغیرہ نوشِ جاں فرماکر اُمت کے لئے حلال اور پاک ہونے کا ثبوت دیا ہو، میں ان کا بے حد ممنون و متشکر ہوں گا۔

۴:۔ ’’یہ اعجوبے‘‘ کے تحت میں، میں ایک ہی بات نقل کرتا ہوں، فضائل صدقات ص:۴۷۲ پر ایک بزرگ کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ روزانہ ۱۰۰۰ رکعتیں کھڑے ہوکر، ۱۰۰۰ بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے، جبکہ ایک رکعت فی منٹ کے حساب اس طرح ۳۳ گھنٹوں میں ممکن ہے، اور شب و روز میں کل ۲۴ گھنٹے ہوتے ہیں، آخر مزید ۹گھنٹے کہاں سے آئے؟ جواب کا منتظر رہوں گا۔

مہتاب احمد، سلطنت عمان

ایک سوال کے جواب میں یہ مسئلہ ضروری تفصیل کے ساتھ ذکر کرچکا ہوں کہ مذاہبِ اَربعہ کے محققین کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات پاک ہیں، اور اس کے لئے اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام نوویؒ، حافظ ابنِ حجر عسقلانی،ؒ حافظ بدرالدین عینیؒ، مُلَّا علی قاریؒ، علامہ ابنِ عابدین شامیؒ، مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے حوالے ذکر کرچکا ہوں، یہ جواب ’’بینات‘‘ محرّم الحرام ۱۴۰۹ھ میں شائع ہوچکا ہے، آپ کی سہولت کے لئے اس کا اقتباس درج ذیل ہے:

جواب:۔

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للّٰہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

تابش مہدی کی یہ کتاب کئی سال پہلے نظر سے گزری تھی، اور بعض احباب کے اصرار پر یہ داعیہ بھی اُس وقت پیدا ہوا تھا کہ اس کا جواب لکھا جائے، لیکن کتاب کے مطالعے کے بعد معلوم ہوا کہ کتاب کا مصنف نہ تو علمِ حدیث کے فن سے واقف ہے، اور نہ دیگر اسلامی علوم پر اس کی نظر ہے، اس بے چارے کے علم و فہم کا حدودِ اَربعہ کچھ اُردو کتب و رسائل کا سطحی مطالعہ ہے، اور بس! ایسے شخص کی تردید کے درپے ہونا محض اضاعتِ وقت ہے۔

دُوسری طرف حضرت شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ کے رسائل کو حق تعالیٰ شانہ نے ایسی مقبولیت عطا فرما رکھی ہے کہ دُنیا بھر کی مختلف زبانوں میں ان رسائل کا مذاکرہ ہورہا ہے، اور دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں شاید ایک لمحہ بھی ایسا نہ گزرتا ہوگا، جس میں دُنیا کے کسی نہ کسی خطے میں ان رسائل کے سننے سنانے کا شغل جاری نہ رہتا ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ مقبولیت محض من جانب اللہ ہے، کسی انسان کی سعی و کسب کا نتیجہ نہیں۔ پس جبکہ حضرت مصنفؒ کے اِخلاص و للہیت کی برکت سے حق تعالیٰ شانہ نے ان کتابوں کو ایسی خارقِ عادت مقبولیت عطا فرما رکھی ہے تو تابش مہدی جیسے لوگوں کی سطحی تنقید سے ان کا کیا بگڑتا ہے؟

علاوہ ازیں سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ جس شخصیت کو من جانب اللہ شرفِ قبولیت کا جامہ پہنایا جاتا ہے، کچھ لوگ ایسی شخصیت کی پوستین دری اور اس پر بے جا تنقید کو اپنا محبوب مشغلہ بنالیتے ہیں، اس قانون سے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو بھی مستثنیٰ نہیں فرمایا، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے:

ﵟ وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوّٗا شَيَٰطِينَ ٱلۡإِنسِ وَٱلۡجِنِّ يُوحِي بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ زُخۡرُفَ ٱلۡقَوۡلِ غُرُورٗاۚ وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُۖ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُونَ ﵞ الأنعام ١١٢

ترجمہ:۔ ’’اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دُشمن بہت سے شیطان پیدا کئے، کچھ آدمی اور کچھ جِنّ، جن میں سے بعضے دُوسرے بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکے میں ڈال دیں، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کرسکتے، سو ان لوگوں اور جو کچھ یہ افترا پردازی کررہے ہیں اس کو آپ رہنے دیجئے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

اور یہ چیز ان اکابر کے رفعِ درجات کا ذریعہ ہے، جیسا کہ شیعہ کے اتہامات آج تک حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کے رفعِ درجات کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ اس سنت اللہ کے مطابق حضرت شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ کے مقابلے میں بھی تابش مہدی جیسے لوگوں کا وجود ضروری تھا، اب اگر تابش مہدی کے تمام الزامات کا معقول اور مدلل جواب بھی لکھ دیا جائے تب بھی ان صاحب کو ’’رُجوع‘‘ کرنے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کی توفیق نہیں ہوگی، بلکہ شیطان ان کو نئے نئے نکتے تلقین کرتا رہے گا۔

الغرض! ان وجوہ و اسباب کی بنا پر تابش مہدی کے تنقیدی رسالے کا جواب لکھنا غیرضروری بلکہ کارِ عبث معلوم ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آنجناب کا گرامی نامہ بھی کئی مہینوں سے رکھا ہے، لیکن اس کا جواب دینے کو جی نہ چاہا، آج آپ کی خاطر دِل پر جبر کرکے قلم ہاتھ میں لیا ہے، کوشش کروں گا کہ آپ کے چار سوالوں کا جواب گو مختصر ہو، مگر شافی ہو تاکہ آپ کی پریشانی دُور ہوجائے۔

۱:۔ تحریفِ قرآن کا الزام:

سورہ قمر کی آیت:۲۲ ﵟ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ﵞکا جو ترجمہ حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے ’’فضائلِ قرآن‘‘ میں کیا ہے، یعنی: ’’ہم نے کلامِ پاک کو حفظ کرنے کے لئے سہل کر رکھا ہے، کوئی ہے حفظ کرنے والا؟‘‘

تابش مہدی اپنے محدود سطحی مطالعے کی بنا پر اس کے بارے میں تحریفِ قرآن کا ’’فتویٰ‘‘ صادر فرماتے ہیں، کیونکہ یہ ترجمہ عام اُردو تراجم کے خلاف ہے، اگر ان کو مستند عربی تفاسیر کے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ کا بیان کردہ بھی صحیح ہے اور یہ بھی سلف صالحین سے منقول ہے، کیونکہ اس آیتِ کریمہ کے دو مفہوم بیان کئے گئے ہیں، اور اپنی جگہ دونوں صحیح ہیں۔

ایک یہ کہ: ’’ہم نے قرآن کو حفظ کے لئے آسان کردیا ہے۔‘‘اور دُوسرا یہ کہ: ’’ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے۔‘‘

بعض اکابر نے دونوں مفہوم نقل کردئیے ہیں، اور بعض نے صرف ایک کو اختیار فرمایا ہے، اور بعض نے دونوں کو ذکر کرکے ایک کو ترجیح دی ہے، جو مفہوم حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے اختیار کیا ہے، اس کے لئے چند تفاسیر کے حوالے ذکر کردینا کافی ہے۔

۱:۔ تفسیر جلالین میں ہے:

’’سَہَّلْنَاہُ لِلْحِفْظِ اَوْ ھَیَّانَاہُ لِلتَّذَکُّرِ‘‘ (جلالین ج:۲ ص:۴۴۱ سورۃ القمر)

ترجمہ:۔ ’’ہم نے اس کو آسان کردیا ہے حفظ کے لئے، یا مہیا کر رکھا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لئے۔‘‘

۲:۔ تفسیر کشاف میں ہے:

’’اَیْ سَہَّلْنَاہُ لِلْاِدِّکَارِ وَالْاِتِّعَاظِ ۔۔۔ وَقِیْلَ: وَلَقَدْ سَہَّلْنَاہُ لِلْحِفْظِ وَاَعَنَّا عَلَیْہِ مَنْ اَرَادَ حِفْظَہٗ، فَہَلْ مِنْ طَالِبٍ لِحِفْظٍ لِیُعَانَ عَلَیْہِ ۔۔۔ وَیُرْوٰی اَنَّ کُتُبَ اَہْلِ الْاَدْیَانِ نَحْوَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ لَا یَتْلُوْہَا اَہْلُہَا اِلَّا نَظَرًا، وَلَا یَحْفَظُوْنَہَا ظَاہِرًا کَمَا الْقُرْاٰنُ۔‘‘ (ج:۴ ص:۴۳۵)

ترجمہ:۔ ’’ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کر رکھا ہے ۔۔۔ اور کہا گیا ہے کہ ہم نے اس کو حفظ کرنے کے لئے آسان کر رکھا ہے، اور جو شخص اس کو حفظ کرنا چاہے اس کی اعانت اپنے ذمے لے رکھی ہے، پس ہے کوئی اس کے حفظ کرنے والا کہ اس کی مدد کی جائے؟ مروی ہے کہ پہلے ادیان کے لوگ اپنی کتابیں ناظرہ پڑھ سکتے تھے، قرآن کی طرح حفظ نہیں پڑھ سکتے تھے۔‘‘

۳:۔ اِمام ابنِ جوزیؒ زاد المسیر میں لکھتے ہیں:

’’ﵟ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ ﵞاَیْ سَہَّلْنَاہُ ﵟ لِلذِّكۡرِﵞاَیْ لِلْحِفْظِ وَالْقِرَائَۃِ ﵟ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ﵞاَیْ مَنْ ذَاکِرٍ یَّذْکُرُہٗ وَیَقْرَاُہٗ، وَالْمَعْنٰی ھُوَ الْحَثُّ عَلٰی قِرَائَتِہٖ وَتَعَلُّمِہٖ، قَالَ سَعِیْدُ ابْنُ جُبَیْرٍ: لَیْسَ مِنْ کُتُبِ اللہِ کِتَابٌ یُّقْرَاُ کُلُّہٗ ظَاہِرًا اِلَّا الْقُرْاٰنُ۔‘‘ (زاد المسیر ج:۸ ص:۹۴، ۹۵)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم نے آسان کردیا قرآن کو ذکر کرکے، یعنی حفظ و قرأت کے لئے، پس کیا ہے کوئی یاد کرنے والا، جو اس کو یاد کرے اور پڑھے؟ اور مقصود قرآنِ کریم کی قرأت اور اس کے سیکھنے کی ترغیب دِلانا ہے۔ سعید بن جبیرؒ کہتے ہیں کہ: قرآنِ کریم کے سوا کتبِ اِلٰہیہ میں کوئی کتاب ایسی نہیں جو پوری کی پوری حفظ پڑھی جاتی ہو۔‘‘

اِمام ابنِ جوزیؒ نے صرف وہی مفہوم اختیار کیا ہے جو حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے ’’فضائلِ قرآن‘‘ میں ذکر فرمایا۔

۴:۔ تفسیر قرطبی میں ہے:

’’اَیْ سَہَّلْنَاہُ لِلْحِفْظِ وَاَعَنَّا عَلَیْہِ مَنْ اَرَادَ حِفْظَہٗ فَہَلْ مِنْ طَالِبٍ لِّحِفْظِہٖ فَیُعَانَ عَلَیْہِ ۔۔۔ وَقَالَ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ: لَیْسَ مِنْ کُتُبِ اللہِ کِتَابٌ یُّقْرَاُ کُلُّہٗ ظَاہِرًا اِلَّا الْقُرْاٰنُ۔‘‘ (ج:۱۷ ص:۱۳۴)

ترجمہ:۔ ’’یعنی ہم نے اس کو حفظ کرنے کے لئے آسان کردیا ہے اور جو شخص اس کو حفظ کرنا چاہے اس کی اعانت کی ہے، پس کیا کوئی اس کو حفظ کرنے کا طالب ہے کہ اس کی اعانت کی جائے؟ سعید بن جبیرؒ فرماتے ہیں کہ: کتبِ اِلٰہیہ میں قرآن کے سوا کوئی کتاب نہیں جو پوری حفظ پڑھی جاتی ہو۔‘‘

اِمام قرطبیؒ نے بھی صرف اسی مفہوم کو لیا ہے۔

۵:۔ تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:

’’اَیْ سَہَّلْنَاہُ لَفْظَہٗ، وَیَسَّرْنَا مَعْنَاہُ لِمَنْ اَرَادَ لِیَتَذَکَّرَ النَّاسُ ۔۔۔ قَالَ مُجَاهِدٌ: ﵟ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ ﵞیَعْنِیْ ھَوَّنَّا قِرَائَتَہٗ، وَقَالَ السُّدِّیُّ: یَسَّرْنَا تِلَاوَتَہٗ عَلَی الْاَلْسُنِ، وَقَالَ الضَّحَّاکُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: لَوْ لَا اَنَّ اللہَ یَسَّرَہٗ عَلٰی لِسَانِ الْاٰدَمِیِّیْنَ مَا اسْتَطَاعَ اَحَدٌ مِّنَ الْخَلْقِ اَنْ یَّتَکَلَّمَ بِکَلَامِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَوْلُہٗ: ﵟ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ﵞاَیْ فَہَلْ مِنْ مُّتَذَکِّرٍ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ الَّذِیْ یَسَّرَ اللہُ حِفْظَہٗ وَمَعْنَاہُ۔‘‘ (مختصر تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۴۱۰)

ترجمہ:۔ ’’یعنی جو شخص قرآن کو حاصل کرنا چاہے ہم نے اس کے لئے اس کے الفاظ کو سہل اور اس کے معنی کو آسان کردیا ہے، تاکہ لوگ غور کریں ۔۔۔ اِمامِ تفسیر مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے یاد کے لئے‘‘ یعنی اس کے پڑھنے کو آسان کردیا ہے۔ سدیؒ کہتے ہیں کہ: آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کی تلاوت کو زبانوں پر آسان کردیا ہے۔ اور ضحاکؒ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے آدمیوں کی زبانوں پر اس قرآن کو آسان نہ کردیا ہوتا تو مخلوق میں سے کوئی بھی کلامِ اِلٰہی کو زبان سے ادا نہ کرسکتا۔‘‘ ﵟفَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖﵞیعنی کیا کوئی اس قرآن کے ساتھ نصیحت حاصل کرنے والا ہے جس کے حفظ و معنی کو اللہ تعالیٰ نے آسان کردیا ہے، (اور آگے ابنِ شوذبؒ، مطر ورّاقؒ اور قتادہؒ سے بھی یہی مضمون نقل کیا ہے)۔‘‘

مندرجہ بالا عبارت سے واضح ہے کہ جو مفہوم حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے ذکر فرمایا، وہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور تابعین میں سے اِمام مجاہد، قتادہ، ضحاک، مطر ورّاق اور سدی رحمہم اللہ سے منقول ہے۔

۶:۔ تفسیر البحر المحیط میں ہے:

’’اَیْ لِلْاِدِّکَارِ وَالْاِتِّعَاظِ ۔۔۔ وَقِیْلَ: لِلذِّکْرِ لِلْحِفْظِ، اَیْ سَہَّلْنَاہُ لِلْحِفْظِ ۔۔۔ وَقَالَ ابْنُ جُبَیْرٍ: لَمْ یُسْتَظْہَرْ شَیْءٌ مِّنَ الْکُتُبِ الْاِلٰہِیَّۃِ غَیْرَ الْقُرْاٰنِ۔‘‘ (ج:۸ ص:۱۷۸ طبع دار الفکر، بیروت)

ترجمہ:۔ ’’یعنی ہم نے قرآن کو نصیحت کرنے کے لئے آسان کردیا ہے ۔۔۔ اور کہا گیا ہے کہ ذکر سے مراد حفظ ہے، یعنی ہم نے اس کو حفظ کے لئے آسان کردیا ہے ۔۔۔ ابنِ جبیرؒ فرماتے ہیں کہ: قرآن کے سوا کتبِ اِلٰہیہ میں سے کوئی کتاب حفظ نہیں کی گئی۔‘‘

۷:۔ تفسیر رُوح المعانی میں ہے:

’’لِلذِّکْرِ اَیْ لِلتَّذَکُّرِ وَالْاِتِّعَاظِ ۔۔۔ وَقِیْلَ: الْمَعْنٰی سَہَّلْنَا الْقُرْاٰنَ لِلْحِفْظِ ۔۔۔ فَہَلْ مِنْ طَالِبٍ لِّحِفْظِہٖ لِیُعَانَ عَلَیْہِ؟ وَمِنْ ھُنَا قَالَ ابْنُ جُبَیْرٍ: لَمْ یُسْتَظْہَرْ شَیْءٌ مِّنَ الْکُتُبِ الْاِلٰہِیَّۃِ غَیْرَ الْقُرْاٰنِ، وَاَخْرَجَ ابْنُ الْمُنْذِرِ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ مُجَاہِدٍ اَنَّہٗ قَالَ: یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ ھَوَّنَّا قِرَائَتَہٗ۔‘‘ (تفسیر روح المعانی ج:۲۷ ص:۱۱۸ سورۃ القمر:۱۷، طبع رشیدیہ کوئٹہ)

ترجمہ:۔ ’’ہم نے قرآن کو ذکر کے لئے یعنی نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے ۔۔۔ اور کہا گیا ہے کہ: آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے قرآن کو حفظ کرنے کے لئے آسان کردیا ہے ۔۔۔ پس کیا کوئی اس کے حفظ کرنے کا طالب ہے کہ حفظ کرنے کے لئے اس کی اعانت کی جائے۔ اسی بنا پر سعید بن جبیرؒ فرماتے ہیں کہ: کتبِ اِلٰہیہ میں قرآن کے علاوہ کوئی کتاب حفظ نہیں کی گئی۔ ابنِ منذرؒ اور ایک جماعت نے حضرت مجاہدؒ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم نے قرآن کو سہل کر رکھا ہے، یعنی ہم نے اس کی قرأت کو آسان کر رکھا ہے۔‘‘

۸:۔ تفسیر مظہری میں ہے:

’’اَیْ لِلْاِدِّکَارِ وَالْاِتِّعَاظِ بِاَنْ ذَکَرْنَا فِیْہِ اَنْوَاعَ الْمَوَاعِظِ وَالْعِبَرِ وَالْوَعِیْدِ وَاَحْوَالَ الْاُمَمِ السَّابِقَۃِ، وَالْمَعْنٰی یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلْحِفْظِ بِالْاِخْتِصَارِ وَعُذُوْبَۃِ اللَّفْظِ۔‘‘ (ج:۹ ص:۱۳۸)

ترجمہ:۔ ’’یعنی ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لئے بایں طور کہ ہم نے اس میں انواع و اقسام کی نصیحتیں، عبرتیں، وعیدیں اور گزشتہ اُمتوں کے حالات ذکر کردئیے ہیں، یا یہ معنی ہیں کہ ہم نے قرآن کو اِختصار اور الفاظ کی شیرینی کے ذریعہ حفظ کرنے کے لئے آسان کردیا ہے۔‘‘

۹:۔ تفسیر بغوی میں ہے:

’’ﵟ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنا ﵞسَہَّلْنَا ﵟ ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ ﵞلِیَتَذَکَّرَ وَیَعْتَبِرَ بِہٖ، وَقَالَ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ: یَسَّرْنَاہُ لِلْحِفْظِ وَالْقِرَائَۃِ، وَلَیْسَ شَیْءٌ مِّنْ کُتُبِ اللہِ یُقْرَاُ کُلُّہٗ ظَاہِرًا اِلَّا الْقُرْاٰنُ۔‘‘ (تفسیر البغوی المسمّٰی معالم التنزیل ص:۲۶۱، سورۃ القمر آیۃ:۱۷، طبع إدارۃ تالیفات اشرفیہ)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم نے قرآن کو سہل کر رکھا ہے ذکر کے لئے، تاکہ اس کے ذریعہ نصیحت و عبرت حاصل کی جائے، اور سعید بن جبیرؒ فرماتے ہیں کہ: ہم نے اس کو حفظ و قرأت کے لئے آسان کر رکھا ہے، اور کتبِ اِلٰہیہ میں قرآنِ کریم کے علاوہ اور کوئی کتاب ایسی نہیں جس کو حفظ کیا جاتا ہو۔‘‘

۱۰:۔ تفسیر کبیر میں ہے:

’’ثُمَّ قَالَ تَعَالٰی: ﵟ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ﵞوَفِیْہِ وُجُوْہٌ، الْاَوَّلُ: لِلْحِفْظِ، فَیُمْکِنُ حِفْظُہٗ وَیَسْہُلُ، وَلَمْ یَکُنْ شَیْءٌ مِّنْ کُتُبِ اللہِ تَعَالٰی یُحْفَظُ عَلٰی ظَہْرِ الْقَلْبِ غَیْرَ الْقُرْاٰنِ، وَقَوْلُہٗ تَعَالٰی: ﵟ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ﵞاَیْ ہَلْ مَنْ یَّحْفَظُہٗ وَیَتْلُوْہُ؟‘‘ (تفسیر کبیر للرازی ج:۱۰ ص:۳۰۰ طبع مکتبہ علوم اسلامیہ اُردو بازار لاہور)

ترجمہ:۔ ’’پھر فرمایا: ’’اور ہم نے قرآن کو آسان کر رکھا ہے، پس کیا ہے کوئی یاد کرنے والا؟‘‘ اس میں کئی وجوہ ہیں، اوّل یہ کہ ذکر کے لئے، سے مراد ہے: ’’حفظ کرنے کے لئے‘‘ پس اس کا حفظ کرنا ممکن اور سہل ہے، اور کتبِ اِلٰہیہ میں قرآن کے سوا کوئی کتاب ایسی نہیں جو زبانی حفظ کی جاتی ہو۔ اور ارشادِ خداوندی ﵟ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ﵞکا مطلب یہ ہے کہ ہے کوئی جو اس کو حفظ کرے اور اس کی تلاوت کرے؟‘‘

مندرجہ بالا حوالوں سے واضح ہوا ہوگا کہ حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ کے ذکر کردہ مفہوم کو نہ صرف یہ کہ اکابر مفسرین نے ذکر کیا ہے، بلکہ بہت سے اکابر نے تو یہی مفہوم بیان فرمایا ہے، اور اس مفہوم کے بیان کرنے والوں میں نام آتے ہیں: حضرت ترجمان القرآن عبداللہ بن عباسؓ، حضرت سعید بن جبیرؒ، حضرت مجاہدؒ، حضرت قتادہؒ اور مطر ورّاق جیسے اکابر صحابہؓ و تابعینؒ کے۔ لیکن تابش مہدی صاحب کے نزدیک یہ مفہوم بیان کرنا قرآنِ کریم کی تحریف ہے، اِنَّاللّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!

اس وضاحت کے بعد تابش مہدی سے دریافت کیا جائے کہ کیا ان کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے اور ایک جلیل القدر محدث اور عارفِ ربانی پر تحریف کا الزام واپس لینے کی توفیق ہوگی؟ اور کیا ان کے خیال میں مندرجہ بالا اکابر مفسرین سب کے سب قرآن کی تحریف کرنے والے تھے؟نَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الْجَہْلِ وَالْغَبَاوَۃِ!

۲:۔ اپنے والد کو حضراتِ صحابہؓ پر فوقیت دینے کی تہمت

حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بچپن کی یادداشت کے جو واقعات لکھے ہیں، ان کے تحت یہ فائدہ درج فرمایا ہے:

’’بچپن کا زمانہ حافظے کی قوّت کا زمانہ ہوتا ہے، اس وقت کا یاد کیا ہوا کبھی بھی نہیں بھولتا، ایسے وقت میں اگر قرآن پاک حفظ کرادیا جائے تو نہ کوئی دِقت ہو، نہ وقت خرچ ہو۔‘‘

اور پھر اس فائدہ کی وضاحت کے لئے اپنے والد ماجدؒ کا قصہ ذکر فرمایا ہے، اس کے آخر میں لکھتے ہیں:

’’یہ پُرانے زمانے کا قصہ نہیں ہے، اسی صدی کا واقعہ ہے، لہٰذا یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ صحابہؓ جیسے قویٰ اور ہمتیں اب کہاں سے لائی جائیں؟‘‘

اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ فائدہ میں جو بچپن کے اندر قرآنِ کریم حفظ کرانے کی ترغیب دی گئی تھی کہ اس کی تائید کے لئے والد ماجدؒ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔

’’حکایاتِ صحابہؓ‘‘ جب سے تألیف ہوئی ہے، اس کو بلامبالغہ کروڑوں انسانوں نے پڑھا سنا ہوگا، لیکن اس واقعے کے سیاق و سباق سے یہ خبیث مضمون کبھی کسی کے ذہن میں نہیں آیا، جو تابش مہدی نے اخذ کیا ہے، جو مضمون نہ مصنف کے ذہن میں ہو، نہ اس کی سیاق و سباق سے اخذ کیا جاسکتا ہو، اور نہ اس کے لاکھوں قاریوں کے حاشیۂ خیال میں بھی گزرا ہو، اس کو مصنف کی طرف منسوب کرنا، آپ ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ دیانت و امانت کی کون سی قسم ہے؟

اور حضرتِ شیخؒ کے والد ماجدؒ کے واقعے کا سیّدنا عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے مقابلہ کرنا بھی حماقت و غباوت کی حد ہے۔ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا واقعہ ولادت کے ابتدائی اَیام کا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ پیدائش کے بعد حضرت مریم رضی اللہ عنہا بچے کو اُٹھائے ہوئے قوم میں آئیں، لوگوں نے دیکھے ہی چہ میگوئیاں شروع کیں اور حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے بارے میں ناشائستہ الفاظ کہے، ان کے جواب میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے بچے کی طرف اشارہ کردیا، تب حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

ﵟ قَالَ إِنِّي عَبۡدُ ٱللَّهِ ءَاتَىٰنِيَ ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلَنِي نَبِيّٗا ٣٠ وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيۡنَ مَا كُنتُ وَأَوۡصَٰنِي بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ مَا دُمۡتُ حَيّٗا ٣١ وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَتِي وَلَمۡ يَجۡعَلۡني جَبَّارٗا شَقِيّٗا ٣٢ وَٱلسَّلَٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدتُّ وَيَوۡمَ أَمُوتُ وَيَوۡمَ أُبۡعَثُ حَيّٗا ٣٣ ﵞ مريم ٣٠ و ٣٣

ترجمہ:۔ ’’وہ بچہ (خود ہی) بول اُٹھا کہ میں اللہ کا (خاص) بندہ ہوں، اس نے مجھ کو کتاب (یعنی اِنجیل) دی اور اس نے مجھ کو نبی بنایا (یعنی بنادے گا) اور مجھ کو برکت والا بنایا، میں جہاں کہیں بھی ہوں، اور اس نے مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا جب تک میں (دُنیا میں) زندہ رہوں اور مجھ کو میری والدہ کا خدمت گزار بنایا اور اس نے مجھ کو سرکش بدبخت نہیں بنایا، اور مجھ پر (اللہ کی جانب سے) سلام ہے جس روز میں پیدا ہوا، اور جس روز مروں گا، اور جس روز (قیامت) میں زندہ کرکے اُٹھایا جاؤں گا۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

کہاں طفل یک روزہ کا ایسی فصیح و بلیغ تقریر کرنا، اور کہاں دو سال کے بچے کا قرآنِ کریم کی چند سورتیں یاد کرلینا! کیا ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت ہے۔؟

تابش مہدی جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، لیکن اہلِ عقل جانتے ہیں کہ ڈیڑھ سال کا بچہ عموماً بولنے لگتا ہے، اب اگر چھ مہینے کی طویل مدّت میں حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ کے والد ماجدؒنے پاؤ پارہ یاد کرلیا تو اس میں تعجب کی کونسی بات ہے؟ اور اس کا موازنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزۂ تکلم فی المہد سے کرنا تابش مہدی جیسے غیرمعمولی ’’ذہین‘‘ لوگوں ہی کا کام ہوسکتا ہے، ورنہ کون عقل مند ہوگا جو دو ڈھائی سالہ بچے کے چند چھوٹی سورتیں یاد کرلینے کو ایک خارقِ عادت واقعہ اور معجزۂ عیسوی سے بالاتر اُعجوبہ سمجھنے لگے۔؟

۳:۔ حضرت ابنِ زبیر رضی اللہ عنہما کا واقعہ

تیسرے سوال کے تحت تابش مہدی نے جو کچھ لکھا ہے، اس کا تجزیہ کیا جائے تو دو بحثیں نکلتی ہیں۔ اوّل یہ کہ ابنِ زبیر اور ملک بن سنان رضی اللہ عنہما کے جو واقعات حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے ذکر فرمائے ہیں، وہ مستند ہیں یا نہیں؟ دُوسری بحث یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کا کیا حکم ہے، وہ پاک ہیں یا ناپاک؟

جہاں تک پہلی بحث کا تعلق ہے، اس سلسلے میں یہ گزارش ہے کہ یہ دونوں واقعے مستند ہیں، اور حدیث کی کتابوں میں سند کے ساتھ روایت کئے گئے ہیں۔

چنانچہ ابنِ زبیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ متعدّد سندوں کے ساتھ متعدّد صحابہ کرامؓ سے مروی ہے، حوالے کے لئے درج ذیل کتابوں کی مراجعت کی جائے:

مستدرک حاکم (ج:۳ ص:۵۵۴)، حلیۃ الاولیاء (ج:۱ ص:۳۳۰)، سننِ کبریٰ بیہقی (ج:۷ ص:۶۷)، کنز العمال بروایت ابنِ عساکر (ج:۱۳ ص:۴۶۹)، مجمع الزوائد بروایت طبرانی و بزار (ج:۸ ص:۲۷۰)، الاصابہ بروایت ابویعلیٰ والبیہقی فی الدلائل (ج:۲ ص:۳۱۰)، سیر اعلام النبلاء للذہبیؒ (ج:۳ ص:۳۶۶)، الخصائص الکبریٰ (ج:۲ ص:۲۵۲)۔(۱)

اب اس واقعے کے ثبوت کے بارے میں چند اکابر محدثین کی آراء ملاحظہ فرمائیں۔

اِمام بیہقی رحمہ اللہ سننِ کبریٰ (ج:۷ ص:۶۷) میں اس واقعے کو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللہُ: وَرُوِیَ ذٰلِکَ مِنْ وَجْہٍ اٰخَرَ عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ وَعَنْ سَلْمَانَ فِیْ شُرْبِ ابْنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ دَمَہٗ۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابنِ زبیر رضی اللہ عنہما کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خون پی جانے کا واقعہ حضرت اسماء بنت ابی بکر اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہم سے بھی متعدّد اسانید سے مروی ہے۔‘‘

حافظ نورالدین ہیثمیؒ مجمع الزوائد (ج:۸ ص:۲۷۰) میں اس واقعے کو خصائصِ نبوی کے باب میں درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’رَوَاہُ الطَّبَرَانِیُّ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِیْحِ غَیْرَ ھُنَیْدِ بْنِ الْقَاسِمِ وَھُوَ ثِقَۃٌ۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’یہ طبرانی اور بزار کی روایت ہے، اور بزار کے تمام راوی صحیح کے راوی ہیں، سوائے ہنید بن القاسم کے، اور وہ بھی ثقہ ہیں۔‘‘

حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے تلخیص مستدرک (ج:۳ ص:۵۵۴) میں اس پر سکوت کیا ہے، اور سیر اعلام النبلاء (ج:۳ ص:۳۶۶) میں لکھتے ہیں:

’’رَوَاہُ اَبُوْ یَعْلٰی فِیْ مُسْنَدِہٖ وَمَا عَلِمْتُ فِیْ ھُنَیْدٍ جَرْحَۃً۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’یہ حدیث اِمام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کی ہے اور ہنید راوی کے بارے میں کسی جرح کا علم نہیں۔‘‘

کنز العمال (ج:۱۳ ص:۴۶۹) میں اس کو ابنِ عساکر کے حوالے سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’رجالہ ثقات‘‘ (اس کے تمام راوی ثقہ ہیں)۔

مالک بن سنانؓ کا واقعہ:

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد ماجد حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ کا جو واقعہ حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے ’’قرۃ العیون‘‘ کے حوالے سے نقل کیا ہے، الاصابہ (ج:۳ ص:۳۴۶) میں یہ واقعہ ابنِ ابی عاصم، بغوی، صحیح ابن السکن اور سنن سعید بن منصور کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(۲)

تاریخ خمیس اور قرۃ العیون تو تابش مہدی ایسے اہلِ علم کے نزدیک غیرمستند اور گمراہ کن کتابیں ہیں، لیکن تابش مہدی سے دریافت کیجئے کہ حدیث کی مندرجہ بالا کتابیں اور یہ اکابر محدثینؒ، جن کا میں نے حوالہ دیا ہے، کیا وہ بھی ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ غیرمستند اور گمراہ کن ہیں؟ اور یہ بھی دریافت کیجئے کہ تابش مہدی اپنے جہل کی وجہ سے ان مشہور و معروف مآخذ سے ناواقف تھے یا ان کا رشتہ منکرینِ حدیث سے اُستوار ہے؟ کہ نہ انہیں کتبِ حدیث پر اِعتماد ہے، جن میں یہ واقعات متعدّد اسانید کے ساتھ تخریج کئے گئے ہیں، اور نہ ان اکابر محدثینؒ پر اِعتماد ہے جنھوں نے ان واقعات کی توثیق فرمائی ہے۔

دُوسری بحث فضلاتِ نبوی کا حکم:

’’جواب:۔میری گزشتہ تحریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اوّل تو معلوم کیا جائے کہ یہ واقعہ کسی مستند کتاب میں موجود ہے یا نہیں؟ دوم یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کے بارے میں اہلِ علم و اکابر اَئمہ دِین کی تحقیق کیا ہے؟ ان دو باتوں کی تحقیق کے بعد جو شبہات پیش آسکتے ہیں، ان کی توجیہ ہوسکتی ہے، اب ان دونوں نکتوں کی وضاحت کرتا ہوں۔

اَمرِ اوّل:۔ یہ کہ یہ واقعہ کسی مستند کتاب میں ہے یا نہیں؟ حافظ جلال الدین سیوطیؒ کی کتاب ’’خصائصِ کبریٰ‘‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی خصوصیات جمع کی گئی ہیں، اس کی دُوسری جلد کے صفحہ:۲۵۲ کا فوٹو آپ کو بھیج رہا ہوں، جس کا عنوان ہے: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خصوصیت کہ آپ کا بول و براز پاک تھا‘‘ اس عنوان کے تحت انہوں نے احادیث نقل کی ہیں، ان میں سے دو احادیث، جن کو میں نے نشان زد کردیا ہے، کا ترجمہ یہ ہے:

۱:۔ ابو یعلیٰ، حاکم، دارقطنی، طبرانی اور ابونعیم نے سند کے ساتھ حضرت اُمِّ ایمن رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت مٹی کے پکے ہوئے ایک برتن میں پیشاب کیا، پس میں رات کو اُٹھی، مجھے پیاس تھی، میں نے وہ پیالہ پی لیا، صبح ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: تجھے پیٹ کی تکلیف کبھی نہ ہوگی۔ اور ابویعلیٰ کی روایت میں ہے کہ آج کے بعد تم پیٹ کی تکلیف کی شکایت کبھی نہ کروگی۔

۲:۔ طبرانی اور بیہقی نے بسند صحیح حکیمہ بنت اُمیمہ سے اور انہوں نے اپنی والدہ حضرت اُمیمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لکڑی کا ایک پیالہ رہتا تھا، جس میں شب کو گاہ و بے گاہ پیشاب کرلیا کرتے تھے اور اسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ دیتے تھے، آپ ایک مرتبہ (صبح) اُٹھے، اس کو تلاش کیا تو وہاں نہیں ملا، اس کے بارے میں دریافت فرمایا، تو بتایا گیا کہ اس کو برہ نامی حضرت اُمِّ سلمہؓ کی خادمہ نے نوش کرلیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اس نے آگ سے بچاؤ کے لئے حصار بنالیا۔

یہ دونوں روایتیں مستند ہیں اور محدثین کی ایک بڑی جماعت نے ان کی تخریج کی ہے، اور اکابرِ اُمت نے ان واقعات کو بلانکیر نقل کیا ہے اور انہیں خصائصِ نبوی میں شمار کیا ہے۔

اَمرِ دوم:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کے بارے میں اکابرِ اُمت کی تحقیق:

۱:۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ، فتح الباری ’’بَابُ الْمَاءِ الَّذِیْ یُغْسَلُ بِہٖ شَعْرُ الْاِنْسَانِ‘‘ (ج:۱ ص:۲۷۲ مطبوعہ لاہور) میں لکھتے ہیں:

’’وَقَدْ تَکَاثَرَتِ الْاَدِلَّۃُ عَلٰی طَہَارَۃِ فَضَلَاتِہٖ، وَعَدَّ الْاَئِمَّۃُ ذٰلِکَ مِنْ خَصَائِصِہٖ فَلَا یُلْتَفُ اِلٰی مَا وَقَعَ فِیْ کُتُبِ کَثِیْرٍ مِّنَ الشَّافِعِیَّۃِ مِمَّا یُخَالِفُ ذٰلِکَ، فَقَدِ اسْتَقَرَّ الْاَمْرُ بَیْنَ اَئِمَّتِہِمْ عَلَی الْقَوْلِ بِالطَّہَارَۃِ۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کے پاک ہونے کے دلائل حدِ کثرت کو پہنچے ہوئے ہیں، اور اَئمہ نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں شمار کیا ہے، پس بہت سے شافعیہ کی کتابوں میں جو اس کے خلاف پایا جاتا ہے، وہ لائقِ اِلتفات نہیں، کیونکہ ان کے اَئمہ کے درمیان طہارت کے قول ہی پر معاملہ آن ٹھہرا ہے۔‘‘

۲:۔ حافظ بدرالدین عینیؒ نے عمدۃ القاری (ج:۲ ص: ۳۵ مطبوعہ دارالفکر بیروت) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کی طہارت کو دلائل سے ثابت کیا ہے، اور شافعیہ میں سے جو لوگ اس کے خلاف کے قائل ہیں، ان پر بلیغ رَدّ کیا ہے، اور جلد:۲ صفحہ:۷۹ میں حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بول اور باقی فضلات کی طہارت کا قول نقل کیا ہے۔(۳)

۳:۔ اِمام نوویؒ نے شرح مہذب (ج:۱ ص:۲۳۴) میں بول اور دیگر فضلات کے بارے میں شافعیہ کے دونوں قول نقل کرکے طہارت کے قول کو موجہ قرار دیا ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’حَدِیْثُ شُرْبِ الْمَرْاَۃِ الْبَوْلَ صَحِیْحٌ، رَوَاہُ الدَّارَقُطْنِیُّ، وَقَالَ: ھُوَ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ، وَھُوَ کَافٍ فِی الْاِحْتِجَاجِ لِکُلِّ الْفَضَلَاتِ قِیَاسًا ۔۔۔ اِلٰخ۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’عورت کے پیشاب پینے کا واقعہ صحیح ہے، اِمام دارقطنیؒ نے اس کو روایت کرکے صحیح کہا ہے، اور یہ حدیث تمام فضلات کی طہارت کے استدلال کے لئے کافی ہے۔‘‘

۴:۔ علامہ ابنِ عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:

’’صَحَّحَ بَعْضُ اَئِمَّۃِ الشَّافِعِیَّۃِ طَہَارَۃَ بَوْلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَائِرِ فَضَلَاتِہٖ، وَبِہٖ قَالَ اَبُوْ حَنِیْفَۃَ کَمَا نَقَلَہٗ فِی ’’الْمَوَاہِبِ اللَّدُنِّیَّۃِ‘‘ عَنْ شَرْحِ الْبُخَارِیِّ لِلْعَیْنِیِّ‘‘(ردّ المحتار ج:۱ ص:۲۱۸، مطبوعہ کراچی)

ترجمہ:۔ ’’بعض اَئمہ شافعیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بول اور باقی فضلات کی طہارت کو صحیح قرار دیا ہے، اِمام ابوحنیفہؒ بھی اسی کے قائل ہیں جیسا کہ مواہب لدنیہ میں علامہ عینیؒ کی شرحِ بخاری سے نقل کیا ہے۔‘‘

۵:۔ مُلَّا علی قاریؒ ’’جمع الوسائل شرح الشمائل‘‘ (ج:۲ ص:۲ مطبوعہ مصر ۱۳۱۷ھ) میں اس پر طویل کلام کے بعد لکھتے ہیں:

’’قَالَ ابْنُ حَجَرٍ: وَبِہٰذَا اسْتَدَلَّ جَمْعٌ مِّنْ اَئِمَّتِنَا الْمُتَقَدِّمِیْنَ وَغَیْرِہِمْ عَلٰی طَہَارَۃِ فَضَلَاتِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ الْمُخْتَارُ وِفَاقًا لِجَمْعٍ مِّنَ الْمُتَاَخِّرِیْنَ فَقَدْ تَکَاثَرَتِ الْاَدِلَّۃُ عَلَیْہِ وَعَدَّہُ الْاَئِمَّۃُ مِنْ خَصَائِصِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔‘‘ (جمع الوسائل شرح الشمائل ج:۲ ص:۲، مصر ۱۳۱۷ھ)

ترجمہ:۔ ’’ابنِ حجرؒ کہتے ہیں کہ: ہمارے اَئمہ متقدمین کی ایک جماعت اور دیگر حضرات نے ان احادیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کی طہارت پر استدلال کیا ہے، متأخرین کی جماعت کی موافقت میں بھی مختار ہے، کیونکہ اس پر دلائل بہ کثرت ہیں اور اَئمہ نے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں شمار کیا ہے۔‘‘

۶:۔ اِمام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:

’’ثُمَّ مَسْاَلَۃُ طَہَارَۃِ فَضَلَاتِ الْاَنْبِیَاءِ تُوْجَدُ فِیْ کُتُبِ الْمَذَاھِبِ الْاَرْبَعَۃِ۔‘‘ (فیض الباری ج:۱ ص:۲۵۰)

ترجمہ:۔ ’’فضلاتِ انبیاء کی طہارت کا مسئلہ مذاہبِ اَربعہ کی کتابوں میں موجود ہے۔‘‘

۷:۔ محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ لکھتے ہیں:

’’وَقَدْ صَرَّحَ اَهْلُ الْمَذَاھِبِ الْاَرْبَعَةِ بِطَهَارَةِ فَضَلَاتِ الْاَنْبِیَاءِ ۔۔۔ اِلٰخ۔‘‘ (معارف السنن ج:۱ ص:۹۸)

ترجمہ:۔ ’’مذاہبِ اَربعہ کے حضرات نے فضلاتِ انبیاء کے پاک ہونے کی تصریح کی ہے۔‘‘

الحمدللہ! ان دونوں نکتوں کی وضاحت تو بقدرِ ضرورت ہوچکی، یہ واقعہ مستند ہے، اور مذاہبِ اَربعہ کے اَئمہ فقہاء نے ان احادیث کو تسلیم کرتے ہوئے فضلاتِ انبیاء علیہم السلام کی طہارت کا قول نقل کیا ہے، اس کے بعد اگر اعتراض کیا جائے تو اس کو ضعفِ اِیمان ہی کہا جاسکتا ہے۔

اب ایک نکتہ محض تبرّعاً لکھتا ہوں، جس سے یہ مسئلہ قریب الفہم ہوجائے گا۔ حق تعالیٰ شانہ کے اپنی مخلوق میں عجائبات ہیں، جن کا ادراک بھی ہم لوگوں کے لئے مشکل ہے، اس نے اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے بعض اَجسام میں ایسی محیر العقول خصوصیات رکھی ہیں جو دُوسرے اجسام میں نہیں پائی جاتیں۔ وہ ایک کیڑے کے لعاب سے ریشم پیدا کرتا ہے، شہد کی مکھی کے فضلات سے شہد جیسی نعمت ایجاد کرتا ہے، اور پہاڑی بکرے کے خون کو نافہ میں جمع کرکے مشک بنادیتا ہے، اگر اس نے اپنی قدرت سے حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسامِ مقدّسہ میں بھی ایسی خصوصیات رکھی ہوں کہ غذا ان کے اَبدانِ طیبہ میں تحلیل ہونے کے بعد بھی نجس نہ ہو بلکہ اس سے جو فضلات ان کے اَبدان میں پیدا ہوں وہ پاک ہوں، تو کچھ جائے تعجب نہیں، اہلِ جنت کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ کھانے پینے کے بعد ان کو بول و براز کی ضرورت نہ ہوگی، خوشبودار ڈکار سے سب کھایا پیا ہضم ہوجائے گا، اور بدن کے فضلات خوشبودار پسینے میں تحلیل ہوجائیں گے، جو خصوصیت کہ اہلِ جنت کے اَجسام کو وہاں حاصل ہوگی، اگر حق تعالیٰ شانہ حضراتِ انبیائے کرام علیہم الصلوٰت والتسلیمات کے پاک اَجسام کو وہ خاصیت دُنیا ہی میں عطا کردیں تو بجا ہے، پھر جبکہ احادیث میں اس کے دلائل بہ کثرت موجود ہیں، جیسا کہ اُوپر حافظ ابنِ حجرؒ کے کلام میں گزرچکا ہے، تو انبیائے کرام علیہم السلام کے اَجسام کو اپنے اُوپر قیاس کرکے ان کا انکار کردینا، یا ان کے تسلیم کرنے میں تأمل صحیح نہیں۔‘‘

اور اس پر چند مزید حوالوں کا اضافہ کرتا ہوں:

۱:۔ اِمام بیہقیؒ نے سننِ کبریٰ میں کتاب النکاح کے ذیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند خصائص ذکر کئے ہیں، اسی سلسلے میں ایک باب کا عنون ہے:

’’بَابُ تَرْکِہِ الْاِنْکَارَ عَلٰی مَنْ شَرِبَ بَوْلَہٗ وَدَمَہٗ‘‘ (ج:۷ ص:۶۷ طبع دار المعرفۃ)

ترجمہ:۔ ’’جن حضرات نے آپ کا بول و دَم پیا، ان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ کرنا۔‘‘

اور اس کے تحت تین واقعات سند کے ساتھ ذکر کئے ہیں، حضرت اُمیمہؓ کا واقعہ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کا واقعہ اور حضرت سفینہؓ کا واقعہ۔(۴)

۲:۔ اُوپر ذکر کرچکا ہوں کہ اِمام حافظ نورالدین ہیثمیؒ نے بھی مجمع الزوائد میں ان واقعات کو خصائصِ نبوی میں ذکر کیا ہے۔

۳:۔ اور حافظ جلال الدین سیوطیؒ نے خصائصِ کبریٰ میں یہ واقعات درج ذیل عنوان کے تحت ذکر فرمائے ہیں:

’’بَابُ اخْتِصَاصِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِطَہَارَۃِ دَمِہٖ وَبَوْلِہٖ وَغَائِطِہٖ‘‘

ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خصوصیت کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات پاک تھے۔‘‘

۴:۔ فقہِ شافعی کی کتاب ’’نہایۃ المحتاج‘‘ (ج:۱ ص:۲۴۲) میں ہے:

’’وَشَمَلَ کَلَامُہٗ نَجَاسَۃَ الْفَضَلَاتِ مِنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ مَا صَحَّحَاہُ وَحَمَلَ الْقَائِلُ بِذٰلِکَ الْاَخْبَارَ الَّتِیْ یَدُلُّ ظَاہِرُھَا لِلطَّہَارَۃِ کَعَدَمِ اِنْکَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شُرْبَ اُمِّ اَیْمَنَ بَوْلَہٗ عَلَی التَّدَاوِیْ، لٰکِنْ جَزَمَ الْبَغَوِیُّ وَغَیْرُہٗ بِطَہَارَتِہَا، وَصَحَّحَہٗ الْقَاضِیْ وَغَیْرُہٗ، وَنَقَلَہُ الْعِمْرَانِیُّ عَنِ الْخُرَاسَانِیِّیْنَ، وَصَحَّحَہُ السُّبْکِیُّ وَالْبَارِزِیُّ وَالزَّرْکَشِیُّ، وَقَالَ ابْنُ الرِّفْعَۃِ: اِنَّہُ الَّذِیْ اعْتَقَدَہٗ وَاَلْقَی اللہَ بِہٖ، وَقَالَ الْبُلْقِیْنِیُّ: اِنَّ بِہِ الْفَتْوٰی، وَصَحَّحَہُ الْقَایَانِیُّ، وَقَالَ: اِنَّہُ الْحَقُّ، وَقَالَ الْحَافِظُ بْنُ حَجَرٍ: تَکَاثَرَتِ الْاَدِلَّۃُ عَلٰی ذٰلِکَ وَعَدَّہُ الْاَئِمَّۃُ فِیْ خَصَائِصِہٖ، فَلَا یُلْتَفَتُ اِلٰی خِلَافِہٖ، وَاِنْ وَقَعَ فِیْ کُتُبِ کَثِیْرٍ مِّنَ الشَّافِعِیَّۃِ، فَقَدِ اسْتَقَرَّ الْاَمْرُ مِنْ اَئِمَّتِہِمْ عَلَی الْقَوْلِ بِالطَّہَارَۃِ، اِنْتَہٰی، وَاَفْتٰی بِہِ الْوَالِدُ رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی وَھُوَ الْمُعْتَمَدُ۔‘‘(نہایۃ المحتاج ج:۱ ص:۲۴۲)

ترجمہ:۔ ’’اور مصنفؒ کا کلام شامل ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کو، اور دونوں حضرات (یعنی رافعیؒ اور نوویؒ) نے اس قول کی تصحیح کی ہے، اور جو لوگ اس کے قائل ہیں انہوں نے ان احادیث کو جو بظاہر طہارت پر دلالت کرتی ہیں، جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمِّ ایمن کے شربِ بولِ پر نکیر نہ کرنا، ان کو علاج پر محمول کیا ہے، لیکن اِمام بغویؒ وغیرہ نے قطعیت کے ساتھ فضلاتِ نبوی کو پاک قرار دیا ہے، اور قاضی وغیرہ نے اسی کو صحیح کہا ہے، اور عمرانی نے خراسانیوں سے اس کو نقل کرکے صحیح قرار دیا ہے، اور اِمام سبکیؒ، بارزیؒ اور زرکشی نے اسی کو صحیح قرار دیا، ابنِ رفعہؒ فرماتے ہیں کہ: میں یہی عقیدہ رکھتا ہوں اور اسی پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گا، علامہ بلقینیؒ فرماتے ہیں کہ: اسی پر فتویٰ ہے، اور قایانی ؒ نے اسی کو صحیح کہا ہے اور فرمایا ہے کہ: یہی حق ہے، اور حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کہ: اس پر دلائل بہ کثرت ہیں، اور اَئمہ نے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں شمار کیا ہے، پس اس کے خلاف کا قول لائقِ اِلتفات نہیں، اگرچہ وہ بہت سے شافعیہ کی کتابوں میں درج ہوا ہے، کیونکہ اَئمہ شافعیہ کے نزدیک معاملہ طہارت کے قول پر آٹھہرا ہے۔ میرے والد ماجد (شیخ شہاب الدین رملی) رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسی پر فتویٰ دیا ہے اور یہی لائقِ اِعتماد ہے۔‘‘

۵:۔ اور فقہِ شافعی کی کتاب ’’مغنی المحتاج‘‘ (ج:۱ ص:۷۹) میں ہے:

’’وَھٰذِہِ الْفَضَلَاتُ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَاہِرَۃٌ کَمَا جَزَمَ بِہِ الْبَغَوِیُّ وَغَیْرُہٗ، وَصَحَّحَہُ الْقَاضِیْ وَغَیْرُہٗ، وَاَفْتٰی بِہٖ شَیْخِیْ خِلَافًا لِّمَا فِی الشَّرْحِ الصَّغِیْرِ، وَالتَّحْقِیْقُ مِنَ النَّجَاسَۃِ لِاَنَّ بَرَکَۃَ الْحَبْشِیَّۃَ شَرِبَتْ بَوْلَہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ’’لَنْ تَلِجَ النَّارُ بَطْنَکِ‘‘ صَحَّحَہُ الدَّارَقُطْنِیُّ، وَقَالَ اَبُوْ جَعْفَرٍ التِّرْمِذِیُّ: دَمُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَاہِرٌ، لِاَنَّ اَبَا طَیْبَۃَ شَرِبَہٗ وَفَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ ابْنُ الزُّبَیْرِ وَھُوَ غُلَامٌ حِیْنَ اَعْطَاہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَمَ حِجَامَتِہٖ لِیَدْفِنَہٗ فَشَرِبَہٗ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ خَالَطَ دَمُہٗ دَمِیْ لَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔‘‘ (مغنی المحتاج ج:۱ ص:۷۹)

ترجمہ:۔ ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فضلات پاک تھے، جیسا کہ اِمام بغویؒ وغیرہ نے قطعیت کے ساتھ یہ فیصلہ فرمایا ہے، اور قاضیؒ وغیرہ نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے، اور میرے شیخ (شہاب رملیؒ) نے اسی پر فتویٰ دیا ہے، بخلاف اس کے جو شرح صغیر اور تحقیق میں نجاست کا قول ذکر کیا ہے، کیونکہ برکہ حبشیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بول نوش کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’تیرا پیٹ آگ میں داخل نہ ہوگا‘‘ اس حدیث کو اِمام دارقطنیؒ نے صحیح کہا ہے، ابوجعفر ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پاک تھا، کیونکہ ابوطیبہ رضی اللہ عنہ نے اس کو نوش کیا اور حضرت ابنِ زبیرؓ نے بھی یہی کیا جبکہ وہ نوعمر لڑکے تھے، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگیاں لگواکر ان کو وہ خون دفن کرنے کے لئے دیا تو انہوں نے پی لیا، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: جس کے خون میں میرا خون مل گیا اس کو آتشِ دوزخ نہیں پہنچے گی۔‘‘

۶:۔ فقہِ مالکی کی کتاب ’’منح الجلیل شرح مختصر الخلیل‘‘ (ج:۱ ص:۵۴) میں ہے:

’’اِلَّا الْاَنْبِیَاءَ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ فَضَلَتُہُمْ طَاھِرَۃٌ وَلَوْ قَبْلَ بَعْثَتِہِمْ لِاصْطِفَائِہِمْ وَاسْتِنْجَاؤُھُمْ کَانَ لِلتَّنْظِیْفِ وَالتَّشْرِیْعِ۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’(آدمی کے فضلات ناپاک ہیں) سوائے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے، کہ ان کے فضلات پاک ہیں، خواہ ان کی بعثت سے قبل ہو، بوجہ ان کے برگزیدہ ہونے کے، اور ان کا اِستنجا کرنا تنظیف وتشریع کے لئے تھا۔‘‘

اکابرِ اُمت کی اس قسم کی تصریحات بے شمار ہیں، ان کے مقابلے میں تابش مہدی جیسے لوگوں کی رائے کی کیا قیمت ہے؟ اس کا فیصلہ ہر شخص کرسکتا ہے!

اور جب یہ معلوم ہوچکا کہ طہارتِ فضلات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی خصوصیت ہے جس پر بقول حافظ الدنیا ابنِ حجرؒ ’’بہ کثرت دلائل جمع ہیں‘‘ اور مذاہبِ اَربعہ کے اَئمہ و محققین اس کے قائل ہیں، تو اس مسئلے پر عمومات سے استدلال کرنا صحیح نہیں، بلکہ قادیانیوں کی سی جہل آمیز حرکت ہے، وہ لوگ بھی عمومات سے استدلال کرکے حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ والصلوٰۃ والسلام کی خصوصیت، بن باپ پیدائش اور رفعِ آسمانی کا انکار کیا کرتے ہیں۔ افسوس ہے کہ تابش مہدی بھی بزعمِ خود قرآن سے استدلال کرتے ہوئے جہلِ مرکب کے اسی گڑھے میں گر رہے ہیں، جس میں ان سے پہلے بہت لوگ گرچکے ہیں۔

۴:۔ ہزار رکعت پڑھنے کا واقعہ:

حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے ایک بزرگ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ وہ ایک ہزار رکعت کھڑے ہوکر اور ایک ہزار رکعت بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ تابش مہدی ہمیں منٹوں کا حساب لگاکر بتاتے ہیں کہ چوبیس گھنٹے کے محدود وقت میں یہ کیونکر ممکن ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ حضراتِ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور حضراتِ اولیاء اللہ کی کرامات کے واقعات کو محض عقلی ڈھکوسلوں اور ریاضی کے حسابات کے ذریعہ جھٹلانا عقل مندی نہیں، بلکہ عقلیت کا ہیضہ ہے۔

مسلمان جس طرح انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات کو برحق مانتے ہیں، اسی طرح ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ:

’’کَرَامَاتُ الْاَوْلِیَاءِ حَقٌّ‘‘ (شرح عقائد نسفی ص: ۱۴۴)

ترجمہ:۔’’اولیاء اللہ کی کرامات برحق ہیں۔‘‘

جو خارقِ عادت اَمر کسی نبیٔ برحق کے ہاتھ پر ظاہر ہو، وہ ’’معجزہ‘‘ کہلاتا ہے، اور جو کسی ولی اللہ کے ہاتھ پر ظاہر ہو اسے ’’کرامت‘‘ کہا جاتا ہے۔

اِمامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ ’’الفقہ الاکبر‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’وَالْاٰیَاتُ لِلْاَنْبِیَاءِ وَالْکَرَامَاتُ لِلْاَوْلِیَاءِ حَقٌّ‘‘ (الفقہ الأکبر مع شرحہ ص:۹۵)

ترجمہ:۔ ’’انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات و نشانات اور اولیاء کی کرامتیں برحق ہیں۔‘‘

شیخ علی قاریؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’وَالْاٰیَاتُ اَیْ خَوَارِقُ الْعَادَاتِ الْمُسَمَّاةُ بِالْمُعْجِزَاتِ لِلْاَنْبِیَاءِ وَالْکَرَامَاتُ لِلْاَوْلِیَاءِ حَقٌّ اَیْ ثَابِتٌ بِالْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَلَا عِبْرَۃَ بِمُخَالَفَۃِ الْمُعْتَزِلَۃِ وَاَهْلِ الْبِدْعَۃِ فِیْ اِنْکَارِ الْکَرَامَۃِ، وَالْفَرْقُ بَیْنَہُمَا اَنَّ الْمُعْجِزَۃَ اَمْرٌ خَارِقٌ لِّلْعَادَۃِ کَاِحْیَاءِ مَیِّتٍ وَاِعْدَامِ جَبَلٍ عَلٰی وَفْقِ التَّحَدِّیْ وَهُوَ دَعْوَی الرِّسَالَۃِ ۔۔۔ وَالْکَرَامَۃُ خَارِقٌ لِّلْعَادَۃِ اِلَّا اَنَّھَا غَیْرُ مَقْرُوْنَۃٍ بِالتَّحَدِّیْ وَهُوَ کَرَامَۃٌ لِّلْوَلِیِّ وَعَلَامَۃٌ لِّصِدْقِ النَّبِیِّ فَاِنَّ کَرَامَۃَ التَّابِعِ کَرَامَۃُ الْمَتْبُوْعِ۔‘‘ (شرح فقہ اکبر ص:۹۵، مطبوعہ مجتبائی دہلی، ۱۳۴۸ھ)

ترجمہ:۔ ’’انبیاء علیہم السلام کی آیات یعنی وہ خارقِ عادت اُمور جن کو معجزات کہا جاتا ہے اور اولیاء کی کرامات برحق ہیں، اور معتزلہ اور اہلِ بدعت جو کرامت کے منکر ہیں، ان کی مخالفت کا کوئی اعتبار نہیں اور معجزہ و کرامت کے درمیان فرق یہ ہے کہ ’’معجزہ‘‘ وہ خارقِ عادت اَمر ہے جو بطور تحدی یعنی دعوائے رسالت و نبوّت کے ساتھ ہو، جیسے کسی مردے کو زندہ کردینا، یا کسی جماعت کو ہلاک کردینا، اور ’’کرامت‘‘ خارقِ عادت اَمر کو کہتے ہیں، مگر وہ تحدی کے ساتھ مقرون نہیں ہوتی اور (ایسا خارقِ عادت، جو کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو) وہ ولی کی کرامت ہے اور اس کے متبوع نبی کے سچا ہونے کی علامت ہے، کیونکہ جو چیز تابع کے لئے موجبِ شرف و کرامت ہو، وہ اس کے متبوع کے لئے بھی شرف و کرامت ہے۔‘‘

اِمام طحاویؒ اپنے عقیدہ میں (جو تمام اہلِ سنت کے یہاں مُسلَّم ہے) لکھتے ہیں:

’’وَنُؤْمِنُ بِمَا جَاءَ مِنْ کَرَامَتِہِمْ وَصَحَّ عَنِ الثِّقَاتِ مِنْ رِوَایَتِہِمْ‘‘(العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۴، طبع دار المعارف الْإسلامیۃ، بلوچستان)

ترجمہ:۔ ’’اور اولیاء اللہ کی کرامت کے جو واقعات منقول ہیں، اور ثقہ راویوں کی روایات سے صحیح ثابت ہیں، ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

اس کے حاشیہ میں شیخ محمد بن مانع لکھتے ہیں:

’’کَرَامَاتُ الْاَوْلِیَاءِ حَقٌّ ثَابِتَۃٌ بِالْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ وَھِیَ مُتَوَاتِرَۃٌ لَّا یُنْکِرُھَا اِلَّا اَھْلُ الْبِدَعِ کَالْمُعْتَزِلَۃِ وَمَنْ نَحَا نَحْوَھُمْ مِّنَ الْمُتَکَلِّمِیْنَ، وَقَدْ ضَلَّلَ اَھْلُ الْحَقِّ مَنْ اَنْکَرَھَا، لِاَنَّہٗ بِاِنْکَارِہٖ صَادَمَ الْکِتَابَ وَالسُّنَّۃَ وَمَنْ عَارَضَھُمَا وَصَادَمَھُمَا بِرَاْیِہِ الْفَاسِدِ وَعَقْلِہِ الْکَاسِدِ فَہُوَ ضَالٌّ مُّبْتَدِعٌ۔‘‘ (العقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۴، مطبوعہ دائرۃ المعارف الاسلامیۃ، آسیاآباد، بلوچستان)

ترجمہ:۔ ’’اولیاء اللہ کی کرامتیں برحق ہیں، کتاب و سنت سے ثابت ہیں، اور یہ متواتر ہیں، ان کے منکر صرف اہلِ بدعت ہیں جیسے معتزلہ قسم کے متکلمین، اور اہلِ حق منکرِ کرامات کو گمراہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے اس انکار سے کتاب و سنت سے ٹکراتا ہے، اور جو شخص اپنی فاسد رائے اور کھوٹی عقل کے ذریعہ کتاب و سنت سے ٹکراؤ اور مقابلہ کرے، وہ گمراہ اور مبتدع ہے۔‘‘

عقیدہ نسفیہ میں اولیاء اللہ کی کرامات کی مثالیں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’وَکَرَامَاتُ الْاَوْلِیَاءِ حَقٌّ فَتَظْھَرُ الْکَرَامَۃُ عَلٰی طَرِیْقِ نَقْضِ الْعَادَۃِ لِلْوَلِیِّ مِنْ قَطْعِ الْمَسَافَۃِ الْبَعِیْدَۃِ فِی الْمُدَّۃِ الْقَلِیْلَۃِ وَظُھُوْرِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَاللِّبَاسِ عِنْدَ الْحَاجَۃِ وَالْمَشْیِ عَلَی الْمَاءِ وَالطَّیَرَانِ فِی الْھَوَاءِ وَکَلَامِ الْجَمَادِ وَالْعَجْمَاءِ وَانْدِفَاعِ الْمُتَوَجِّہِ مِنَ الْبَلَاءِ وَکِفَایَۃِ الْمُھِمِّ عَنِ الْاَعْدَاءِ وَغَیْرِ ذٰلِکَ مِنَ الْاَشْیَاءِ۔‘‘(شرح عقائد نسفی ص:۱۴۴، وما بعد)

ترجمہ:۔ ’’اور اولیاء اللہ کی کرامات برحق ہیں، پس ولی کے لئے بطور خرقِ عادت کے کرامت ظاہر ہوتی ہے، مثلاً: قلیل مدّت میں طویل مسافت طے کرلینا، بوقتِ حاجت غیب سے کھانے، پانی اور لباس کا ظاہر ہوجانا، پانی پر چلنا، ہوا میں اُڑنا، جمادات و حیوانات کا گفتگو کرنا، آنے والی مصیبت کا ٹل جانا، دُشمنوں کے مقابلے میں مہمات کی کفایت ہونا وغیرہ وغیرہ۔‘‘

معجزہ و کرامت کی ایک صورت یہ ہے کہ معمولی کھانا یا پانی بہت سے لوگوں کو کافی ہوجائے، احادیث میں اس کے متعدّد واقعات مذکور ہیں، اور اولیاء اللہ کے سوانح میں بھی یہ چیز تواتر کے ساتھ منقول ہے، اور جس طرح معجزہ و کرامت کے طور پر کھانے پینے کی چیز میں خارقِ عادت برکت ہوجاتی ہے، اسی طرح وقت میں بھی ایسی خارقِ عادت برکت ہوجاتی ہے کہ عقل و قیاس کے تمام پیمانے ٹوٹ جاتے ہیں، ایسی خارق عادت برکت کی ایک مثال معراج شریف کا واقعہ ہے۔

چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب معراج پر تشریف لے گئے تو طویل مسافت طے کرکے پہلے مکہ مکرّمہ سے بیت المقدس پہنچے، وہاں انبیائے کرام علیہم السلام کی اِمامت فرمائی، پھر وہاں سے آسمانوں پر تشریف لے گئے اور آسمانوں سے بھی اُوپر لامکاں تک پہنچے، جنت و دوزخ کی سیر فرمائی، اب اگر ان تمام اُمور کو عقل و قیاس کے پیمانوں سے ناپا جائے تو ان واقعاتِ معراج کے لئے اربوں کھربوں سال کا عرصہ درکار ہے، لیکن قدرتِ خداوندی سے یہ سب کچھ رات کے ایک حصے میں ہوا، اسی طرح اگر بطور خرقِ عادت اللہ تعالیٰ نے کسی مقبول بندے کے اوقات میں غیرمعمولی برکت فرمادی ہو اور اس نے محدود وقت میں دو ہزار رکعتیں پڑھ لی ہوں، تو محض عقلی موشگافیوں کے ذریعے انکار وہی شخص کرسکتا ہے جو انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات کا اور حضراتِ اولیاء اللہ رحمہم اللہ کی کرامات کا منکر ہے، اور جیسا کہ اُوپر معلوم ہوا ایسا شخص زمرۂ اہلِ سنت سے خارج ہے۔

جناب تابش مہدی صاحب بزعمِ خود جرح و تعدیل کے اسلحے سے مسلح ہوکر حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ کے خلاف نبرد آزمائی کے لئے نکلے تھے، لیکن حضرتِ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ کی کرامت دیکھئے کہ وہ راہ بھول کر اہلِ باطل اور اہلِ بدعت کی صف میں جاکھڑے ہوئے:

وہ شیفتہ کہ دُھوم تھی حضرت کے زُہد کی!

میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے؟

حضرت اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر بہت سے اکابر کے کثرتِ عبادت کے واقعات تواتر کے ساتھ منقول ہیں، لیکن بہت سے عقلیت گزیدہ حضرات تابش مہدی کی طرح ان کو محض اپنی عقل کے زور سے رَدّ کیا کرتے ہیں، اور شاید یہ بیچارے اپنی ذہنی و فکری پرواز کے لحاظ سے معذور بھی ہیں، کیونکہ:

’’فکر ہر کس بقدرِ ہمت اوست‘‘

شپرہ چشم اگر آفتاب کے وجود کا انکار کرے تو اس کو معذور سمجھنا چاہئے، لیکن جن لوگوں کو معلوم ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کا معاملہ ان کے خاص بندوں کے ساتھ وہ نہیں ہوتا، جو ہم جیسوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے، وہ ایسے واقعات کے اِنکار کی جرأت نہیں کرتے!

  1. (۱) إبراھیم بن عصیّہ ۔۔۔ قال سمعت عامر بن عبداللہ بن الزبیر یحدث إن أباہ حدثہ أنہ أتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وھو یحتجم فلما فرغ قال: یا عبداللہ! اذھب بھٰذا الدم فأھرقہ حیث لَا یراک أحد، فلما برزت عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمدت إلی الدم فحسوتہ فلما رجعت إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ما صنعت یا عبداللہ؟ قال: جعلتہ فی مکان ظننت انہ خاف علی الناس ۔۔۔إلخ۔ (مستدرک حاکم ج:۳ ص:۵۵۴، کتاب معرفۃ الصحابۃ، طبع دار الکتب العربی، بیروت، وأیضًا فی حلیۃ الأولیاء ج:۱ ص:۳۳۰، عبداللہ بن الزبیر ۴۶، طبع دار الکتب العلمیۃ، سنن الکبریٰ للبیھقی ج:۷ ص:۶۷ باب ترکہ الْإنکار علٰی من شرب بولہ ودمہ، طبع دار المعرفۃ بیروت، کنز العمال بروایت ابن عساکر ج:۱۳ ص:۴۶۹، عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ، رقم الحدیث:۳۷۲۲۳، طبع مؤسسۃ الرسالۃ، مجمع الزوائد بروایت طبرانی وبزار ج:۸ ص:۲۷۰، دلَائل النبوۃ للبیھقی ج:۲ ص:۳۱۰، سیر أعلام النبلاء ج:۳ ص:۳۶۶، الخصائص الکبریٰ ج:۲ ص:۳۵۲)۔
  2. (۲) مالک بن سنان بن عبید بن ثعلبۃ الأنصار الخدری والد أبی سعید ۔۔۔ وروی ابن أبی عاصم والبغوی من طریق موسٰی بن محمد بن علی الأنصاری ۔۔۔ قال أصیب وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاستقبلہ مالک بن سنان فمص الدم عن وجھہ ثم ازدردہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ینظر إلٰی من خالطہ دمہ دمی فلینظر إلٰی مالک بن سنان، وأخرجہ ابن السکن من وجہ آخر من روایۃ مصعب بن الأسقع عن ربیح بن عبدالرحمٰن عن أبی سعید عن أبیہ عن أبی سعید بنحوہ، وأخرج سعید بن منصور عن ابن وھب عن عمرو بن الحرث عن عمرو بن السائب أنہ بلغہ أن مالکا والد أبی سعید فذکر نحوہ۔ (الْإصابۃ فی تمییز الصحابۃ ج:۳ ص:۳۴۵،۳۴۶ حرف المیم، القسم الأوّل، طبع دار صادر)۔
  3. (۳) وقال بعض شراح البخاری فی بولہ ودمہ وجھان والألیق الطھارۃ وذکر القاضی حسین فی العذرۃ وجھین وأنکر بعضھم علی الغزالی وحکایتھما فیھا وزعم نجاستھا بالْإتفاق قلت یا للغزالی من ھفوات حتّٰی فی تعلقات النبی علیہ الصلاۃ والسلام وقد وردت أحادیث کثیرۃ ان جماعۃ شربوا دم النبی صلی اللہ علیہ وسلم منھم أبو طیبۃ الحاجم، وغلام من قریش حجم النبی علیہ الصلاۃ والسلام وعبداللہ بن الزبیر شرب دم النبی علیہ الصلاۃ والسلام رواہ البزار والطبرانی والحاکم والبیھقی وأبو نُعیم فی الحلیۃ ویروی عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ انہ شرب دم النبی علیہ الصلاۃ والسلام وروی أیضًا ان اُمّ أیمن شربت بول النبی علیہ الصلاۃ والسلام رواہ الحاکم والدارقطنی والطبرانی وأبو نُعیم وأخرج الطبرانی فی الأوسط فی روایۃ سلمی إمرأۃ أبی رافع انھا شربت بعض ماء غسل بہ رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام فقال لھا: حرم اللہ بدنک علی النار۔ (عمدۃ القاری ج:۲ ص:۳۵، باب الماء الذی یغسل بہ شعر الْإنسان، طبع دار الفکر بیروت)۔ وأیضًا: ولئن سلمنا ان المراد ھو الماء الذی یتقاطر من أعضائہ الشریفۃ فأبوحنیفۃ ینکر ھٰذا ویقول بنجاسۃ ذاک حاشاہ منہ وکیف یقول ذالک وھو یقول بطھارۃ بولہ وسائر فضلاتہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (عمدۃ القاری ج:۲ ص:۷۹ باب إستعمال فضل وضوء الناس، طبع دار الفکر بیروت)۔
  4. (۴) (عن) حکیمۃ بنت امیمۃ عن امیمۃ أمّھا أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یبول فی قدح من عیدان، ثم وضع تحت سریرہ فبال، فوضع تحت سریرہ، فجاء، فأرادہ، فإذا القدح لیس فیہ شیء فقال لِامرأۃ یقال لھا برکۃ کانت تخدمہ لأمّ حبیبۃ جائت معھا من أرض الحبشۃ: أین البول الذی کان فی ھٰذا القدح؟ قالت: شربتہ یا رسول اللہ! قال (أی القاسم) سمعت عامر بن عبداللہ بن الزبیر یحدث عن أبیہ قال: إحتجم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وأعطانی دمہ وقال: إذھب فَوَرِہْ لَا یبحث عنہ سبع أو کلب أو إنسان، قال: فتنحیت فشربتہ، ثم أتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ما صنعت؟ قلت: صنعت الذی أمرتنی! قال: ما أراک إلّا قد شربتہ؟ قلت: نعم! وروی عن سفینۃ أنہ شربہ ۔۔۔ (عن) سفینۃ عن جدہ قال: إحتجم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثم قال لی: خذ ھٰذا الدم فادفنہ من الدواب والطیر، أو قال الناس والدواب، شک ابن أبی فدیک، قال: فتغیبت بہ فشربتہ، قال: ثم سألنی فأخبرتہ أنی شربتہ، فضحک۔ (سنن الکبریٰ للبیھقی ج:۷ ص:۶۷ باب ترکہ الْإنکار علٰی من شرب بولہ ودمہ، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔