بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تبلیغِ‌دِین

دُوسروں‌کی‌اِصلاح‌کی‌فکر‌کرنے‌میں‌لوگوں‌کے‌طعنے

سوال:۔

میں ارکانِ اسلام کی پابندی کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ دُوسروں کو بھی اچھی بات بتاؤں، لیکن جواب میں مجھے طعنے دئیے جاتے ہیں، اِنفرادی اور اِجتماعی طور پر مجھے کیا کرنا چاہئے؟

جواب:۔

آپ کے اِیمانی جذبات لائقِ قدر ہیں، مگر چند باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے:

۱:۔ قیامت کے دن ہر شخص سے اس کے اعمال واخلاق کا سوال ہوگا، اس لئے سب سے اہم ترین فرض یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔

۲:۔ دُوسروں کو دِینِ حق کی دعوت دینا بھی ضروری ہے، لیکن دعوت کے اُصول کو سیکھنا اور ان کی مشق کرنا لازم ہے، انبیائے کرام علیہم السلام کا حوصلہ دیکھئے! لوگوں نے ان کو کیا کیا نہیں کہا، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے سب کچھ برداشت کیا۔

۳:۔ ہر مسلمان کی اِصلاح کی فکر کرنی چاہئے، لیکن ساری دُنیا انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت سے نہیں مانی، اس لئے منوانے کی فکر چھوڑ دینی چاہئے۔

۴:۔ اہلِ بدعت سے نفرت، علامتِ اِیمان میں سے ہے، لیکن اس میں بھی حدِ اِعتدال سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔