تبلیغِدِین
کیاموجودہتبلیغیجماعتکاکورسبدعتہے؟
سوال:۔
زید کہتا ہے کہ وہ بات جو دِین نئی پیدا کی گئی ہو بدعت ہے، اس تعریف کی رُو سے مولانا محمد اِلیاسؒ کی تبلیغی جماعت کے موجودہ طریقۂ کار یعنی زندگی میں چار ماہ، سال میں چالیس دِن، ہر ماہ میں سہ روزہ، اور شبِ جمعہ وغیرہ بھی بہت ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدینؓ اور دُوسرے صحابہ کرامؓ نیز تابعینؒ اور متقدمینؒ بزرگوں کے ہاں تبلیغ کا یہ مخصوص کورس کہیں بھی نہیں ملتا، اور پھر اس مخصوص کورس پر تبلیغی حضرات کا نہایت ہی پابندی سے عمل کرنا، کیا یہ کورس بدعت نہیں ہے؟ زید کہتا ہے کہ اس نے ایک ثقہ راوی سے سنا ہے کہ مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند اور مولانا اسعد مدنی ابن مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے بھی اس جماعت کو ناپسند فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ زید مولانا عبدالسلام صاحب (آف نوشہرہ) خلیفہ خاص حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’’شاہراہِ تبلیغ‘‘ کا حوالہ بھی دیتا ہے جو کہ تبلیغی جماعت کے خلاف لکھی گئی ہے، اور جگہ جگہ اُسے بدعت ثابت کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کتاب راقم الحروف کے پاس بھی موجود ہے۔
جواب:۔
دِین کی دعوت وتبلیغ تو اعلیٰ درجے کی عبادت ہے، اور قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی میں جابجا اُس کی تاکید موجود ہے، دِین سیکھنے اور سکھانے کے لئے جماعتِ تبلیغ وقت فارغ کرنے کا جو مطالبہ کرتی ہے، وہ بھی کوئی نئی ایجاد نہیں، بلکہ ہمیشہ سے مسلمان اس کے لئے وقت فارغ کرتے رہے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تبلیغی وفود بھیجنا ثابت ہے۔ رہی سہ روزہ، ایک چلہ، تین چلہ اور سات چلہ کی تخصیص تو یہ خود مقصود نہیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ مسلمان دِین کے لئے وقت فارغ کرنے کے تدریجاً عادی ہوجائیں اور ان کو رفتہ رفتہ دِین سے تعلق اور لگاؤ پیدا ہوجائے، پس جس طرح دِینی مدارس میں ۹ سالہ، سات سالہ (کورس) نصاب تجویز کیا جاتا ہے، اور آج تک کسی کو اس کے بدعت ہونے کا وسوسہ بھی نہیں، اسی طرح تبلیغی اوقات کو بھی بدعت کہنا صحیح نہیں۔
آپ کے ثقہ راوی کی یہ روایت کہ حضرت حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحب مدظلہٗ، حضرت شیخ الاسلام مدنی ؒ اور حضرت مولانا محمد اسعد مدنی مدظلہٗ نے جماعتِ تبلیغی کو ناپسندیدہ قرار دِیا ہے، میرے علم کی حد تک صحیح نہیں۔ اس کے برعکس ان بزرگوں کا تبلیغی اِجتماعات سے خطاب کرنا اور اوقات کا مطالبہ کرنا میرے علم میں ہے۔
حضرت قاضی عبدالسلام صاحب مدظلہٗ کی کتاب میری نظر سے گزری ہے، اس میں نہ تو اس تبلیغی کام کو غلط کہا گیا ہے، نہ خاص اوقات کے مطالبے کو، بلکہ بعض افرادِ جماعت جو غلطیاں کرتے ہیں، اور بعض خام لوگوں کا جو ذہن غلط بن جاتا ہے، اُس کی اِصلاح کی گئی ہے۔ حضرت قاضی صاحب مدظلہٗ کی نگارشات سے مجھے اِتفاق نہیں، اور کتاب کا لب ولہجہ بھی کافی سخت ہے۔ تاہم نفسِ تبلیغ کو وہ بھی غلط نہیں کہتے، اور ہماری گفتگو نفسِ تبلیغ ہی سے متعلق ہے۔ راقم الحروف اپنے عوارض ومشاغل کی وجہ سے تبلیغی جماعت کے نظام میں عملی حصہ نہیں لے سکتا، لیکن پورے شرحِ صدر کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس جماعت کے ظاہر وباطن اور اُصول وفروع کو خوب جانچ پرکھ کر دیکھا ہے، میرے علم میں اس سے بہتر اِسلام کی داعی کوئی جماعت نہیں۔ جو لوگ کسی درجے میں بھی اس جماعت کے کام میں حصہ لے سکتے ہیں، ان کو اس سعادت سے ضرور فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ اور جو کسی وجہ سے اس میں حصہ نہیں لے سکتے، کم از کم درجے میں ان کو اس کام کے حق میں کلمۂ خیر ضرور کہنا چاہئے، مخلص خدامِ دِین کی مخالفت بڑی سنگین بات ہے:
’’مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ!‘‘۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ قال: مَن عادیٰ لی ولیًّا فقد آذنتہ بالحرب! ۔۔۔إلخ۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع ج:۲ ص:۹۶۳)۔

