تبلیغِدِین
کیادرسوتدریس،خطابت،فتویٰکاکامکرنےوالوںکےلئےبھیتبلیغیکامضروریہےوگرنہآخرتمیںپوچھہوگی؟
سوال:۔
تبلیغی جماعت کے کچھ ساتھیوں کا کہنا ہے کہ تمام اُمتِ مسلمہ کی ہدایت واِصلاح صرف اور صرف جماعت کی موجودہ ترتیب پر کام کرنے میں ہے، خواہ عوام الناس ہوں یا علمائے دِین، مدرّس حضرات ہوں یا مفتی صاحبان، ان کو بھی اس ترتیب پر کام کرنا چاہئے، نیز ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک عالم، مفتی، مدرّس جو صرف درس وتدریس، خطابت اور فتویٰ کا کام سرانجام دے رہا ہے، اور ایک عالم جو موجودہ ترتیب (تبلیغی ترتیب) پر بھی کام کر رہا ہے، تو یہ اس عالم، اس مدرّس سے بڑھا ہوا ہے، جو اس ترتیب کو اِختیار نہیں کرتا۔ اور کچھ تبلیغی ساتھی ایسے عالمِ دِین کے درسِ قرآن میں (جو موجودہ ترتیب کو اِختیار نہیں کرتا) شریک نہیں ہوتے ہیں، کیا یہ نقطۂ نظر دُرست ہے؟
سوال:۔
بعض تبلیغی ساتھیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام دُوسری ترتیبوں والوں کو اس ترتیب سے وقت لگانے کے بعد اپنی اپنی ترتیبوں میں کام کرنا چاہئے، کیونکہ یہ اِیمان کی تحریک ہے، اور ایسے علماء حضرات سے جو جماعت کی ترتیب پر کام نہیں کرتے، ان سے تمام ترشعبوں کو اِختیار کرنے کے باوجود اس کام کو نہ کرنے کی پوچھ ہوگی۔ کیا یہ خیال ٹھیک ہے؟
جواب:۔
اہلِ علم جو دِین کی ضروری خدمات میں مشغول ہیں ان کو بھی جب فرصت ملے تبلیغی جماعت کے کام کی نصرت کرنی چاہئے، تبلیغ والوں کا اپنے کام کو اَفضل کہنا ان کے اِعتبار سے صحیح ہے۔ اور عالمِ دِین کے درس میں شرکت نہ کرنا بے وقوفی ہے، اور عالمِ دِین کا جماعت کے کام کی مخالفت کرنا بھی حماقت ہے، نہ اس کو ثواب ملے گا، نہ ان کو۔
جواب:۔
اِن باتوں کو تبلیغ والے حضرات جانتے ہوں گے۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ جو لوگ بھی اِخلاص کے ساتھ دِین کے کسی شعبے میں مشغول ہیں اِن شاء اللہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہوں گے، اور جو دِین کے خدام کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے بارے میں خطرہ ہے، اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، واللہ اعلم!

