تبلیغِدِین
یہکہناکہ:’’دعوتکےبغیرجتنےدِینیکامہورہےہیں،وہقرآنوحدیثکےخلافہیں‘‘
سوال:۔
ایک شخص جو کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہے، کہتا ہے کہ دعوت کے بغیر جتنے بھی دِینی کام ہو رہے ہیں، وہ قرآن وحدیث کے خلاف ہیں، مثلاً شیعیت کے خلاف جو کام ہو رہا ہے، اس سے اُمت کو نقصان ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ ختمِ نبوّت کی تحریک نے اُمت کو کچھ نہیں دیا، صرف حکومتی آئین میں کاغذ کے ٹکڑے پر یہ لکھ دیا کہ قادیانی غیرمسلم ہیں، اس سے اُمتِ مسلمہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ کیا یہ علمائے کرام اور اکابرینِ اُمت کی قربانیوں کی توہین نہیں ہے؟ شریعت میں ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:۔
یہ صاحب اپنے ذہن کے مطابق ٹھیک کہتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ میں یا آپ اس کی رائے سے متفق بھی ہوں۔ اصل مدار حق تعالیٰ شانہ‘ کے یہاں قبولیت پر ہے، جو آدمی خالص اللہ کی رضا کے لئے دِین کا کام کرتا ہے، اِن شاء اللہ وہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہے۔ نتیجہ ہمارے اِختیار میں نہیں، بلکہ اللہ کے اِختیار میں ہے۔ بہت سے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے لوگوں کو دِین کی دعوت دی، مگر ان پر ایک بھی آدمی اِیمان نہیں لایا۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نوسو سال اپنی قوم کو دِینِ حق کی دعوت دیتے رہے، ان پر صرف اَسّی بیاسی آدمی اِیمان لائے۔(۱)
بہرحال مقصود رِضائے اِلٰہی ہے، اللہ تعالیٰ راضی ہوجائیں تو اس کے بعد کسی اور نتیجے کا اِنتظار نہیں۔ شرط یہ ہے کہ کام اللہ کے لئے کیا جائے، اللہ کی رِضا کے لئے کیا جائے اور شریعت کے خلاف نہ ہو۔ قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دِیا جانا، یہ حضراتِ علمائے کرام کا بہت بڑا کارنامہ ہے، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے، واللہ اعلم!
- (۱) ﵟ وَأُوحِيَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤۡمِنَ مِن قَومِكَ إِلَّا مَن قَدۡ ءَامَنَ ﵞﵟ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٞ ﵞ سورة هود ٣٦ و٤٠۔ قال الْإمام ابن کثیر: ﵟ وَمَآ ءَامَنَ مَعَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلٞ ﵞ أی نَزْرٌ یَسِیْرٌ مع طول المدۃ، والمقام بین أظھرھم ألف سنۃ إلّا خمسین عامًا، فعن ابن عباس: کانوا ثمانین نفسًا ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۵۳۵، سورۃ ھود، طبع رشیدیہ)۔

