تبلیغِدِین
تبلیغاورجہاد
سوال:۔
تبلیغ اور جہاد دونوں فرض ہیں، ترجیح کس کو دی جائے گی؟ وضاحت فرمادیں۔
جواب:۔
جہاں صحیح شرائط کے ساتھ جہاد ہو رہا ہو، وہاں جہاد بھی فرضِ کفایہ ہے،(۱) اور دعوت و تبلیغ کا کام اپنی جگہ اہم ترین فرض ہے۔ اگر مسلمانوں کے ایمان کو محفوظ کرلیا جائے تو جہاد بھی صحیح طریقے سے ہوسکے گا، اس لئے عام مسلمانوں کو تو تبلیغ کے کام کا مشورہ دیا جائے گا۔ ہاں! جہاں جہاد بالسیف کی ضرورت ہو، وہاں جہاد ضروری ہوگا۔
- (۱) (ھو فرض کفایۃ) کل ما فرض لغیرہ فھو فرض کفایۃ إذا حصل المقصود بالبعض ۔۔۔ (إبتداء) ۔۔۔ إن قام بہ البعض ولو عبید أو نساء سقط عن الکل وإلّا یقم بہ أحد فی زمن ما أثموا بترکہ أی أثم الکل من المکلفین۔ وفی الشرح: وحاصلہ أن فرض الکفایۃ ما یکفی فیہ إقامۃ البعض عن الکل لأن المقصود حصولہ فی نفسہ من مجموع المکلفین کتغسیل المیت وتکفینہ ورد السلام بخلاف فرض العین۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۱۲۳، مطلب فی الفرق بین فرض العین وفرض الکفایۃ، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

