تبلیغِدِین
امربالمعروفاورنہیعنالمنکرعذابِاِلٰہیروکنےکاذریعہہے
سوال:۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اِ ن شاء اللہ بخیریت ہوں گے۔ ’’بینات‘‘ کی ترسیل جاری ہے، بروقت پرچہ ملنے پر خوشی کا اِظہار کر رہا ہوں۔ خدا کرے ’’بینات‘‘ اُمتِ مسلمہ کی اُمنگوں کا آئینہ دار بن جائے۔ ایک عرض ہے کہ یہ دِینی رسالہ خالص دِینی ہونا چاہئے، کسی پر اِعتراض وتشنیع مجھے پسند نہیں، اس سے نفرت کا جذبہ اُبھرتا ہے۔ صدر ضیاء الحق کے بیانات پر اِعتراضات یقینا عوام میں نفرت پھیلنے کا ذریعہ بنتا ہے، جس سے مملکت کی بنیادیں کھوکھلی پڑجانے کا خطرہ ضرور ہے۔ ویسے بھی ملک اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے، کہیں بھارت آنکھیں دِکھا رہا ہے، تو کہیں کارمل اِنتظامیہ کی شہ پر رُوس کی آواز سنی جاتی ہے، کہیں خمینی کے اِسلامی اِنقلاب کی آمد آمد کی خبریں سننے میں آجاتی ہیں، کہیں ملک کے اندر ہتھوڑا گروپ، کلہاڑا گروپ وغیرہ کی صدائیں سننے میں آرہی ہیں۔ غرض ایسے حالات میں ذرا سی چنگاری بھی پورے پاکستان کا شیرازہ بکھیر سکتی ہے، اس صورت میں پھر یہ ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ اس بارے میں اگر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے تو نوازش ہوگی۔
جواب:۔
آپ کا یہ اِرشاد تو بجا ہے کہ وطنِ عزیز بہت سے اندرونی وبیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے، اور یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ ان حالات میں حکومت سے بے اِعتمادی پیدا کرنا قرینِ عقل ودانش نہیں، لیکن آنجناب کو معلوم ہے کہ ’’بینات‘‘ میں یا راقم الحروف کی کسی اور تحریر میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے کسی سیاسی فیصلے کے بارے میں کبھی لب کشائی اور حرف زنی نہیں کی گئی:
کارِ مملکت خسرواں دانند
لیکن جہاں تک دِینی غلطیوں کا تعلق ہے، اس پر ٹوکنا نہ صرف یہ کہ اہلِ علم کا فرض ہے، (اور مجھے افسوس اور ندامت کے ساتھ اِعتراف ہے کہ ہم یہ فرض ایک فیصد بھی ادا نہیں کر پارہے) بلکہ یہ خود صدرِ محترم کے حق میں خیر کا باعث ہے۔ اس سلسلے میں آپ کو امیرالمؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا واقعہ سناتا ہوں، جو حضرت مولانا محمد یوسف دہلوی قدس سرہٗ نے ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ میں نقل کیا ہے:
’’وَأَخْرَجَ الطَّبَرَانِیُّ وَأَبُو یَعْلٰی عَنْ أَبِی قُبَیْلٍ(۱) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ صَعَدَ الْمِنْبَرَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ عِنْدَ خُطْبَتِہٖ: إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا، وَالْفَیْءُ فَیْئُنَا، فَمَنْ شِئْنَا أَعْطَیْنَاہُ، فَمَنْ شِئْنَا مَنَعْنَاہُ، فَلَمْ یُجِبْہُ أَحَدٌ، فَلَمَّا کَانَ فِی الْجُمُعَۃِ الثَّانِیَۃِ قَالَ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَلَمْ یُجِبْہُ أَحَدٌ، فَلَمَّا کَانَ فِی الْجُمُعَۃِ الثَّالِثَۃِ قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِہٖ، فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ مِمَّنْ حَضَرَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: کَلَّا! إِنَّمَا الْمَالُ مَالُنَا وَالْفَیْءُ فَیْئُنَا، فَمَنْ حَالَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہٗ حَاکَمْنَاہُ إِلَی اللہِ بِأَسْیَافِنَا۔ فَنَزَلَ مُعَاوِیَۃُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَأَرْسَلَ إِلَی الرَّجُلِ فَأَدْخَلَہٗ، فَقَالَ الْقَوْمُ: ہَلَکَ الرَّجُلُ! ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ فَوَجَدُوا الرَّجُلَ مَعَہٗ عَلَی السَّرِیْرِ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ لِلنَّاسِ: إِنَّ ہٰذَا أَحْیَانِی أَحْیَاہُ اللہُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: سَیَکُوْنُ بَعْدِی أُمَرَاءُ یَقُوْلُوْنَ وَلَا یُرَدُّ عَلَیْہِمْ یَتَقَاحَمُوْنَ فِی النَّارِ کَمَا تَتَقَاحَمُ الْقِرَدَۃُ۔ وَإِنْ تَکَلَّمْتُ أَوَّلَ جُمُعَۃٍ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ أَحَدٌ، فَخَشِیْتُ أَنْ أَکُوْنَ مِنْہُمْ۔ ثُمَّ تَکَلَّمْتُ فِی الْجُمُعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ أَحَدٌ، فَقُلْتُ فِی نَفْسِی: إِنِّی مِنَ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَکَلَّمْتُ فِی الْجُمُعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَقَامَ ہٰذَا الرَّجُلُ، فَرَدَّ عَلَیَّ، فَأَحْیَانِی أَحْیَاہُ اللہُ۔‘‘ قال الھیثمی: (ج:۵ ص:۲۳۶) رواہ الطبرانی فی الکبیر والأوسط وأبو یعلٰی ورجالہ ثقات، انتھٰی۔ (حیاۃ الصحابۃ ج:۲ ص:۶۸)
ترجمہ:۔ ’’حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما قمامہ کے دن منبر پر تشریف لے گئے، اور اپنے خطبے میں فرمایا کہ: مال ہمارا ہے، اور فیٔ (غنیمت) ہماری ہے، ہم جسے چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں۔ ان کی یہ بات سن کر کسی نے جواب نہیں دیا۔ دُوسرا جمعہ آیا تو حضرت معاویہؓ نے اپنے خطبے میں پھر یہی بات کہی۔ اب کے بھی انہیں کسی نے نہیں ٹوکا، تیسرا جمعہ آیا تو پھر یہی بات کہی۔ اس پر حاضرینِ مسجد میں سے ایک شخص کھڑا ہوگیا، اور کہا: ہرگز نہیں! یہ مال ہمارا ہے، اور غنیمت ہماری ہے، جو شخص اس کے اور ہمارے درمیان آڑے آئے گا، ہم اپنی تلواروں کے ذریعے اس کا فیصلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کریں گے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ منبر سے اُترے تو اس شخص کو بلا بھیجا، اور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے، لوگوں نے کہا کہ یہ شخص تو مارا گیا، پھر لوگ اندر گئے تو دیکھا کہ وہ شخص حضرت معاویہؓ کے ساتھ تخت پر بیٹھا ہے، حضرت معاویہؓ نے لوگوں سے فرمایا کہ: اس شخص نے مجھے زندہ کردیا، اللہ تعالیٰ اسے زندہ رکھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میرے بعد کچھ حکام ہوں گے جو (خلافِ شریعت) باتیں کریں گے، لیکن کوئی ان کو ٹوکے گا نہیں، یہ لوگ دوزخ میں ایسے گھسیں گے جیسے بندر گھستے ہیں، میں نے پہلے جمعہ کو ایک بات کہی، اس پر مجھے کسی نے نہیں ٹوکا، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میں بھی انہی لوگوں میں سے نہ ہوں۔ پھر میں نے دُوسرے جمعہ کو یہ بات دُہرائی، اس بار بھی کسی نے میری تردید نہیں کی، تو میں نے اپنے جی میں سوچا کہ میں انہی میں سے ہوں، پھر میں نے تیسرے جمعہ یہی بات کہی تو اس شخص نے مجھے ٹوک دیا، پس اس نے مجھے زِندہ کردیا، اللہ تعالیٰ اس کو زِندہ رکھے۔‘‘
اور یہ نہ صرف صدرِ محترم کے حق میں خیر وبرکت کی چیز ہے، بلکہ اُمت کی صلاح وفلاح بھی اسی پر منحصر ہے، چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ اَوْ لَیُوْشِکَنَّ اللہُ اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْہِمْ عَذَابًا مِّنْ عِنْدِہٖ ثُمَّ لَتَدْعُنَّہٗ وَلَا یُسْتَجَابُ لَکُمْ۔‘‘(رواہ الترمذی، مشکٰوۃ ص:۴۳۶)
ترجمہ:۔ ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! تمہیں معروف کا حکم کرنا ہوگا اور بُرائی سے روکنا ہوگا، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل کردے، پھر تم اس سے دُعائیں کرو، اور تمہاری دُعائیں بھی نہ سنی جائیں۔‘‘
اِرشاداتِ نبویہ کی روشنی میں راقم الحروف کا اِحساس یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل عذابِ اِلٰہی کو روکنے کا ذریعہ ہے۔ آج اُمت پر جو طرح طرح کے مصائب ٹوٹ رہے ہیں، اور ہم گوناگوں خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کی ’’اِحتسابی حس‘‘ کمزور، اور ’’نہی عن المنکر‘‘ کی آواز بہت دھیمی ہوگئی ہے، جس دِن یہ آواز بالکل خاموش ہوجائے گی اس دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ ہمیں اس روزِ بد سے محفوظ رکھیں۔
- (۱) کذا فی الأصل (یعنی مجمع الزوائد) والظاھر ’’أبی قبیل‘‘ اسمہ حی بن ھانی المعافری وھو ثقۃ، کذا فی کتاب الجرح والتعدیل لِابن أبی حاتم الرازی۔ (ج:۱ ص:۲۷۵)۔

