تبلیغِدِین
امربالمعروف،نہیعنالمنکرکیشرعیحیثیت
سوال:۔
قرآن مجید میں اور احادیثِ مبارکہ میں بھی ایسی کئی احادیثِ مبارکہ ہیں اور ان آیات اور احادیث کا مفہوم اس طرح بنتا ہے کہ مسلمان کے لئے نہ صرف یہ کہ خود نیک عمل کرے بلکہ دُوسروں کو بھی ان کی تلقین کرے، اسی طرح نہ صرف خود بُرے کاموں سے پرہیز کرے بلکہ دُوسروں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دے۔ اس کام کو نہ کرنے پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں بھی آئی ہیں، سوال یہ ہے کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر فرض ہے، یا فرضِ کفایہ، یا واجب ہے؟ یا کوئی اور شکل یا یہ کہ مختلف صورتوں میں مختلف حکم؟
سوال:۔
آج کل دعوت و تبلیغ کے نام سے مسجدوں میں جو محنت ہو رہی ہے، اور اس سلسلے میں جو اجتماعات ہوتے ہیں، ان میں جڑنا یا شمولیت اختیار کرنا فرض ہے یا اس کی کیا حیثیت ہے؟ اس کے علاوہ یہ کہ میں بہت سے علمائے کرام کی مجالس میں جاتا رہتا ہوں، لیکن انہوں نے کبھی چالیس دن، چار مہینے یا اجتماعات پر زور نہیں دیا بلکہ یہ حضرات اکابرین انفرادی اعمال پر اور زُہد و تقویٰ پر زیادہ زور دیتے ہیں، میری رہنمائی فرمائیں کہ ایک مسلمان کو کس طرح مکمل زندگی گزارنا چاہئے؟
جواب:۔
مسئلہ بہت تفصیل رکھتا ہے، مختصر یہ کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر فرض ہے، دو شرطوں کے ساتھ، ایک یہ کہ یہ شخص مسئلے سے ناواقف ہو، دوم یہ کہ قبول کی توقع غالب ہو، اگر یہ دو شرطیں نہ پائی جائیں تو فرض نہیں، البتہ بشرطِ نفع مستحب ہے اور اگر نفع کے بجائے اندیشہ نقصان کا ہو تو مستحب نہیں۔(۱)
جواب:۔
دعوت و تبلیغ کی جو محنت چل رہی ہے، اس کے دو رُخ ہیں، ایک اپنی اصلاح اور اپنے اندر دِین کی طلب پیدا کرنا، پس جس شخص کو ضروریاتِ دِین سے واقفیت، اپنی اصلاح کی فکر اور بزرگوں سے رابطہ و تعلق ہو، اس کے لئے یہ کافی ہے۔ اور جس شخص کو یہ چیز حاصل نہ ہو، اس کے لئے اس تبلیغ کے کام میں جڑنا بطور بدلیت فرض ہے۔(۲) اور دُوسرا رُخ دُوسروں کی اصلاح کی فکر کرنا ہے، یہ فرضِ کفایہ ہے۔(۳) جو شخص اس کام میں جڑتا ہے، مستحقِ اَجر ہوگا، اور جتنے لوگ اس کی محنت سے اس کام میں لگیں گے، ان سب کا اَجر اس کے نامۂ عمل میں درج ہوگا، اور جو نہیں جڑتا وہ گناہگار تو نہیں، اس اَجرِ خاص سے البتہ محروم ہے، مگر یہ کہ اس سے بھی زیادہ اہم کام میں مشغول ہو۔
- (۱) ان الأمر بالمعروف علٰی وجوہ إن کان یعلم بأکبر رأیہ أنہ لو أمر بالمعروف یقبلون ذالک منہ ویمنعون عن المنکر فالأمر واجب علیہ ولَا یسعہ ترکہ ولو علم بأکبر رأیہ أنہ لو أمرھم بذالک قذفوہ ۔۔۔ ولَا یصبر علٰی ذالک ویقع بینھم عداوۃ ۔۔۔ فترکہ أفضل ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۵ ص:۳۵۲، ۳۵۳)۔
- (۲) واعلم أن تعلم العلم یکون فرض وھو بقدر ما یحتاج لدینہ۔ وفی الشامیۃ: أی العلم الموصل إلی الآخرۃ ۔۔۔ قال العلامی فی فصولہ: من فرائض الْإسلام تعلم ما یحتاج إلیہ العبد فی إقامۃ دینہ وإخلاص عملہ ﷲ وَمعاشرۃ عبادہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۴۲، مقدمۃ الکتاب، مطلب فی فرض الکفایۃ وفرض العین)۔
- (۳) اعلم ان تعلم العلم ۔۔۔ فرض کفایۃ، وھو ما زاد علیہ لنفع غیرہ۔ وفی الشامیۃ: ما زاد علیہ أی علٰی قدر یحتاج لدینہ فی الحال۔ (درمختار مع ردالمحتار ج:۱ ص:۴۲، مطلب فی فرض الکفایۃ وفرض العین)۔

