تبلیغِدِین
کیابُرائیمیںمبتلاانساندُوسرےکونصیحتکرسکتاہے؟نیزکسیکواسکیکوتاہیاںجتاناکیساہے؟
سوال:۔
میں ایک طالبِ علم ہوں، طالب علم ساتھیوں کی محفل میں شراب اور پھر خودکشی کا تذکرہ چل نکلا، میں نے توبہ کرتے ہوئے کہا کہ شراب ’’اُمّ الخبائث‘‘ ہے اور ’’خودکشی‘‘ حرام ہے، اس پر ایک طالبِ علم ساتھی نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ نماز پڑھتے ہیں؟ میں نے شرمندگی کے ساتھ عرض کیا: نہیں! پھر انہوں نے مجھے اِحساس دِلایا کہ آپ داڑھی بھی مونڈتے ہیں؟ میں نے سرِ تسلیم خم کیا، اس پر موصوف فرمانے لگے کہ: ’’جب آپ نماز (فرض ہے) ادا نہیں کرتے جس کے متعلق سب سے پہلے پرسش ہوگی اور داڑھی بھی مونڈتے ہیں تو پھر حرام (شراب اور دیگر معاشرتی بُرائیاں) جن کا درجہ بعد میں آتا ہے، ان کے متعلق کیوں فکرمند ہوتے ہیں؟‘‘ واضح رہے کہ موصوف خود بے نمازی اور کلین شیو ہیں۔ مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرماکر ہم تمام دوستوں کی اُلجھن دُور فرمائیں۔
سوال:۔
کیا کوئی شخص جو خود ان کوتاہیوں اور گناہوں کا مرتکب ہو رہا ہو، کسی دُوسرے شخص کی وہی کوتاہیاں گنوانے اور نصیحت کرنے کا حق رکھتا ہے؟
سوال:۔
کیا بے نمازی شخص کو وہ تمام حرام اور ممانعت اختیار کرلینے چاہئیں جن کا درجہ بعد میں آتا ہے، اور جن سے وہ مکمل طور پر پہلوتہی کرتا ہے؟
سوال:۔
ناصح کا طرزِ عمل اور اندازِ نصیحت دُرست تھا یا غلط؟
جواب:۔
کسی کو اس کی کوتاہیاں اور بُرائیاں جتانا، اس کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ محض طعن و تشنیع کے طور پر بُرائی کا طعنہ دیا جائے، یہ تو حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، قرآنِ کریم میں اس کی مذمت فرمائی ہے۔(۱) اور دُوسری صورت یہ ہے کہ خیرخواہی کے طور پر اس سے یہ کہا جائے کہ یہ بُرائی چھوڑ دینی چاہئے، یہ نصیحت کرنا ہے، جو بہت اچھا عمل ہے، قرآن و حدیث میں بُرائی سے روکنے کا جگہ جگہ حکم آیا ہے۔(۲) رہا یہ کہ جو شخص خود کسی گناہ میں مبتلا ہو، کیا وہ دُوسروں کو اس گناہ سے منع کرسکتا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دُوسرے کو منع کرسکتا ہے، مگر دُوسرے شخص پر نصیحت کا اثر اسی وقت ہوتا ہے جب آدمی خود بھی عمل کرے، ایسا شخص جو خود گناہ میں مبتلا ہو، اگر دُوسرے کو نصیحت کرے تو اس کو یوں کہنا چاہئے کہ: ’’بھائی! میں خود بھی گنہگار ہوں، اس گناہ میں مبتلا ہوں، آپ خود بھی اس گناہ کو چھوڑ دیں اور میرے لئے بھی دُعا کریں کہ میں اس گندگی سے نکل جاؤں۔‘‘
جواب:۔
ایک جرم دُوسرے جرم کے اور ایک گناہ دُوسرے گناہ کے جواز کی وجہ نہیں بن جاتا۔ جو شخص دُوسرے گناہوں سے بچتا ہے مگر نماز نہیں پڑھتا اس کو یہ تو کہا جائے گا کہ: ’’جب ماشاء اللہ آپ دُوسرے گناہوں سے بچتے ہیں تو آپ کو ترکِ نماز کے گناہ سے بھی بچنا چاہئے‘‘ مگر یہ کہنا جائز نہیں کہ: ’’جب آپ ترکِ نماز کے گناہ سے نہیں بچتے تو دُوسرے گناہوں سے کیوں پرہیز کرتے ہیں؟‘‘ بات یہ ہے کہ جو دُوسرے گناہوں سے بچتا ہے، مگر ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو کسی دن اس گناہ سے بچنے کی بھی توفیق عطا فرمادیں گے۔ علاوہ ازیں ہر گناہ ایک مستقل بوجھ ہے، جس کو آدمی اپنے اُوپر لاد رہا ہے، پس اگر کوئی آدمی کسی گناہ میں مبتلا ہے تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ دُنیا بھر کی گندگیوں کو آدمی سمیٹنا شروع کردے۔
جواب:۔
اُوپر کے جوابات سے معلوم ہوگیا ہوگا، ان کا طرزِ عمل قطعاً غلط تھا، اور یہ نصیحت ہی نہیں تھی تو ’’اندازِ نصیحت‘‘ کیا ہوگا۔؟
- (۱) قال تعالٰی:ﵟ وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ ﵞ سورة الهمزة ١۔ﵟ وَلَا تَلۡمِزُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَلَا تَنَابَزُواْ بِٱلۡأَلۡقَٰبِ ﵞ سورة الحجرات ١١۔
- (۲) قال تعالٰی: ﵟ كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنْهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ ﵞ سورة آل عمران ١١٠

