تبلیغِدِین
تبلیغیجماعتسےوالدینکااپنیاولادکومنعکرنا
سوال:۔
تبلیغِ دِین کا سلسلہ جیسا کہ آپ کو مجھ سے بہتر علم ہوگا، اگر ہم تبلیغی کاموں میں حصہ لیں لیکن گھر والے اس کام سے اس لئے منع کریں کہ رشتہ داروں میں ان کی ناک کٹ جائے گی، وہ کسی کو منہ دِکھانے کے قابل نہ رہیں گے کہ ان کا لڑکا ’’تبلیغی‘‘ ہوگیا ہے، ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟ کیا اس مبارک کام کو چھوڑ دینا چاہئے؟
جواب:۔
تبلیغ کا کام ہرگز نہ چھوڑئیے، لیکن والدین کی بے ادبی بھی نہ کی جائے،(۱) بلکہ نہایت صبر و تحمل سے ان کی کڑوی باتوں کو برداشت کیا جائے۔ یہ لوگ بیچارے دُنیا کی عزّت و منصب کی قدر جانتے ہیں، دِین کی قدر و قیمت نہیں جانتے۔ ضرورت ہے کہ ان کو کسی تدبیر سے یہ سمجھایا جائے کہ دِین کی پابندی عزّت کی چیز ہے اور بے دِینی ذِلت کی چیز ہے۔
- (۱) ﵟ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا ﵞﵟ وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا ﵞ سورة الإسراء ٢٣ و ٢٤۔

