بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تبلیغِ‌دِین

ماں‌باپ‌کی‌اجازت‌کے‌بغیر‌تبلیغ‌میں‌جانا

سوال:۔

اگر مکی مسجد گارڈن کراچی جائیں تو لوگ ’’وہابی‘‘ کہتے ہیں، اور دُوسری طرف جانے سے ’’بریلوی‘‘ اور ’’بدعتی‘‘ ہونے کا خطاب ملتا ہے۔ میرے ناقص مشاہدے میں یہ بیچارے تبلیغی جماعت والے صحیح ہیں، اور میں ہر جمعرات کو جاتا ہوں، مگر یہ میری ناقص فہم میں نہیں آتا کہ ماں باپ بوڑھوں کی بھی رضامندی اور ان کی بھی خدمت فرض ہے، میرا مطلب ہے، جب وقت ہے تو جاؤ، بہت سے تو ماں اگر بیمار ہے تو بھی چلے جاتے ہیں، میں نے دو مرتبہ تین تین دن لگائے ہیں۔ آپ براہِ کرم بتلائیے کہ ان کی اجازت کے بغیر ہم جماعت میں جاسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب:۔

تبلیغی جماعت کے بارے میں آپ نے صحیح لکھا ہے کہ یہ اچھے لوگ ہیں، ان کی نقل و حرکت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں انسانوں کی زندگیاں بدل دی ہیں، اس لئے ان لوگوں کے ساتھ جتنا وقت گزرے سعادت ہے۔

رہا یہ کہ والدین کی اجازت کے بغیر جانا جائز ہے یا نہیں؟ تو اس میں تفصیل ہے۔ اگر والدین خدمت کے محتاج ہوں اور کوئی دُوسرا خدمت کرنے والا بھی نہ ہو، تب تو ان کو چھوڑ کر ہرگز نہ جانا چاہئے۔(۱) اور اگر ان کو خدمت کی ضرورت نہیں، محض اس وجہ سے روکتے ہیں کہ ان کے دِل میں دِین کی عظمت نہیں، ورنہ اگر یہی لڑکا دُوسرے شہر بلکہ غیرملک میں ملازمت کے لئے جانا چاہے تو والدین بڑی خوشی سے اس کو بھیج دیں گے، کیونکہ دُنیا کی قیمت انہیں معلوم ہے، دِین کی معلوم نہیں، تو ایسی حالت میں تبلیغ میں جانے کے لئے والدین کی رضامندی کوئی شرط نہیں، کیونکہ تبلیغ میں نکلنا درحقیقت ایمان سیکھنے کے لئے ہے، اور اِیمان کا سیکھنا اہم ترین فرض ہے۔(۲)

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا ﵞﵟ وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ ﵞ سورة الإسراء ٢٣ و ٢٤۔ أیضًا: یفرض علٰی صبی وبالغ لہ أبوان أو أحدھما لأن طاعتھما فرض عین۔ وفی الشامیۃ: قولہ وبالغ لہ أبوان مفادہ انھما لَا یأثمان فی منعہ وإلّا لکان لہ الخروج ۔۔۔ مع انھما فی سعۃ من منعہ إذا کان یدخلھما من ذالک مشقۃ شدیدۃ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۴ ص:۱۲۴، مطلب طاعۃ الوالدین فرض عین، طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۲) طلب العلم والفقہ إذا صحت النیۃ أفضل أعمال البر وکذا الْإشتغال بزیادۃ العلم إذا صحت النیۃ لأنہ أعم نفعًا لٰـکن بشرط ان لَا یدخل النقصان فی فرائضہ۔ (فتاویٰ بزازیۃ علٰی ھامش الھندیۃ ج:۶ ص:۳۷۸، الفصل السادس والعشرون فی الأوقاف، فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۴۰۷، فصل فی البیع)۔