بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تبلیغِ‌دِین

گھر‌بتائے‌بغیر‌تبلیغ‌پر‌چلے‌جانا‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

بعض لوگ اپنا شہر یا اپنا ملک چھوڑ کر، اپنے اہل و عیال کو یہ بتائے بغیر کہ وہ کہاں جارہے ہیں؟ اور کتنے دن کے لئے جارہے ہیں؟ چپ چاپ نکل جاتے ہیں، اور کسی مقام پر پہنچ کر اپنے گھر والوں کو بذریعہ خط وغیرہ بھی کوئی اطلاع نہیں دیتے، بلکہ اس اجنبی شہر یا ملک کے مسلمانوں کا کلمہ دُرست کرانے اور نماز کی تلقین کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اکثر ان کے اہلِ خانہ کو اس عمل سے پریشانی ہوتی ہے اور خرچ وغیرہ نہ ملنے کی وجہ سے شکایت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ لوگ اس طرح ۵،۵ یا ۶،۶ ماہ بلکہ ایک ایک سال باہر گزارتے ہیں، اس کو وہ ’’چلّہ‘‘ دینا کہتے ہیں، نیز خود بھی سمجھتے ہیں اور دُوسرے لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ جو جتنا لمبا چلّہ دیتا ہے وہ اتنا ہی کامل مسلمان بن جاتا ہے۔ یہ عمل کہاں تک دُرست ہے؟ اور کتاب و سنت کے مطابق ہے؟ کیا صحابہ کرامؓ نے بھی ایسے چلّے دئیے ہیں؟ عربی میں چلّے کو کیا کہا جائے گا؟ کیونکہ اُردو میں تو چلّہ صرف چالیس دن کا ہوتا ہے، وہ بھی پیر، فقیر اور رُوحانی عامل کسی وظیفہ وغیرہ پڑھنے کی مدّت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

جواب:۔

ایسا بے وقوف تو شاید ہی دُنیا میں کوئی ہو جو سال چھ مہینے کے لئے ملک سے باہر چلا جائے، نہ گھر والوں کو بتائے، نہ وہاں جاکر اِطلاع دے، نہ ان کے نان و نفقہ کا سوچے، ایسی فرضی صورتوں پر تو اَحکام جاری نہیں کئے جاتے۔ جہاں تک دِین کے سیکھنے سکھانے کا عمل ہے، یہ مسلمانوں کے ذمے فرض ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بزرگانِ دِین بھی ہماری طرح گھروں میں بیٹھے رہتے تو شاید ہم بھی مسلمان نہ ہوتے، نہ آپ کو سوال کی ضرورت ہوتی، نہ کسی کو جواب دینے کی۔ جوان بیبیوں کو چھوڑ کر جو لوگ چند ٹکے کمانے کے لئے سعودیہ، دُبئی، امریکہ چلے جاتے ہیں اور کئی کئی سال تک نہیں لوٹتے، ان کے بارے میں آپ نے کبھی مسئلہ نہیں پوچھا! جو لوگ دِین سیکھنے کے لئے مہینے دو مہینے، چار مہینے کے لئے جاتے ہیں، ان کے بارے میں آپ کو مسئلہ پوچھنے کا خیال آیا۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ گھر کے لوگوں کے نان و نفقہ کا انتظام کرکے آپ بھی چار مہینے کے لئے تو ضرور تشریف لے جائیں، اس کے بعد آپ مجھے لکھیں، کیونکہ اس وقت آپ جو کچھ تحریر فرمائیں گے، وہ علیٰ وجہ البصیرت ہوگا۔