تبلیغِدِین
لوگوںکوخیرکیطرفبلاناقابلِقدرہےلیکناندازتندنہہوناچاہئے
سوال:۔
جناب! میں بذاتِ خود نماز پڑھتا ہوں اور دُوسروں کو نماز پڑھنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ لیکن ہمارے ایک صوفی صاحب ہیں، انہوں نے مجھے منع فرماتے ہوئے کہا کہ: ’’جناب! آپ کسی کو نماز کے لئے زیادہ سخت الفاظ میں نہ کہا کریں، کیونکہ آپ کے بار بار کہنے کے باوجود دُوسرا آدمی نماز پڑھنے سے انکار کرے تو اس طرح انکار کرنے سے آپ گنہگار ہوتے ہیں۔‘‘ لیکن جناب! میرا مشن تو یہ ہے بھی اور تھا بھی کہ اگر میں کسی کو بار بار کہتا ہوں اور اگر آج وہ انکار کرتا ہے تو کوئی بات نہیں، شاید کل اس کے دِماغ میں میری بات بیٹھ جائے اور وہ نماز شروع کردے۔ میں تو یہاں تک سوچتا ہوں کہ چلو آج نہیں تو میرے مرنے کے بعد میری آوازیں ان کے کانوں میں گونجنے لگیں اور شاید پھر یہ نماز شروع کردیں۔ اس سلسلے میں آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ اُمید ہے آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں میری پریشانی دُور فرمائیں گے۔
جواب:۔
آپ کا جذبۂ تبلیغ قابلِ قدر ہے، بھولے ہوئے بھائیوں کو خیر کی طرف لانے اور بلانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے، لیکن اندازِ گفتگو خیرخواہانہ ہونا چاہئے، سخت اور تند نہیں، تاکہ آپ کے اندازِ گفتگو سے لوگوں میں نماز سے نفرت پیدا نہ ہو۔(۱)
- (۱) ﵟ ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ ﵞ سورة النحل ١٢٥

