تبلیغِدِین
کیاتبلیغکےلئےپہلےمدرسہکیتعلیمضروریہے؟
سوال:۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ: ’’یہ تبلیغ عالموں کا کام ہے، اس میں جو لوگ کچھ نہیں جانتے، ان کو چاہئے کہ وہ پہلے مدرسہ میں جاکر دِین کا کام سیکھ لیں، بعد میں یہ کام کریں، ورنہ ان کی تبلیغ حرام ہے۔‘‘ کیا یہ صحیح ہے؟
جواب:۔
غلط ہے، جتنی بات مسلمان کو آتی ہو، اس کی تبلیغ کرسکتا ہے۔(۱) اور تبلیغ میں نکلنے کا مقصد سب سے پہلے خود سیکھنا ہے، اس لئے تبلیغ کے عمل کو بھی چلتا پھرتا مدرسہ سمجھنا چاہئے۔
- (۱) عن عبداللہ بن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: بلّغوا عنّی ولو آیۃ ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۳۲، کتاب العلم، طبع قدیمی کتب خانہ)۔

