تبلیغِدِین
خاوندبیرونِملکہوتوکیابیٹےکےساتھتبلیغمیںشوہرکیاِجازتکےبغیرجائزہے؟
سوال:۔
ہم دِین کی تبلیغ کرتے ہیں، ہمارے مرد تبلیغ کے لئے جاتے ہیں، سفر بھی کرتے ہیں، لیکن عورتوں کے اسفار میں اپنے گھر کی عورتوں کو جانے کی اِجازت نہیں دیتے۔ یوں ہفتہ وار درس میں ہم لوگ جاتے ہیں، وہاں ہم سے مطالبہ ہوتا ہے کہ تبلیغ کے لئے سفر کریں۔ اس وقت میں بیٹے کے ساتھ رہ رہی ہوں، خاوند پردیس میں (ملازمت کے سلسلے میں) ہے، بیٹا بطورِ محرَم ساتھ جانے کو تیار ہے، مگر خاوند کی اِجازت نہیں ہوتی، بلکہ معلوم ہے کہ نہیں ملے گی، اس لئے کہتی نہیں ہوں۔ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے؟ یہاں بعض دِین دار لوگ عورتوں کے ان اسفار میں قافلہ بناکر نکلنے کو اچھا نہیں جانتے اور اس کی دلیل میں: ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ ﵞکی دلیل لاتے ہیں، اور اپنی عورتوں کو درس میں جانے دیتے ہیں، مگر سفر کے لئے باہر نہیں جانے دیتے۔ ان کا یہ فعل دِینی نقطۂ نظر سے کیسا ہے؟ نیز خاوند کی اِجازت کے بغیر بیٹے کے ساتھ اگر کوئی عورت چلی جائے تو نیکی کے بجائے گناہ تو نہ ہوگا؟ کیونکہ بعض کا کہنا ہے کہ دِین کے کاموں میں خاوند کو روکنا نہ چاہئے۔
جواب:۔
دِین سیکھنے کے لئے اپنے بیٹے کے ساتھ تبلیغی کام میں ضرور حصہ لیں۔ شوہر کی طرف سے صریح اِجازت کی ضرورت نہیں۔ آخر اگر آپ بیمار ہوجائیں (خدانخواستہ) اور تین دن کے لئے اسپتال جانا، ناگزیر ہوجائے تو کیا شوہر کی طرف سے اس کی اِجازت نہیں ہوگی؟ یہی حالت تبلیغ کی سمجھ لیں۔
۲:۔ جو دِین دار حضرات عورتوں کو تبلیغ کے لئے جانے نہیں دیتے ان کا طرزِ عمل صحیح نہیں، اورﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ ﵞسے ان کا اِستدلال غلط ہے، کیونکہ طبعی یا شرعی ضرورتوں کے لئے باپردہ نکلنا اس آیت کے خلاف نہیں۔ آخر دُوسری ضرورتوں کے لئے ان کی عورتیں بھی سفر کرتی ہوں گی۔ اس وقت یہ آیت کسی کے ذہن میں بھی نہیں آتی۔ علاوہ ازیں دعوت وتبلیغ کے لئے (ان شرائط کے ساتھ جو خواتین کے لئے مقرّر ہیں) نکلنا تو اس آیت شریفہ کی تعلیم ودعوت کے لئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین جن کا عمل اس آیت کے خلاف تھا، وہ اس راستے پر نکلیں تو ان کی زندگی میں اِنقلاب پیدا ہوگیا، اور وہ پردۂ شرعی کی پابندی کرنے لگیں۔
الغرض دعوت کے راستے میں عورتوں کو مقرّرہ شرائط کے ساتھ ضرور جانا چاہئے۔

